پریس کلب الیکشن میں دھاندلی

سبوخ سید

تمام صحافی دوستوں کا شکریہ جنہوں نے آزاد پینل کو سپورٹ کیا اور ہماری توقع سے بھی بڑھ کر پزیرائی کی ۔ میں ذاتی طور اپنے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں نے جنہوں نے ہمارے پینل اور میرے لیے مہم چلائی ۔

میں کچھ مصروفیات کے باعث اس مہم میں بھرپور شرکت نہیں کر سکا تاہم جس نے ووٹ کی پرچی پر میرا نام دیکھا اور ووٹ کیا ، میں اپنے ان تمام دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔یہ وہ تمام اصلی صحافی تھے جنہوں نے اپنا ووٹ دیکر صحافت کے نا تھے پر لگے داغوں کو دھونے کی مہم میں اپنا حصہ ڈالا ۔

جو سمجھتے تھے کہ وہ بھاری اکثریت سے جیتیں گے انہیں رات کے اندھیرے میں دس دس ووٹوں کے لیے دھاندلی کرنی پڑی ۔ ناصر زیدی آج کے بعد “دھاندلی ماسٹر “ کے نام سے لکھے ،پڑھے ،پکارے اور یاد کیے جائیں گے ۔ صحافی دوستوں سے گذارش ہے کہ وہ انہیں “ دھاندلی ماسٹر “ ہی لکھیں ۔

ہمارا قافلہ رکے گا نہیں ۔ مطیع اللہ جان، شہریار خان ، پرویز شوکت ، نواز رضا ، شکیل قرار ، عبدالرزاق سیال ،مظہر اقبال سمیت تمام قائدین اور صحافی پریس کلب کو ایک باوقار ادارہ بنانے اور صحافت کے پیشے کے تقدس کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سر گرم عمل ہوں گے ۔

ہمارا اتحاد جلد ہی فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کرے گا ۔ ہم ہر اس غلیظ اور مکروہ چہرے سے نقاب الٹیں گے جس نے صحافت کی آڑ میں قلم اور قرطاس کی حرمت پر سودے بازی کی ۔

اب کھلی جنگ ہوگی اور اس جنگ میں فتح ہماری ہوگی ۔ گذشتہ الیکشن میں بھی کہا تھا ، اب بھی کہتا ہوں کہ ہم جیتتے ہیں یا سیکھتے ہیں ۔پچھلی بار ہم سیکھے تو متحد ہوئے اور اب کی بار سیکھا کہ جب تک کتیا چوروں کے ساتھ ملی رہی گی ، صحافی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ اس لیے پریس کلب کے کنویں سے پہلے کتیا کو نکالیں پھر اسی ڈول پانی کے ۔

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے