ہمارے بچوں کے لیے بھی تو کچھ سوچیں

قارئین ۔ کیا آپ میں سے کوئی میری رہنمائی کر سکتا ہے کہ بچوں سمیت بیرون ملک جا کر مستقل رہائش اختیار کرنے کا سستا اور آسان طریقہ کونسا ہے؟ (سیاسی پناہ گزین بننے سے پیشگی معذرت)۔ ارے آپ کیا سمجھ رہے ہیں کہ میں ان نو دولتیوں میں سے ہوں جو اسی ملک سے کما کر اسی پاک دھرتی کو برا کہتے ہیں؟ بالکل نہیں ۔ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی محب وطن شہری ہوں ۔ لیکن ٹہر یئے ۔ آپ کو بات شاید ایسے سمجھ میں نہ آئے ۔ تفصیل سے بتائے دیتی ہوں ۔

چند سال قبل بطور صحافی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں بیٹھی تھی جب سلمان تاثیر کے قتل کی اطلاع ملی ۔اپنے چینل کے لیے خبر کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ توہین رسالت کا الزام لگا کر اپنے ہی گارڈ نے سلمان تاثیر کو گولیاں مار دیں ۔ ذہن میں خطرے کی پہلی گھنٹی تبھی بجی لیکن چونکہ اس وقت میرے اپنے بچے نہیں تھے لیذا تھوڑے دن افسوس کرنے اور ساتھی صحافیوں اور رشتہ داروں سے بحث و مباحثہ کرنے کے بعد یہ گھنٹی بجنا بند ہو گئی۔ اب پچھلے کچھ ماہ سے یہ گھنٹی دوبارہ بج رہی ہے جس کی وجہ ہمارے ملک میں پے در پے رونما ہونے والے واقعات ہیں ۔ جیسا کہ قصور میں 230 بچوں کے ساتھ زیادتی اور ویڈیو بنانے کا واقعہ ۔ پنجاب کے ہی ایک اور شہر میں پیر کے ہاتھوں 30 افراد کا قتل ۔ خیبر پختونخوا میں مشال کا بہیمانہ قتل ۔ قصور کی زینب ۔ پشاور کی اسماء ۔ اور اب تازہ ترین واقعہ جس نے میرے ذہن کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ہے چارسدہ میں توہین رسالت کے الزام پر طالبعلم کے ہاتھوں اپنے پرنسپل کا قتل ۔

ان تمام واقعات کے بعد ایک امید کی کیفیت میں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سب کھنگال ڈالا کہ جو گھنٹی میرے دماغ میں بجی ہے شاید ہمارے کسی حکمران ۔ کسی پالیسی ساز کے دماغ میں بجی ہو اور ان تمام واقعات ۔ جن کا تعلق انتہاپسندی اور جنونیت سے ہے کی روک تھا م کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہو ۔ مگر نہیں صاحب ۔ ہر جگہ وہی پرانی ڈگر ۔ اہم ترین مسائل سے ہٹ کر ہماری تمام سیاسی جماعتیں ملک کی حکمرانی کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر شرمناک اور گھٹیا وار کر رہی ہیں اور ہم عوام انہی تماشوں میں خوش کسی نہ کسی طرح اپنا حصہ بھی ڈال رہے ہیں ۔ میرا یقین کریں کہ ہم جسمانی دہشت گردی پر قابو پا سکتے ہیں مگر ذہنی دہشت گردی اور انتہا پسندی چاہے وہ کسی قسم کی بھی ہو ہماری جڑوں کو مسلسل کھوکھلا کر رہی ہے ۔ خدارا اس طرف توجہ دیں ۔

ان تمام واقعات میں ملوث مجرموں کو فوری اور سخت سزائوں کے ذریعے کیفر کردار کو پہنچائیں لیکن ان واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی بھی وضع کریں تاکہ میری جیسی کوئی اور ماں جو خود بھی وطن سے محبت کرتی ہے اور یہی درس اپنے بچوں کو بھی دیتی ہے ملک کے مستقبل سے مایوس نہ ہوجائے ۔ خدارا ۔ میرے جیسی ماؤں کی راتوں کی پرسکون نیند لوٹا دیں جو یہ سوچ سوچ کر نہیں سو پاتیں کہ ہماری آیندہ نسل اس انتہا پسندی کے ہاتھوں کس قدر خطرے میں ہے ۔ خدارا ہم سب کے بچوں کے لیے بھی تو کچھ سوچیں ۔

متعلقہ مضامین