چیف جسٹس نے رپورٹرز کو چکرا دیا

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ میں نوازشریف کی پارٹی صدارت کے خلاف سیاسی جماعتوں کی آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو مسلم لیگ ن کے درجن بھر رہنما عدالت میں کھڑے تھے۔ چیف جسٹس حسب عادت ہر موضوع پر بے تکان بولتے چلے گئے۔ سعد رفیق کی تقاریر سے لے کر پرویزرشید کے میٹھے لہجے تک موضوع سخن بنایا۔
اسی دوران ایک درخواست گزار وکیل طارق اسد نے کہاکہ مائی لارڈ، آپ ازخودنوٹس لے کر کیس کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کرتے، راﺅانوارصرف ایک نہیں ہے، ہر صوبے میں اس طرح کے پولیس افسر جعلی مقابلے کراتے ہیں، عدالت سب کو بلاکر پوچھے۔ طارق اسد نے کہاکہ جناب نے اسلام آباد کے بحریہ انکلیو میں اسٹیج گرنے کا بھی ازخود نوٹس لیا تھا، اس میں ایک سو ستر لوگ زخمی ہوئے تھے، دو کی موت واقع ہوئی، کئی وکیل بھی شامل ہیں جن کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں مگر آج تک اس مقدمے کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے بحریہ ٹاﺅن سے متعلق ازخود نوٹس کی بات کا تو کوئی نوٹس نہ لیا مگر راﺅ انوار کے بارے میں فورا بولے کہ اس کا کیس کل چوبیس جنوری کو سماعت کیلئے مقرر کیا ہے، اس میں رپورٹ بھی مانگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوازشریف پارٹی صدارت کیس کی سماعت مکمل کرکے حکم نامہ لکھوایا۔ گیارہ بجنے پر اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے۔
اس دوران رپورٹرز نے ان کے ریمارکس اپنے ٹی وی چینلز تک ٹکرز کی صورت پہنچائے۔ عدالت کی ویب سائٹ پر مقدمے کی فہرست شائع ہوئی تو اس کی خبر بھی چلادی کہ کل چوبیس جنوری کو مقدمے کی سماعت ہوگی اور چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سنے گا۔ خبر دینے کے بعد عدالت کی راہداریوں میں رپورٹرز چلتے پھرتے دکھائی دیے ۔ اس دوران ساڑھے گیارہ بج گئے۔ تینوں جج کمرہ عدالت میں آ چکے تھے۔ کچھ رپورٹرز پانچ منٹ تاخیرسے عدالت میں گئے اور اس دوران سپریم کورٹ نقیب محسود قتل ازخود نوٹس میں حکم نامہ بھی لکھوا چکی تھی۔
یہاں سے سب رپورٹرز چکرا کر رہ گئے۔ جس نے جو سنا تھا اسی پر ڈٹ گیا ۔ سب جانتے تھے کہ چیف جسٹس نے عدالتی وقفے سے قبل کہا تھا کہ راﺅ انوار کا معاملہ کل سماعت کیلئے مقرر ہے، مقدمات کی فہرست میں بھی شائع کیا جا چکا ہے تو پھریہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا حکم کہاں سے آ گیا؟۔ رپورٹرز آپس میں جھک جھک کرتے کنفیوژن دورکرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران چینلز کے مرکزی دفاتر سے بھی فون آنا شروع ہوگئے کہ اصل خبر کیا ہے؟ راﺅ انوار کا مقدمہ کل سنا جائے گایا پھر 27 جنوری کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طلب کیا گیا ہے؟۔
اسی شش و پنج میں عدالتی وقفے کے دوران جاری کی گئی ایمرجنسی کاز لسٹ کسی ایک رپورٹر کے ہاتھ لگی جس میں لکھا تھاکہ مقدمہ آج سماعت کیلئے مقرر کیا جاتاہے۔ پھر عدالت کے اندر موجود ایک اور صحافی سے معلوم ہواکہ چائے کے وقفے کے بعدساڑھے گیارہ بجے آتے ہی چیف جسٹس نے نقیب محسود قتل ازخود نوٹس پر حکم نامہ لکھوایا، اور پولیس مقابلوں کے ماہر راﺅ انوارکا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست میں ڈالنے کیلئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی۔ عدالت نے اسی حکم نامے میں سندھ پولیس کے سربراہ، راﺅ انوار اور اس کے جعلی پولیس مقابلے کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سربراہ کو بھی ستائیس جنوری کو طلب کرنے کا لکھوایا۔ اور مقدمے کی سماعت کراچی رجسٹری میں کرنے کا فیصلہ کیا۔
پتہ نہیں اس آدھ گھنٹے کے وقفے میں کیا ہوا کہ چیف جسٹس کو گیارہ بجے ادا کیے گئے الفاظ کے برعکس ساڑھے گیارہ بجے مقدمہ مقرر کرکے حکم نامہ لکھوانا پڑا ۔ وہ مقدمہ جو کل چوبیس جنوری کیلئے مقرر تھا اسے اچانک آج ہی تین منٹ میں سن کر حکم جاری کر دیا ۔ نہیں معلوم کہ چائے کے وقفے کے دوران چیف جسٹس نے ٹی وی پر راﺅ انوار کے بیرون ملک جانے کی خبر دیکھ لی تھی یا کسی نے ان سے درخواست کرکے راﺅ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے کہا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے سامنے نئے حقائق لائے گئے ہوں ۔ وجہ کوئی بھی ہو مگر اس قدر تیزی سے حکم نامے جاری کرنے کی وجہ سے عدالت کی راہداریوں میں روز گھومتے رپورٹرز چکرا کر رہ گئے ۔
اب رپورٹرز یہ سوچ رہے ہیں کہ عدالت میں کیا وہ مقدمات بھی سنے جائیں گے جو فہرست میں موجود ہی نہ ہوں ۔ اور کیا عدالت میں ہر منٹ یا سیکنڈ کیلئے بھی رپورٹرز کی موجودگی ضروری ہوگی؟۔ تاہم دوسری طرف آج عدالتی کارروائی کے دوران چیف جسٹس نے ن لیگ کے سیاست دانوں کو سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرنے سے روکا تو عدالتی ہرکارے پارکنگ میں موجود ٹی وی چینلز کے کیمروں کو ہٹانے کیلئے پہنچ گئے ۔ اب یہ بھی سنا ہے کہ عدالت کے احاطے میں بنے اس روسٹرم کو توڑنے کی طرف ہاتھ بڑھ رہے ہیں جس پر چینلز کے مائیک رکھے جاتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین