عدالت میں جرنیلوں کا ذکر

عقیل افضل

عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ میں اکثر چھوٹے چھوٹے مگر دلچسپ واقعات سامنے آتے ہیں، مصیبت یہ ہوتی ہے کہ ان کو وضاحت کیے بغیر پیش نہیں کیا جا سکتا_ ٹی وی رپورٹنگ والوں کی مشکل مگر اس سے سوا ہے کہ ٹکرز میں کسی چیز کی وضاحت کی اجازت نہیں ہوتی _

آج بھی سپریم کورٹ میں بڑے بڑے مقدمات کی سماعت کے دوران معمولی نوعیت کے دلچسپ واقعات پیش آئے جن کے پیچھے موجود عوامل البتہ غیر معمولی ہیں _ ایسا ہی ایک واقعہ پیش خدمت ہے _

سپریم کوٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ متروکہ وقف املاک کی اراضی کے کیس سماعت کر رہا تھا، جس میں ایک معاملہ یہ سامنے آیا کہ ڈی ایچ اے نے متروکہ وقف املاک کو آ ٹھ کنال کی پچاس فائلز دینی ہیں یا ان کی مالیت جو تقریبا اٹھانوے کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے  اس کو سود سمیت واپس کر نا ہے تو چیف جسٹس نے الیزیم کمپنی کے وکیل کو اپنی تجاویز کے ہمراہ آ نے کا کہا _  الیزیم کمپنی کے وکیل نے  عدالت سے پندرہ روز کی مہلت طلب کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ جناب میرا موکل جیل میں ہے مشاورت کیلئے مہلت بڑھائی جائے_ اس پر چیف جسٹس مسکرائے اور کہا یہ تو پہلے ہی جیل میں ہے اب اور کیا کریں؟

الیزیم کمپنی کے وکیل نے کہا مائی لارڈ، میرا  موکل کمزور آدمی ہے اس لیے تو جیل میں ہے،  اس کے ساتھ یہ معاہدہ کرنے والے جرنیل آزاد گھومتے ہیں_ وکیل کی پوری بات سنتے ہی چیف جسٹس نے فورا خوشگوار موڈ کو بدلا اور سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا کہ جو معاملہ ہمارے سامنے نہ ہو اس پر حکم جاری نہیں کریں گے –  اس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس ملتوی کرنے کا حکم جاری کر ے _ تاہم اسی دوران عدالتی معاون عملے کے ایک فرد نے چیف جسٹس سے کو کچھ بتایا تو چیف جسٹس نے کہا کہ متروکہ وقف املاک کے چیئرمین کی اہلیت کے خلاف  ایک درخواست ہائیکورٹ میں ہے،  ہائیکورٹ اس مقدمے کو منگل کے روز سماعت کیلئے مقرر کرے،  اور ایک ہفتے میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کی اہلیت کیس کا فیصلہ صادر کرے_

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ میرے ہاتھوں کہیں متروکہ وقف املاک کے چیئرمین کو کچھ ہو نہ جائے _ کچھ دل جلوں کی رائے ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق ماضی میں ایک ہی جگہ نوازشريف کے لیے مختلف کام کرتے رہے ہیں، حقیقت کا علم اللہ کو ہے مگر صدیق الفاروق کے مشکل دن شروع ہوا چاہتے ہیں _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button