پارلیمنٹ مقدس ہے مگر

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف مانگنے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری کا اکھٹا کیا گیا اپوزیشن اتحادی جلسہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہا یا پھر بری طرح ناکام رہا یہ ایک الگ بحث ہے ۔ تاہم یہ جلسہ ہماری ملکی سیاسی ڈکشنری میں ایک لفظ ‘لعنت’ کا ضرور اضافہ کر گیا ہے جس کی بازگشت ہمارے میڈیا اور ایوانوں میں سنی جا رہی ہے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان نے ایک اہم ادارے کے لیے انتہایی نازیبا الفاظ ادا کیے اور یہ بھی کہ ہمارے سیاستدانوں کو ذاتی گفتگو میں عموما اور عوامی جلسوں میں خصوصا احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے مگر یہاں پر سوال یہ ہے کہ جس پارلیمان کے تقدس پر جان قربان کرنے کے دعوے آج تمام سیاستدان کر رہے ہیں انہوں نے خود اس پارلیمان کے تقدس کے لیے کیا کیا۔؟ کیا یہ غلط ہے کہ پارلیمان/مقننہ (جو ریاست کا ایک ستون ہے ) کے اندر دیگر اہم ریاستی اداروں جیسے اعلی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح فوج پر بھی تنقید کی گئی ۔ اور کیا یہ بھی سچ نہیں اسی پارلیمان کے اندر ایک معزز مرد رکن اسمبلی کی جانب سے ایک خاتون رکن اسمبلی (شیریں مزاری) کو نازیبا الفاظ (ٹریکٹر ٹرالی) سے نوازا گیا ۔ کیا یہ بھی غلط ہے کہ اسی پارلیمان میں کھڑے ہو کر منتخب وزیراعظم نے اپنے اثاثوں سے متعلق جھوٹ بولا ۔
پارلیمان یقینا مقدس ہے مگر اس کو مقدس ترین اس کے اپنے اراکین ہی بنا سکتے ہیں ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ عوام کے ٹیکس سے بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں ارکان نہ صرف بھرپور شرکت کریں بلکہ اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد یعنی قانون سازی میں بھرپور حصہ لیں ۔ پارلیمان کے ایوان کو رونق بخشنے والے اراکین کو مذمتی قراردادوں سے اب ایک قدم آگے بڑھ کر قانون سازی پر توجہ دینا ہوگی ۔ اور اس سے بھی پہلے کم ازکم ایوان میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولنے اور کسی کو مضحکہ خیز القابات سے نوازنے جیسی بری روایات کا خاتمہ کرنا ہو گا ورنہ یاد رکھیں کہ تاریخ کبھی کسی کو بھی معاف نہیں کرتی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے