جمہوری معاشروں میں

چند دوستوں کا گلہ ہے کہ میں نے اصغر خان صاحب کی وفات کے بعد ان کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ شکایت مناسب مگر ان سے تفصیلی ملاقات کا ایک بھی موقعہ نہیں ملا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف ابھری تحریک کے وہ نمایاں ترین رہ نماﺅں میں سے ایک تھے۔ ان کی جماعت کئی حوالوں سے جدید سوچ رکھنے والے شہری متوسط طبقات کی نمائندہ تھی۔ نواز شریف ایسے افراد بھی اس میں شامل ہوئے جن کے کاروبار کو بھٹو صاحب نے سوشلزم کے نام پر قومیالیا تھا اور میکیاولی نے کہا ہے کہ لوگ اپنے عزیزوں کا کسی حکمران کے ہاتھوں مارا جانا تو برداشت کرلیتے ہیں لیکن اگر ان کی جائیداد وغیرہ ہتھیا لی جائے تو فراموش نہیں کرتے۔ تاثر مجھے یہ ملا کہ خاں صاحب کی جماعت ان لوگوں کو منظم کر رہی ہے جنہیں بنیادی طورپر بھٹو صاحب کے متعارف کردہ ”سوشلزم“ سے شکایات ہیں۔ ان کا اپنا کوئی پروگرام نہیں۔

ذاتی اعتبار سے خان صاحب یقینا ایک دیانت دار فرد تھے۔ اہم ترین عہدوں پر فائز رہے۔ اپنے اختیارات کو لیکن اپنے یا خاندان کے لئے ناجائز دولت استعمال کرنے کے لئے ہرگز استعمال نہیں کیا۔ ان کی دیانت اور عسکری بیک گراﺅنڈ نے لیکن انہیں شدت سے یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا کہ وہ اس ملک میں موجود تمام سیاست دانوں کے مقابلے میں ہر حوالے سے بالاتر ہیں۔ ایسی سوچ خود پرستی کی طرف لے جاتی ہے اور سیاست انا کو مارنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ پارسائی کا ڈھونگ رچاتے ہمارے معاشرے میں لچک کو لیکن موقعہ پرستی شمار کیا جاتا ہے۔ اصول پسندی کی شکست۔ ثابت قدمی کی نفی وغیرہ۔
ٹھنڈے انداز میں سوچیں تو ٹھوس حوالوں سے اصغر خان مرحوم ”اصولوں کی بنیاد پر“ ثابت قدمی بھی نہیں دکھا پائے۔ یہ بات برحق کہ بھٹو صاحب کا ”سوشلزم“ اکثراوقات Populismکی قوت سے فسطائی ہتھکنڈے اختیارکرتا نظر آتا تھا۔ اصغر خان ا ور ان کی تحریک استقلال کو ہرگز یہ اجازت نہ ملی کہ وہ جمہوری معاشروں میں معمول تصور کئے جانے والے طریقوں کے ذریعے عوام سے روابط بڑھا کر اپنا پیغام پھیلا سکیں۔ ان کی جانب سے مختلف شہروں میں ہوئے جلسوں کو انتظامیہ کے بجائے ”پیپلز پارٹی کے کارکنوں“ کی جانب سے روکنے کے ڈرامے رچائے جاتے۔ اس تناظر میں اصغر خان اور ان کی تحریکِ استقلال اس ملک میں ”اصل جمہوریت“ کی خواہاں نظر آئی۔
جدید ذہن والی شہری سوچ کی نمائندہ تحریکِ استقلال لیکن بالآخر ہر صورت بھٹو سے نجات حاصل کرنے کی ضد میں مبتلا ہوگئی۔ اس ضد کی بنا پر 1977 کا انتخاب لڑنے کے لئے اس نے نو جماعتوں کے اسلامی جمہوری اتحاد میں شرکت کی۔ اس اتحاد میں دائیں اور بائیں بازو کی تفریق ختم ہوگئی۔ اپوزیشن پر کڑا وقت آیا تو 1977 کے انتخابات میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف چلی تحریک مذہبی جماعتوں کے شدت پسند کارکنوں کی محتاج ہوگئی۔ ”جمہوریت“ مانگنے کے بجائے مطالبہ ”نظامِ مصطفےٰﷺ“ کے نفاذ کا ہونے لگا۔ اصغرخان مرحوم جیسے رہ نما اس Qualitative تبدیلی کو سمجھ نہ پائے۔ اس کے دور رس اثرات کا انداز نہ لگاسکے۔
مذہبی شدت پسندی کو بروقت روکنے کے لئے ضروری تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت سے کوئی باوقار سمجھوتے کے بعد نئے انتخابات کی صورت نکالی جاتی۔ اصغر خان جیسے رہ نما مگر صرف بھٹو سے نجات حاصل کرنے پر ڈٹ گئے۔ اس ضمن میں بلوچ اور پشتون قوم پرستوں نے اپنی مخصوص اورکئی حوالوں سے جائز شکایات کی بناءپر ان کا ساتھ دیا۔ سیاست دان معاملات کو اپنے تئیں حل نہ کر پائے تو ضیاءالحق کے مارشل لاءکی راہ ہموار ہوگئی۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔
جنرل ضیاءکے مارشل لاءکا نفاذ ہوا تو میں کل وقتی رپورٹنگ میں نووارد تھا۔ مناسب تجربہ نہ ہونے کے باوجود جبلی طورپر لیکن سمجھ آگئی کہ جنرل ضیاء”جمہوریت“ کے نفاذ کے لئے نہیں ”نظام مصطفےٰﷺ“ متعارف کروانے نمودار ہوئے ہیں۔انہیں ایک ”مشن“ مل گیا ہے۔ اس کی تکمیل تک موصوف اقتدار نہیں چھوڑیں گے۔ اصغر خان اور ان کی جماعت مگر اس گماں میں مبتلا رہی کہ ضیاءکا مارشل لاءعارضی ہے۔ نئے انتخابات ہر صورت کروانا پڑیں گے اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی منظر عامہ سے رخصت کے بعد ایئرمارشل اصغرخان ہی وہ رہ نما نظر آرہے تھے جو وزارتِ عظمیٰ کے ہر حوالے سے اہل سمجھے جارہے تھے۔
کائیاں ضیاء الحق نے اس خوش گمانی کو بہت مہارت سے استعمال کیا۔ 1978 تک امریکہ نے شہنشاہ ایران کو ہمارے خطے کا ”علاقائی تھانے دار“ بنارکھا تھا۔یہ تصور کیا جاتا تھا کہ اس کی ”منظوری“ کے بغیر پاکستان میں کوئی حکومت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔اقتدار سنبھالتے ہی جنرل ضیاءنے لہذا یہ بندوبست کیا کہ تحریک استقلال کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ایران جائے اور Government in Writing کی طرح شاہ ایران سے معاملات طے کرے۔
دریں اثناء افغانستان میں ”کمیونسٹ انقلاب“ برپا ہوگیا۔ اس کے توڑ کا تصور پھیلاتی ایران میں ”اسلامی انقلاب“ کی تحریک بھڑک اُٹھی۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کو پاکستان میں ”استحکام“ کی فکر لاحق ہوگئی۔ جنرل ضیاء نے اس فکر کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھٹو کو پھانسی دی اور دسمبر 1979میں افغانستان میں سوویت یونین کے درآنے کے بعد کمیونزم کے خلاف ”جہاد“ میں مصروف ہوگئے۔ پاکستان کے سیاست دان اس ماحول میں یکسر بے وقعت نظر آئے۔ اصغر خان صاحب کو پانچ سال کے لئے ان کے ایبٹ آباد والے گھر میں نظر بند کردیا گیا۔
ہمارے سیاست دانوں کے پاس Gameمیں واپس آنے کا سنہری موقعہ بالآخر 1985 میں آیا جب جنرل ضیاء انتخابات کروانے پر مجبور ہوئے۔ وہ انتخابات کو لیکن ”غیر جماعتی بنیادوں“ پر کروانا چاہ رہے تھے۔ سیاست کے لئے کلیدمانی لچک کا تقاضہ تھا کہ ایم آر ڈی میں شامل ضیاءمخالف سیاست دان ”احتجاجاََ“ ان انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرتے۔ ”اصول پسندی“ مگر ان کے آڑے آگئی۔انہوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد ہمارے ہاں جو سیاست چلی اس نے سیاسی جماعتوں کے بجائے Electables کو اہم بنادیا۔ ہم آج بھی ”حلقوں“ میں موثر گردانے Electables سے نجات حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ ”نظریاتی“ سیاست کا ان کی وجہ سے خاتمہ ہوچکا ہے۔ فقط قد آور رہ نما ہیں اور ان کے Fans۔اندھی نفرت اورعقیدت میں مبتلا Fans جو اپنی سرشت میں ہرگز سیاسی نہیں۔
اصغر خان صاحب کی سیاست کا بغور مطالعہ آپ کو یہ طے کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ سیاست میں محض ذاتی دیانت اور ”اصول پسندی“ ہی کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ خارجی اور داخلی عوامل کی بدولت بنے ماحول میں اپنے امکانات ڈھونڈ کر پلٹ کر جھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا پڑتا ہے۔ ضد اس کھیل میں کام نہیں آتی۔ذاتی دیانت والی ساکھ کو خود پسندی میں بدلنے سے روکنا ہوتا ہے اور چند سمجھوتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں کئے بغیر اقتدار کا حصول ناممکن ہے۔
اصغر خان مرحوم ذاتی طورپر یقینا ایک دیانت دار اور باوقار انسان تھے مگر سیاست….

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے