بلوچستان کی ”نمائندگی“

لاطینی امریکہ کے کولمبیا میں نمودار ہوکر عالمی ادب پر چھا جانے والا گبرائل گارسیامار کوئز بہت شدت سے یاد آنا شروع ہوگیا ہے۔ کہانی کو داستان کی صورت بیان کرنے کے لئے اس نے جو اسلوب متعارف کروایا اسے Magical Realismکا نام دیا گیا۔ جادو اور حقیقت دومتضاد اشیا ہیں۔ اس نے مگر ان دونوں کو یکجا کردیا۔ روز مرہ زندگی کے عام کردار اور واقعات اسے ہمیشہ سحرزدہ نظر آئے۔ رویے بھی ایسے کہ جن کا کوئی عقلی جواز ڈھونڈا ہی نہیں جاسکتا۔

اس کے ابتدائی ناولوں میں Chronicle of a Death Foretoldاہم ترین شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے قصبے کی کہانی ہے جہاں ”نامعلوم افراد“ وہاں کے معتبر باسیوں کی ذاتی زندگیوں سے متعلق کئی شرم ناک باتوں کو دریافت کرنے کے بعدانہیں شہر کے چوراہوں میں نمایاں مقامات پر ”اچانک“ نمودار ہوئے پوسٹروں کے ذریعے طشت ازبام کردیتے ہیں۔ بالآخر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس قصبے میں شاید اخلاقی اعتبار سے کوئی ایک قابلِ احترام شخص بھی موجود نہیں۔
سکینڈلزاچھالتے پوسٹروں کی وجہ سے بدنام ہوئے کئی لوگ خودکشی پر مجبورہوجاتے ہیں۔ چند ایک اپنی بیویوں کی Honor Killingپر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اس قصبے کے اخلاق کا محافظ پادری خود کو ایک ”شہرگناہ“ کا باسی تصورکرتا ہے۔ پولیس والوں کو سکینڈلز پھیلانے والوں کا سراغ لگانے کےلئے اس قصبے کے ہر رہائشی کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھنے کی اذیت لاحق ہوجاتی ہے اور موسم بھی اس قصبے میں معمول کے مقابلے میں حیران کن حد تک تبدیل ہوادکھائی دیتا ہے۔
موسم آج کے پاکستان کا بھی معمول کے مطابق نہیںہے۔ 1975میں اسلام آباد آیا تو تقریباََ ہر تیسرے روز بارش ہوا کرتی تھی۔ بارش اس شہر کے ہر درخت کو چمکادیتی۔ رنگ باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے۔ ہوا اکثر ”کس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے،دل کے رخسار پر تیری یاد نے ہاتھ“ والے تصور کو حقیقت بناتی محسوس ہوتی۔ اب کے برس سوکھا ہی سوکھاہے۔ درخت گرد کے زد میں آئے سرجھکائے پریشان دِکھ رہے ہیں اور ذکر ہر طرف ”نامعلوم افراد“ کے بنائے منصوبوں کا ہورہا ہے۔
Death Foretoldکو اُردو میں شاید ”پہلے سے بتادی گئی موت“ کہنا چاہیے۔ Chronicleاس کا جدول،ٹائم ٹیبل،تقویم یا ٹائم لائن۔ ترجمہ جو بھی کرلیں سرگوشیوں میں کہا یہ جارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فروری 2018تک ”جمہوریت“ کی وہ صورت جو جنرل ضیاءنے 1985کے غیر جماعتی انتخابات کی صورت متعارف کروائی تھی مٹادی جائے گی۔ اس کی جگہ کم از کم 3سال کے لئے آئین کے 62/63میں طے شدہ صداقت وامانت کے معیار پر پورا اترتے ٹیکنوکریٹس کی حکومت لائی جائے گی۔ اس کے بعد کڑا احتساب ہوگا۔ گزشتہ چند برسوں میں بہت ہی طاقت ور ہوئے کئی سیاستدان اپنی ناجائز دولت کا حساب دیتے پائے جائیں گے۔شاید ان کی بے پناہ اکثریت اس دولت کو سرکاری خزانے میں جمع کرواکر اپنی جان بچانے پر مجبور ہوجائے گی۔
ٹیکنوکریٹس کی وہ حکومت جس کا انتظارکیا جارہاہے، اس کی ضرورت اوراہداف کا ذکر میں نے اس شہر میں سب سے پہلے 1995میں سنا تھا۔ ان دنوں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت تھی۔ ان کے لگائے ”فاروق بھائی“ صدرِ پاکستان ہوا کرتے تھے۔ آئین میں آٹھویں ترمیم بھی اپنی جگہ موجود تھی جو صدر کو کرپشن وغیرہ کے الزام میں کسی وزیر اعظم اور اس کی قوت بنی قومی اسمبلی کو فارغ کرنے کا اختیا ر دیتی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ تھے۔ لگایا انہیںبھی محترمہ بے نظیر بھٹو نے تھا۔ وہ مگر حکومت کے مخالف ہوگئے۔ سماج سدھارنے پر تل گئے۔
سنا میں نے یہ تھا کہ فاروق لغاری محترمہ کی وزارت کو فارغ کرنے کے بعد جو نگران حکومت لائیں گے وہ ”انتخاب سے پہلے احتساب“ کو اپنا ہدف بنائے گی۔سپریم کورٹ اسے ”وسیع تر قومی مفاد“ میں نوے روز کے اندر انتخاب کروانے کی مجبوری سے آزاد کروانے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ نکالے گا۔
نومبر1996میں بالآخر فاروق بھائی نے محترمہ کی حکومت کو فارغ کردیا۔شاہد حامد اور ڈاکٹر زبیر جیسے ٹیکنوکریٹس نگراں حکومت کا حصہ بنے۔ وزارتِ اطلاعات کو ”ارشادات“ بنانے ہمارے بہت ہی سینئر ارشاد حقانی مرحوم بھی اس کا بینہ کا حصہ بنے۔ نجم سیٹھی نے احتساب کا ذمہ لیا اور صاحب زادہ یعقوب علی خان وزیر خارجہ ہوئے۔
اپنے منصب پر فائز ہوتے ہی صاحبزادہ صاحب نے امریکہ سے پہلا رابطہ کیا تو واشنگٹن نے واضح الفاظ میں انہیں بتادیا کہ پاکستان میں ”آئین کی بالادستی“ ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔ احتساب بھول کر لہذا نوے روز میں انتخابات کروانا پڑے۔ نواز شریف ”ہیوی مینڈیٹ“ کے ساتھ وزیر اعظم کے دفتر میں دوسری بار براجمان ہوگئے۔ انہیں اقتدار میں آئے ایک سال بھی نہیں ہوا تھا تو ”انتخاب سے پہلے احتساب“ کروانے والی ٹیکنوکریٹس کی حکومت کا ذکر دوبارہ شروع ہوگیا۔ آئین میں لیکن 8ویں ترمیم اب موجود نہیںتھی۔ بالآخر جنرل مشرف کو ”میرے عزیز ہم وطنو“ کرنا پڑا۔
ان دنوں بھی آئینی اعتبار سے ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے جو صدر کو قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار دے۔ لوگ مگربضد ہیں کہ سماج سدھارنے کے غم میں مبتلا ہوئی عدلیہ کے ازخود اختیارات کے تناظر میں کوئی ایسا راستہ نکال لیا جائے گا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی یعنی مارشل بھی نظر نہ آئے۔”سب کچھ آئین کے مطابق ہوگا“ بہت پراسرار انداز میں دہرایا جارہا ہے۔
میرا بھائی سہیل وڑائچ ان دنوں گارسیا مارکوئز کی طرح علامتی انداز میں داستان نما کالم لکھ رہا ہے۔ نوازشریف کی نااہلی سے چند روز قبل اس نے Party is Over لکھ دیا تھا۔ اب موصو ف نے ایک ”مسیحا“ بھی ”پالیا“ ہے۔ شاید اس کی دریافت ہی نے اسے Beginning of The End لکھنے پر مجبور کردیا۔ جنوری سے آغاز ہوئے End کا عمل فروری میں بقول اس کے مکمل ہو جائے گا۔
1985میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے متعارف ہوئے جمہوری نظام کی موت سہیل نے پہلے سے بتادی ہے۔ مجھے اس ”موت“ کا ہرگز کوئی غم نہیں۔ سوال اگرچہ شاہد خاقان عباسی کی حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ بھی اٹھتا ہے کہ یہ جینا بھی کوئی جینا ہے؟۔ ”جمہوری نظام“ مجھے ویسے بھی عبدالقدوس بزنجو کے وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے کے بعد سے مزید ”حسین“ نظر آناشروع ہوگیا۔
بلوچستان کے ضلع اور ان سے صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہونے کے لئے موصوف نے 544ووٹ لئے تھے۔ ان ووٹوں کی ”قوت“ سے 41سالہ قدوس بزنجو اب پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے کا ”چیف ایگزیکٹو“ ہے۔ اس صوبے میں ریکوڈیک ہے ۔ گوادر بھی ۔ CPECکا اہم ترین پڑاﺅ جسے پاکستان کے ازلی دشمن غصے میں جھلائے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ بلوچستان کے ایک طرف ایران ہے اور دوسری طرف بلوچستان اور اس صوبے کی ”نمائندگی“ اب 544 ووٹوں والے قدوس بزنجو کا مقدر ہوئی ہے۔ طلسماتی کہانیوں والا ہما موصوف کے سر بیٹھا۔Magical Realism ہوگیا۔ ایسے میں ”جمہوری نظام“ کی ”پہلے سے بتادی گئی موت“کا جدول مرتب کرنے کے سوا اور لکھا بھی کیا جاسکتا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین