ایک ناکام انقلابی کی موت

اعجاز منگی
اس کا انتقال تو اسی دن ہوگیا تھا
جس دن اس نے ایم کیو ایم شمولیت کا اعلان کیا تھا
اس کی لاش دو دن قبل ابراہیم حیدری کے اداس ساحل پر ملی۔
اس اداس ساحل پر جہاں غریب مچھیروں کے گھر ہیں
وہ غریب مچھیرے جنہیں وہ
’’پانی پر رہنے والے پرولتاری ‘‘کہا کرتا تھا۔
وہ جو ایک انقلابی مفکر اور ایک سرکش سیاسی ورکر تھا
اس کے موت پر اس ملک کے
سارے حاظر اور سابق سرخے غمگین ہوگئے
انہوں نے اپنے تصور کی آنکھوں میں
اس درد کی نمی محسوس کی
جو درد ایک ناکام انقلابی کی المناک موت پر ہوتا ہے
وہ درد ابھی تک سوشل میڈیا کے ساحل سے
لہروں کی طرح لڑ رہا ہے!
وہ درد ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر کے لیے نہیں
یہ درد اس شخص کے لیے تھا
جس شخص کو جوانی میں
انقلابی فلسفے سے عشق ہوگیا تھا
وہ جو نوجوان جو ریولیوشن کے رومانس میں گرفتار ہوگیا
وہ شخص جو پرانا کوٹ پہنتا تھامگر نئی کتاب پڑھتا تھا
وہ نوجوان جو دہریہ تھا
مگر پھر بھی انجانے خداکا شکر ادا کرتے ہوئے کہتا تھا
’’میرے خدا!
آج بھی تم نے
آدھی روٹی اور پوری کتاب عنایت کی!
شکریہ‘‘
وہ شخص جس سے میں کبھی نہیں ملا
وہ شخص جس سے میں کبھی ہاتھ نہیں ملایا
وہ شخص جس سے میں نے کبھی بات نہیں کی
اس شخص کو میں اس سے کہیں بہتر جانتا ہوں!
وہ شخص مجھے بہت پسند ہے
جس کے پاس تھوڑے ساتھی
اور بہت ساری کتابیں تھیں!
جب کراچی پر بارشیں مہربان ہوتیں
تب وہ کتاب بند کرکے کھڑکی کے پاس کھڑا ہوجاتا
اور سگرٹ سلگا کر
رات کی رانی پر بارش کی بوندوں کا ترنم سنتا
وہ شخص جو شاعر نہ تھا
وہ شخص جو ٹراٹسکی کی طرح
اپنے وطن میں جلاوطن تھا
وہ شخص جو ایک ناکام لیڈر تھا
وہ شخص جو ایک منتظر ملاح تھا
اس نے اپنے انقلابی تصور کی کشتی
ہمیشہ حالات کی ابھرتی ہوئی لہر پر
رکھنے کی کوشش کی
مگر وہ ناکام رہا!
وہ شخص جس نے آمریت کے دنوں میں
سرکاری نوکری میں پناہ نہ لی
وہ شخص جو کراچی کے چوراہوں پر
پمفلیٹ تقسیم کرتا رہا
اور نعرے لگاتا رہا!
وہ شخص جس کے گلے میں
سروں کا ستار نہیں تھا
مگر وہ پھر بھی
’’انترنیسنال‘‘ گاتا رہا
وہ ایک سرخ سویرے کا سیاح تھا
وہ سرخ سویرا اسے حاصل نہیں ہوا
وہ سرخ سویرا
اس کی لاش پر
ابراہیم حیدری کی شام بن کرشرمندہ کھڑا ہے!
وہ سرخ سویرا
اس کی لاش پر
ابراہیم حیدری کی شام بن کر شرمندہ کھڑا ہے!
وہ سرخ سویرا جوبے وفا عورت جیسا ہے
جس بے وفا عورت کے لیے
ساحر نے لکھا تھا:
’’مصور! میں تیرا شہکار واپس کرنے آیا ہوں
ان رنگین رخساروں میں تھوڑی زردیاں بھردے
حجاب آلود نظروں میں ذرا بے باکیاں بھردے
لبوں کی بھیگی بھیگی سلوٹوں کو مزمحل کردے
نمایاں رنگ پیشانی پہ عکس سوز دل کردے
تبسم آفریں چہرے پہ کچھ سنجیدگیاں بھردے
جواں سینے کی مخروطی اٹھانیں سرنگوں کردے
گھنے بالوں کو کم کردے مگر رخشندیاں دیدے
نظر سے تمکنت لیکر مزاج عاجزی بھردے
مگر ہاں بینچ کے بدلے اسے صوفے پہ بٹھالادے
اور میری جگہ اک چمکتی کار دکھلادے
مصور میں تیرا شہکار واپس کرنے آیا ہوں‘‘

متعلقہ مضامین