عدم اعتماد کا ڈول

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے ٹویٹر سے حیران ہوئے ہمارے میڈیا نے اسے خاطر خواہ وقعت نہیں دی۔ ویسے بھی کئی برسوں سے ہم تو صرف یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ بالآخر تختِ لاہور کس کے قبضے میں آئے گا۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد امید دلائی گئی تھی کہ ”گاڈ فادر II“ کو حدیبیہ کی وجہ سے فارغ کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ وہ فارغ ہوئے تو گلیاں سنجیاں ہوجائیں گی جن میں ”عمران یار“ صاحباں کے مرزا کی طرح شیخ رشید کو ساتھ لئے فاتحانہ انداز میں گھوم رہا ہوگا۔ پنجاب ”فتح“ کرلینے کے بعد پاکستان کی وزارت عظمیٰ ہاتھ بڑھا کر بآسانی اچک لی جاسکتی ہے۔

حدیبیہ والی کہانی مگر چل نہ پائی۔ اس کی ناکامی نے شہباز شریف کو بلکہ حوصلہ دیا کہ اپنے بھائی کو بہت ہوشیاری سے چلائی میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے یہ کہنے پر مجبور کردیں کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ (نون) صرف انہی کو وزارتِ عظمیٰ کے لئے نامزد کرے گی۔ یہ ”نامزدگی“ ہو گئی تو شہباز صاحب کے لئے سعودی عرب سے ایک سرکاری طیارہ آیا۔ وہ ”عبادت“ کے لئے وہاں تشریف لے گئے۔ ”عبادت“ کے ساتھ ہی ساتھ کہانیاں یہ بھی چلیں کہ نواز شریف کو طلب کرکے سعودی شاہی خاندان نے ”میاں صاحب جان دیو-شہباز دی واری آن دیو“ کے لئے تیار کرنا شروع کردیا ہے۔
ان ساری کہانیوں کو دیکھتے ہوئے مجھے مغلیہ خاندان کے زوال کے ایام یاد آنا شروع ہوگئے۔ شاہ جہان کی اقتدار سے معزولی کے بعد اس کے وارثوں میں تخت کے حصول کے لئے جھگڑے، دارہ شکوہ اور اورنگزیب کے مابین ہوئی حتمی جنگ-اورنگزیب نے اس جنگ کو جیت لیا تھا۔ اس کے بعد مگر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ احتیاطاً یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ دارہ شکوہ اور اورنگزیب کے درمیان جھگڑے کا ذکر آئے تو کم از کم دومغل شہزادیوں کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔
وزارتِ عظمیٰ سے معزولی کے بعد نواز شریف صاحب اسلام آباد سے اپنے گھرلوٹنے کے لئے جی ٹی روڈ کے ذریعے روانہ ہوئے تو محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ نے اپنے ٹویٹر پیغامات کے ذریعے بہت کچھ کہا۔NA-120 کے ضمنی انتخاب کو لیکن مریم نواز شریف نے تقریباً تن تنہا بڑی جانفشانی سے جیت کر حساب برابر کردیا۔ کوئی پسند کرے یا نہیں اس انتخاب کے بعد سے نواز شریف کی طویل المدتی ”جانشینی“ مریم صاحبہ کے ہاتھ آچکی ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے محض اقتدارکے لئے کھیل والی ”لڈو“ ہے۔ سانپ اور سیڑھی والی ”لڈو“۔
مغل دور کے شاہزادے اور شہزادیاں جب اپنے زمانے میں ایسی ”لڈو“ کھیلنے میں مصروف تھے توانگریزی تاجر مدراس سے بنگال پہنچ چکے تھے۔ اودھ کی ریاست ایک سلطنت کی صورت اختیار کرچکی تھی اور اپنی آن برقرار رکھنے کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو زمینیں ”لیز“ کی صورت دے رہی تھی۔ دلّی میں بیٹھی اشرافیہ مگر ”صوبہ جات“ میں ہوئی تبدیلیوں سے قطعاً نابلد تھی۔ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“کے نشے میں مبتلا۔
بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ معدنیات کی دولت سے مالامال۔ اس کی ساحلی پٹی 770 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی پٹی پر گوادر بھی ہے۔ اس کی بندرگاہ کو اب چین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ کن شرائط پر؟ اس کی بابت ہمیں خبر نہیں۔ بس یہی سوچ کر اترائے چلے جارہے ہیں کہ وہاں سے کاشغر تک ایک طویل شاہراہ بنائی جانی ہے۔ اقبال نے نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر ایک شاہراہ کا خواب دیکھا تھا۔ ہم کاشغر کو کم از کم گوادر سے ملاکر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں کہ جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا۔
بلوچستان مگر افغانستان اور ایران کا ہمسایہ بھی ہے اور افغانستان میں امریکی افواج موجود ہیں۔ انہیں اس ملک میں آئندہ کئی برسوں تک مقیم رہنا ہے۔ اس صوبے کی ساحلی پٹی کے شمال کی طرف چلیں تو کوئٹہ آتا ہے۔ اس کے بعد چمن اور پھرقندھار۔ پشتون ثقافت واقتدار کے اس مرکز ہی سے احمد شاہ ابدالی اٹھا تھا جس نے ”خراسان“ کو افغانستان میں تبدیل کیا تھا۔ اسی قندھار سے دور جدید میں نمودار ہوئے تھے ملاعمر اور طالبان۔ ان سے نجات حاصل کرنے کے لئے قندھار ہی کے تاریخی پوپلزئی خاندان سے ایک صاحب نکالے گئے حامد کرزئی۔ امریکی میرین کے ایک بریگیڈئر Mattis نائن الیون کے بعد بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں آبدوز کے ذریعے پہنچا اور کرزئی کو کابل کا بادشاہ بنادیا۔ ان دنوں جنرل میٹس امریکہ کا وزیر دفاع ہے۔ ٹرمپ اس کے ذریعے افغانستان کا مسئلہ ہر صورت ”حل“ کرنا چاہتا ہے۔ اپنے اہداف کے حصول کے لئے ٹرمپ اور میٹس اکثر کسی ”کوئٹہ شوریٰ“ کا تذکرہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ اپنی صدارت کے آخری دنوں میں اوبامہ نے بلوچستان ہی کے ایک مقام نوشکی کے ذریعے ایران سے افغانستان جاتے ہوئے طالبان کے امیر ملامنصور کو ڈرون طیارے کے ذریعے ہلاک کیا تھا۔
قصہ مختصر، بلوچستان کا ذکر آئے تو چین ہی نہیں امریکہ کو بھی اس کی اہمیت کا بھرپور احساس ہے۔ ”گل“ کی طرح بے خبر ہے تو فقط ہمارا میڈیا جسے ان دنوں شریف خاندان اور اس کے مخالفین نے اقتدار کی ”لڈو“ میں الجھا رکھا ہے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے خلاف آئی تحریک عدم اعتماد کو لہٰذا کماحقہ توجہ نہیں ملی۔ اصل کہانی جو مجھے بتائی گئی وہ محض اتنی ہے کہ نئے انتخابات کی آمد آمد ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں بیٹھے ایم پی ایز کی اکثریت کو شکوہ ہے کہ وزیراعلیٰ انہیں ترقیاتی کاموں کے لئے رقوم فراہم نہیں کر رہے۔ فی رکن 40سے 50 کروڑ طلب کئے جا رہے ہیں تاکہ ایم پی ایز کے دوبارہ اسمبلی میں لوٹنے کو یقینی بنایا جا سکے۔ زہری تیار ہوگئے تو بچ جائیں گے۔ ورنہ قرعہ فال سرفراز بگتی کے نام نکل آئے گا۔ اکبر بگتی سے اس بگتی کا براہِ راست کوئی رشتہ نہیں۔ ”بگتی“ کے لاحقے والا کوئی شخص مگر بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ پر بیٹھ گیا تو اسلام آباد اور لاہور میں بیٹھے ہم صحافیوں کو یہ کہانی پھیلانے میں آسانی ہوجائے گی کہ بلوچستان کے ”زخم مندمل“ ہوگئے ہیں۔ وہاں پاکستان کے لئے ”محبت کا زم زم“ بہہ رہا ہے۔
تلخ حقیقت مگر یہ ہے کہ بلوچستان ہمارے بہت ہی آزاد اور بے باک ہونے کے دعوے دار میڈیا کے ریڈار پر موجود ہی نہیں۔ اس کے بنیادی حقائق کی بابت ہم قطعاً بے خبر ہیں۔ وہاں کی ”پسماندگی“ اور ”سرداری نظام“ کے بارے میں کبھی کبھار اگرچہ دُکھ کا اظہار کر دیتے ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے ان دنوں واشنگٹن میں جو کھچڑی پک رہی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے بلوچستان پر گہری نظر رکھناہوگی۔ معاملہ زہری یا بگتی میں سے کسی ایک کو وزیراعلیٰ بنانے تک محدود نہیں۔ اصل قصہ بلوچستان کا ساحل اور وسائل ہیں۔ ان پر قبضہ کی جنگ ہے اور یہ جنگ اب مقامی نہیں رہی۔ امریکہ اور عوامی جمہوریہ چین بھی اس کے اہم ترین Stakeholders بن چکے ہیں۔ کاش ہم اقتدار کی بچگانہ ”لڈو“ پر نگاہ رکھنے کے بجائے بلوچستان کے ساحل و وسائل سے جڑی Great Game پر توجہ دینے کا وقت نکال سکیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین