چین نواز شریف کے ساتھ ہے

فنِ ابلاغ کے پنڈتوں نے یہ بات کئی دہائیاں پہلے طے کردی تھی کہ Message ہی Medium ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ جو بات آپ شعر کی صورت بیان کرسکتے ہیں وہ نثر کے بس کی بات نہیں۔ افسانے لکھنے والے کے لئے ناول نگار ہونا بہت مشکل ہے۔ مصور شاعری نہیں کر سکتا۔

Medium کا ذکر اگرچہ ذریعہ جسے Tool بھی کہا جاسکتا ہے پر زیادہ فوکس کرتا رہا۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تحقیقTV کے امکانات کے بارے میں ہوئی۔ استادوں نے بالآخر اسے Idiot Box کہا۔ جس کے ذریعے کوئی خبر تو Break کی جاسکتی ہے مگر کسی پیچیدہ موضوع کو گہرائی اور گیرائی کے ساتھ بیان کرنا ممکن نہیں۔ ٹی وی روزمرہّ زندگی میں مصروف لوگوں کی توجہ کو چند لمحوں کے لئے اپنی جانب مبذول رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس دھندے کو چلانے کے لئے Ratings درکار ہیں اور Ratings سنسنی خیزی کا تقاضہ کرتی ہیں۔
ہر ذریعہ ابلاغ کے لئے مختص ہوئی حدود کا ذکر کرتے ہوئے ٹی وی صحافت کی بھد اُڑانا میرا مقصد نہیں۔ میرے اپنے رزق کا بیشتر حصہ اسی میڈیم کی طفیل نصیب ہوتا ہے اور اپنے پیٹ پر کوئی لات نہیں مارا کرتا۔
اصل مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ہمارے ہاں 24/7چینل متعارف ہونے کے بعد پرنٹ میڈیا اپنے امکانات کے وسیع تر میدان میں کھیلنے کی لگن کھوبیٹھا ۔ ٹی وی صحافت کی نقالی میں مصروف ہوگیا۔ کوے نے ہنس کی چال چلنا چاہی اور بات نہیں بن پائی۔
ٹی وی Hypeکا محتاج ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے کا Hype قصور میں ایک بچی کے ساتھ ہوئی زیادتی تک محدود رہا۔اس کے نتیجے میں بہت ساری اہم خبریں نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ ان میں سے چند خبریں ایسی تھیں جن کی اہمیت صرف اخبارات ہی اجاگر کرسکتے تھے۔ وہ ایسا کرنے میں قطعاََ ناکام رہے۔
ٹی وی صحافت کی گھن گرج کی وجہ سے Overshadow ہوئی ایک اہم ترین خبر میری دانست میں پاکستان میں مقیم چینی سفیر کی رائے ونڈ جاکر سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل قرار پائے نواز شریف سے ملاقات بھی تھی۔ صرف تحریک انصاف کے چند سرکردہ لوگوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ اور تنقیدی Postsکے ذریعے اس ملاقات کا مذمتی انداز میں ذکر کیا۔سوال اٹھایا کہ آیا چین جیسے اہم ملک کے سفیر کی ایک ایسے سیاست دان سے ملاقات ”اخلاقی“ اعتبار سے درست تھی جسے سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے کر احتساب عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے؟
نواز شریف کی چینی سفیر سے ملاقات کو محض ”اخلاق“ کے چوکھٹے میں رکھ کر دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کے نیک طینت افراد بھول گئے کہ مقامی یا عالمی سیاست میں ”اخلاقیات“ نامی شے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ مفادات ہی سب کچھ طے کرتے ہیں۔چین پاکستان کا دائمی یار ہے۔ یہ مگر بے غرض یاری ہو ہی نہیں سکتی۔ پاکستان اور چین اس خطے کے دو اہم ترین ممالک ہیں۔ ان دونوں کے ٹھوس قومی مفادات ہیں۔ پاک-چین دوستی دونوں ممالک کے مفادات کو تقویت پہنچاتی ہے۔ اسی لئے یہ اب تک برقرار ہے اور اسے سمندروں سے زیادہ گہرا اور پہاڑوں سے بھی بالاتر کہا جاتا ہے۔ ٹھوس قومی مفادات کی بنیاد پر اُٹھی پاک -چین دوستی 90کی دہائی تک اگرچہ محض دفاعی اور تزویراتی علاقوں تک محدود رہی۔
2000کا آغاز ہوتے ہی چین نے خود کو عالمی اقتصادی میدان کا اہم ترین کردار بنانے کا تہیہ کرلیا ۔ اس ضمن میں سمندروں کے ذریعے افریقہ،مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کی منڈیوں تک رسائی کو آسان اور تیز تر بنانا بہت ضروری تھا۔ اسی باعث چینی قیادت One Belt One Roadکا ورد کئے جارہی ہے۔ سنکیانگ کا معدنی وسائل کے اعتبار سے مالا مال صوبہ چین کے دوسرے صوبوں کے حوالے سے کافی پسماندہ ہے۔ چین اسے جدید تر بناکر وسطی ایشیاءکا اہم ترین تجارتی مرکز بنانا چاہتا ہے۔ ایسا ہونا ایک حوالے سے تاریخ کو دہرانا ہوگا۔کاشغر تاریخی سلک روٹ کا ایک اہم ترین پڑاﺅ رہا ہے ۔ لاہور کے مرکز میں ”چینیاں والی مسجد“کا وجود اس خطے سے ہمارے تاریخی اور ثقافتی تعلق کی اہم ترین علامت ہے۔
ماضی کے مزید حوالے دینے میں الجھنے کے بجائے میں حال پر توجہ دیتے ہوئے اصرار کروں گا کہ چین اس وقت ہماری معیشت کو توانائی بخشنے کے لئے کثیر سرمایہ کاری پر آمادہ ہے ۔ ہمارے ہاں کے بحران، خلفشار اور سیاسی عدم استحکام اسے مگر بددل بناسکتے ہیں۔ چین کی اپنی سرمایہ کاری کے ضمن میں بددلی ہمارے لئے خیر کی خبر نہیں ہوگی کیونکہ امریکہ نے اب کھانے کے دانت دکھانا شروع کردئیے ہیں ۔ ڈالر سے جڑی ہماری معیشت کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے جلد ہی IMF وغیرہ سے رجوع کرنا ہوگا۔ چین معاشی اعتبار سے بھی ہمارا پشت پناہ رہے تو ہم نسبتاََآسانی سے اپنے تجارتی خسارے کی وجہ سے آئے بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی اداروں سے کوئی Bailout Packageحاصل کرسکتے ہیں۔
چین سے اس کے ٹھوس قومی مفادات کی بنا پر ہمیں نصیب ہوئی پشت پناہی کو مگر Taken for Granted نہیں لینا چاہیے۔ مجھے شبہ ہے کہ چینی سفیر نے نواز شریف کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران اپنا پورا فوکس پاکستان میں سیاسی استحکام کو یقینی بنانے پر مرکوز رکھا ہوگا۔ اگر وہ اپنی بات سمجھانے میں کامیاب رہے تو تمام تر مشکلات کے باوجود ہم کسی نہ کسی طوربروقت انتخابات ہوتے دیکھ سکتے ہیں۔
چین نے اس صدی کے آغاز تک خود کو ہمیشہ دوست ممالک کے اندرونی معاملات سے لاتعلق رکھا تھا۔ ابھرتی ہوئی عالمی قوت بن جانے کے بعد چین کے لئے اب ایسی لاتعلقی برقرار رکھنا ممکن نہیں۔یہ حقیقت ریکارڈ کا حصہ ہے کہ چین نے حال ہی میں زمبابوے کو مارشل لاءسے بچانے کے لئے اہم ترین کردارادا کیا اور رابرٹ موگابے کو باعزت طورپر استعفیٰ دینے پر مائل کیا۔
پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے بچانا بھی اب چین کی ترجیحات میں شامل ہو چکا ہے ۔ وہ انتہائی خاموشی اور سفارت کارانہ مہارت کے ساتھ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ اسے اس ضمن میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تو CPEC کے بقیہ منصوبوں پر سرمایہ کاری کے امکانات معدوم نہیں تو تاخیر کا شکار ضرور ہو جائیں گے۔ اس صورت میں ہمارے لئے امریکہ کو آنکھیں دکھانا بھی ناممکن نہ سہی تو مشکل بہت ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری ہر نوع کی قیادت چین کے بتائے خدشات کو سنجیدگی سے لے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے