احتساب عدالت میں نیند پوری

احتساب عدالت اب خواب گاہ سے زیادہ نہیں رہی۔

نواز شریف نے نہلے پر دہلہ کس کو کہا۔

کلثوم نواز کی آخری کیمو ہے، طبعیت ٹھیک ہورہی ہے ۔

احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہے، شروع میں ہم صحافی، ن لیگی کارکنان خصوصاً فریقین نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر عدالت میں کافی سنجیدہ تھے، دن گزرتے گئے کارروائی آگے بڑھتی رہی، گواہ پر گواہ پیش ہوتے رہے، اب یہ کیس آخری مراحل میں ہے، لیکن نواز شریف کے مطابق یہ عدالتی کارروائی ایک ایسی فلم کی طرح ہے جو شروع میں بہت زبردست چلتی ہے جبکہ بعد میں اسے زبردستی چلایا جاتا ہے۔

مقدمے کے آغاز میں عدالت میں خاموشی یا سناٹا ہوتا تھا، فریقین اور ہم سمیت لیگی کارکنان بھی اس سماعت کو غور سے سنتے تھے لیکن روزانہ کی بنیاد ہر ایک جیسے گواہوں کو پیش ہونا اور ایک جیسا بیان ریکارڈ کرانا بھی ہمیں بیزار کر رہا ہے، عدالتی کارروائی تو ایسے جیسے انگلیوں پر رٹ چکی ہے، گواہوں کے پاس کبھی تفصیل نہیں توبھی گواہوں کی موجودگی میں کوئی ریکارڈ تیار نہیں ہوا، کوئی گواہ ریکارڈ بناتے وقت زاتی حیثیت سے موجود نہیں تھا تو کسی نے ریکارڈ سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا،، نواز شریف کے وکیل جرح کریں تو کیا کریں، کروڑوں روپے فیس لینے والے وکیل نے آج کے گواہ سب انسپکٹر عمر دراز کو جاتی امراء میں دو دفعہ نوٹس تعمیل کرانے پر ہی کلاس لے لی، اب وہ بیچارہ سمن ہی تو تعمیل کرانے گیا تھا،خواجہ حارث نے گواہ عمر دراز کے دو دفعہ جاتی امراء نوٹس وصول کرانے پر نوٹس لے لیا، لگ بھگ پونا گھنٹہ جرح اور ایک ہی سوال.. صبح نوٹس کے بعد شام کو نوٹس کیوں کیا؟ کوئی نہیں.. جب کیس میں جان نہ ہو تو جان ڈالنے اور پیسے پورے کرنے کیلئے پونے گھنٹے ایک ہی سوال پر جرح تو بنتی ہے جناب… عدالتی کارروائی نہ ہو کوئی لوری ہو جیسے،،، وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری تو ہر سماعت میں سوتے ہی ہیں، سوئے ہوئے منسٹر معمول کے مطابق آج بھی سوئے،، لیکن انکے کے مزید دو ہمنوا بھی بن گئے، صحت کی وزیر سائرہ افضل تارڑ بھی بھری عدالت میں عدالتی کارروائی سے بیزار سستاتی رہیں جبکہ امیر مقام کی بھی نہ نہ کرتے آنکھ لگ ہی گئی،،، اب تو عدالتی کارروائی ہمیں بھی لوری سے محسوس ہونے لگی ہے،، جج محمد بشیر کی دلچسپی بھی زیادہ نہیں رہی، فاضل جج نے واجد ضیاء کو اگلی سماعت پر طلب کرنے کی بات کی تو پیچھے بیٹھی مریم نواز نے کہا واجد ضیاء کیسے آسکتا ہے، وہ گواہی نہیں دے سکتا،،، نواز شریف کے ساتھ آج ہونے والی گفتگو میں انہوں نے 92 اور اے آر وائی کے رپورٹرز کو مزاحیہ انداز میں نہلے پر دہلا قرار دیا،، طلال چوہدری اور مریم اورنگزیب بچوں کی طر مریم نواز شریف کو ایک دوجے کی شکایتیں بھی لگاتے رہے،، اس سب سے عدالتی کارروائی کا کوئی تعلق نہیں لیکن اگر اھتساب عدالت میں کارروائی نہ ہو تو حکمرانوں کی ایسی تفریحی کارروائیاں بھیج دیکھنے کو نہ ملیں… نواز شریف کی آج ایک بار پھر دی جانے والی مثال مجھے بھی بھانے لگی، لگ ایسا ہی رہا کہ پہلے عدالتی کارروائی بہت زبردست تھی اور اب زبردستی چلائی جا رہی ہے، عدالتی کارروائی سے اور کچھ نہیں اراکین کو ان کے لیڈر سے ملنے کا موقع، مل بیٹھ کر کچھ نہ کچھ کھانے، شکایتیں لگانے، سستانے جبکہ کچھ کو سکیرینگ کا موقع ضرور مل جاتا، آخری مراحل میں داخل ہوتی اس فلم کہیں یا ڈرامہ، اگلی قسط 23 جنوری کو ہوگی ۔

متعلقہ مضامین