بلوچستان کے بعد گلگت بلتستان

بلوچستان سے گلگت بلتستان تک !
لاجسٹک سپورٹ وسرمایہ کاری!
تحریر: عبدالجبارناصر
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان کے خلاف عدم اعتماد کی بات ہوائی نہیں ہے بلکہ ایک خاص منصوبہ بندی اور مخصوص سوچ کے باعث ’’سرمایہ کاروں‘‘ کو ’’لاجسٹک سپورٹ‘‘ملنے پر یہ تحریک پیش کی جائے گی۔ اس لئے اس کو کلی طور پر نظر انداز کرنا حماقت ہوگی،تاہم تدارک کے لئے اقدام کئے جاسکتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی اسی طرح کی حکمت عملی بلوچستان میں بھی کامیاب رہی ہے اور اب ٹارگٹ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا ہیں۔
خیبرپختونخوا کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ’’سرمایہ کار‘‘ نے توجہ صرف سینیٹ پر مرکوز کی ہے اور کوشش ہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو 11 میں سے4سے 5 نشستوں تک محدود رکھاجائے، جن کوموجودہ عددی اعتبار سے کم سے کم7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ اس عمل کے پس پردہ پیپلزپارٹی کا نام آ رہا ہے، اس سے قبل بلوچستان کے حوالے سے بھی محترم آصف علی زرداری صاحب کا نام زبان زد عام ہے۔ دپلچسپ باپ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں عدم اعتماد کی بات بھی سرعام سب سے پہلے پیپلزپارٹی کے رکن قانون ساز اسمبلی جاوید حسین صاحب نے کی ہے ، جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کو ٹاسک ملا ہے۔
آئین کے اندر رہتے ہوئے سینیٹ کی نشستیں زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا اورعدم اعتماد پیش کرنا قانونی اور آئینی جمہوری طریقہ ہے مگر اس میں ہارس ٹریڈنگ اور تعصب کاعنصرشامل نہیں ہونا چاہئے۔
بلوچستان میں لگنے والی بولی کی 4سے 6 ارب روپے کی بازگشت ہے، اب دیکھنا ہے کہ گلگت بلتستان میں کتنے روپے کی سرمایہ کاری ہوتی ہے اورکون کون اعلیٰ ضمیر کے مطابق اس سرمایہ سے حصہ حاصل کرنے کامیاب ہوتاہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button