بلوچستان اسمبلی کا مستقبل

بلوچستان کے  سیاسی بحران نیا رخ !!
ہارس ٹریڈینگ اور غیر سیاسی قوتوں کا دبائو !!
عبدالجبارناصر
بلوچستان میں نئے قائد ایوان (وزیراعلیٰ) میر عبدالقدوس بزنجوکے انتخاب کے باوجود اسمبلی توڑے جانے کی خبروں کا خاتمہ نہ ہوسکا،بلکہ اطلاعات ہیں کہ تازہ تبدیلی اسی جانب اہم قدم ہے اور موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیپلزپارٹی مکمل کوشاں اور تیار ہے، اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنماء کے متوقع دورہ بلوچستان اور بلاول کے لسبیلہ میں جلسے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ سمیت ن لیگ اور ق لیگ کے متعدد ارکان کی شمولیت متوقع ہے ۔ذرائع کے مطابق بعض قوتیں سینیٹ انتخابات سے قبل بلوچستان اسمبلی توڑنا چاہتی ہیں مقصد ن لیگ کا صفایا کرنا ہے ۔ امکان تھا کہ نو منتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کے بعد بلوچستان اسمبلی کونہ توڑنے کے حوالے سے واضح یقین دہانی کرائیں گے مگر اسمبلی میں سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اور نئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے حامی سردار اخترجان مینگل کے خطاب نے اسمبلی توڑنے کی خبروں یا افواہوں کو تقویت بخشی ہے ۔ اسی طرح پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال بھی 12جنوری کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں واضح کرچکے ہیں کہ’’ میر عبدالقدوس بزنجو اور ان کے ساتھی حمایت کے حصول کے لئے آئے تھے اور ہم نے اسمبلی نہ توڑنے کی یقین دہانی پرغیر مشروط حمایت کا کہا مگر ہمیں یقین دہانی نہیں کرائی گئی ‘‘۔ سابق وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھی میر عاصم کرد گیلو بھی چند روز قبل ایک بیان میں واضح کرچکے ہیں کہ ’’وہ 10سے15دن کے لئے وزیر اعلیٰ کا منصب لیکر خود کو مسائل سے دوچار نہیں کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناء اﷲ زہری کی استعفے کے بعد مکمل خاموشی اور سیاسی معاملات سے عملا ً مکمل لاتعلقی بھی بہت کچھ پیغام دے رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں اور بلوچستان اسمبلی کا مستقبل پہلے سے زیادہ خطرات سے دوچار ہے ۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستانی سیاست میں جوڑ توڑ کے ماہر سابق صدر آصف علی زرداری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں ۔ اس ضمن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 72گھنٹوں میں ان کا ایک اہم ساتھی(قانونی ماہر اور سینیٹر) بلوچستان جائے گا اور معاملات کا جائزہ لیکر آصف علی زرداری کو رپورٹ دے گا۔اس حوالے سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ معاملات طے پائے گئے تو نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو مسلم لیگ (ن) ، نیشنل پارٹی ،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے باغی اور مسلم لیگ (ق ) کے ارکان کی ایک بڑی تعداد (20 سے 25ارکان اسمبلی )سمیت پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے اوراس شمولیت کا اعلان پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لسبیلہ میں ہونے والے جلسہ عام میں متوقع ہے ۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی بلوچستان کے رہنماء علی مدد جتک کی 10جنوری کی پریس کانفرنس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ مسلم لیگ(ن) کے ارکان کی اکثریت پیپلزپارٹی میں شامل ہوگی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے ہونے کی صورت میں بلوچستان اسمبلی کی ٹوٹنے کا امکان کم ہوگا کیونکہ مسلم لیگ(ن) ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو سینیٹ کے انتخاب میں بیشتر نشستوں سے محروم رکھنے کا خواب پورا ہوگا۔ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کے 21میں سے 14نے مکمل بغاوت کی ہے ،جبکہ 5ارکان نے آخر میں بحالت مجبوری شدید دباؤ پر نومنتخب وزیراعلیٰ کو ووٹ دیا ۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14میں سے ایک اور نیشنل پارٹی کے 11میں سے 3ارکان نے دباؤ یا ہارس ٹریڈینگ کی وجہ سے پارٹی سے بغاوت کی ہے۔ آئین کے مطابق تینوں پارٹیاں ان ارکان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں ۔

متعلقہ مضامین