میر شکیل الرحمان سے عدالتی ملاقات کا احوال

چائے کی پیالی پر سوالات اور تبصروں کے نشتر گھنٹوں چلے ۔ سپریم کورٹ کی عمارت میں واقع پریس روم صحافیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ کہانیاں سنانے والے اپنے ایک دلچسپ مہمان کے ارد گرد ایسےجمع تھے جیسے آج کی سب سے اہم خبر ان کے لیے یہی تھی ۔ لطائف، سوالات، تنقید، تجزیوں اور تبصروں پر محیط یہ بیٹھک مہمان کی دلچسپی میں اضافے کا باعث بھی بن رہی تھی ۔ اس ملاقات کا احوال سوال اور جواب کی صورت میں کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔
سوال: آپ آگے کے حالات کیسے دیکھ رہے ہیں؟
جواب: میں پیر یا پیرنی سے کچھ نہیں پوچھتا ۔
قہقے
سوال: عمران خان سے آپ کی مخالفت کیا ہے؟
جواب: کوئی بھی نہیں۔ یہ ان سے پوچھیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ نواز شریف کو بالکل بھی کوریج نہ ملے۔ لیکن میرا میڈیا ہاؤس ہر نکتہ نظر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔
سوال: اگر عمران خان اقتدار میں آ گئے تو آپ کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے؟
جواب: مشکل عمران خان کی وجہ سے نہیں ہے ۔ جہاں سے مشکلات پیدا ہوتی ہیں آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں ہمیشہ کے لیے ہی بند کر دیں لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے۔
سوال:اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آپ غیرجانبدار ہیں تو پھرصحافیوں کو نواز لیگ کی طرف سے پھول اور تحریک انصاف کی طرف سے مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
جواب: یہ نیچرل ہے۔ شروع سے ہی ایسا ہوتا آ رہا ہے۔ قرآن میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
سوال: آپ اپنے ادارے میں کام کرنے والے صحافیوں کو وقت پر تنخواہ کیوں نہیں دیتے؟
جواب: جیو کو چار سال تک کسی نہ کسی صورت بند رکھا گیا ہے۔ اب گذشتہ ڈیڑھ سال سے جیو نے بہتر بزنس کیا ہے لیکن پہلے کا خسارہ ذیادہ ہے ۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ جلد اس معاملے کو حل کرلیا جائے گا۔ ملازمین نے جب تنخواہ دیر سے ملنے پر احتجاج کیا تو میں نے حمایت کی اور مجھ پر ایسا جائز دباو رہنا چاہیے ۔ مجھے احتجاج سے متعلق بتایا گیا تو میں نے کہا ایک وقت پر تنخواہ نہ ملے اور دوسرا ہم بولنے بھی نہ دیں تو یہ غیر مناسب ہوگا ۔ میں نے ادارے میں مکمل آزادی دے رکھی ہے۔
سوال: بول کے معاملے پر احتجاج میں جیو کے صحافی کیوں شریک نہیں ہوتے؟
جواب: جیو میں کام کرنے والے صحافی آزاد ہیں اور وہ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ بول کی بندش کے خلاف احتجاج میں شریک ہوتے رہے ہیں۔
سوال: آپ اشتہارات ملنے کے باوجود مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ جب کہ ایک چینل بغیر اشتہارات کے چل رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟
جواب: انھوں نے بہت محنت کی۔ پیسہ بہت ذیادہ ہے۔ شاید میرے ادارے میں کام کرنے والے اور میں خود اتنا محنتی نہیں ہوں کہ پیسے ہاتھ میں پکڑا دوں۔
قہقے
سوال: آپ اشتہارات کے باوجود خسارے میں کیسے ہیں؟
جواب: اگر آپ کہتے ہیں تو میں آپ کو تمام بنکوں کے نام سرٹیفیکیٹ دے دیتا ہوں آپ جا کر قرضوں کی تفصیلات معلوم کر سکتے ہیں۔ پنجاب بنک، نیشنل بنک اور حبیب بنک سے قرضے لیے ہیں لیکن چینل کو بند نہیں ہونے دیا۔
سوال: عبدالقیوم صدیقی ایک اچھا صحافی ہے آپ اسے پروگرام کیوں نہیں دیتے ؟
جواب: مجھے کبھی انھوں نے اس بارے میں بتایا ہی نہیں ہے۔ یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن میں ان کی سفارش ضرور کروں گا ۔ یہ اچھا بولتے ہیں ان کی ‘انڈرسٹینڈنگ’ بھی اچھی ہے۔
یہ سوال جواب کا سلسلہ جاری تھا کہ عدالت کی کاروائی شروع ہوگئی ۔ سب اٹھ کر کمرہ عدالت نمبر دو کی طرف چل پڑے ۔ عدالت میں بول ٹی وی اور اے آر وائی کے رپورٹرز نے گھیرا ڈال رکھا ہے ۔ عدالت مہلت دیتی ہے تو باہر آتے ہی مشاورت میں بھی سب شریک ہو جاتے ہیں ۔ ایک صحافی خود کو سینئر تجزیہ نگار کے طور پر متعارف کراتے قریب ہوئے اور پھر مشوروں اور نصحیتوں کی بھرمار کر دی۔ احمد نورانی کے ساتھ مشاورت کی بھی اور عدالتی کارروائی کی خبر بھی سیاق و سباق سے ہٹا کر مسلسل ان دونوں چینلز پر رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے ۔ عدالتی کارروائی کے اختتام پر جب مہمان خاص کی واپسی کا وقت ہوا تو بول اور اے آر وائے کے رپورٹرز نے پھر موبائل کیمروں، تندوتیز جملوں اور سوالات سے ہلہ بول دیا جس کا عدالتی مہمان نے خندہ پیشانی سے سامنا کیا۔ ایک چینل کے صحافی سوالات ایسے پوچھ رہے تھے جیسا کہ کسی تفتیشی ایجنسی کے اہلکار ہوں۔ مہمان یہ سب ہوتا دیکھ کر موقع ملتے ہی آخری بار سلام کرتے ہیں اور پھر منی ٹریل سے متعلق سوال کی گونج بھی ان کا پیچھا کر رہی ہوتی ہے لیکن شاید وہ سوال جواب کی نشست میں پہلے یہ بتا چکے تھے کہ عمران خان کے پاس الزامات کا اگر کوئی ثبوت ہے تو وہ عدلیہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا کیس فائل کریں ورنہ جو اے آر وائی کے ساتھ لندن میں جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر ہوا اس کے لیے تیار رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ کاش ہماری عدالتیں فیصلے جلدی دیا کریں تو پھر کوئی جھوٹے الزامات نہ لگا سکے۔ جس طرح کے الزامات ہمارے خلاف پاکستان میں لگائے جاتے ہیں لندن میں بالکل بھی ایسا نہیں دہرایا جاتا ۔ شاید وجہ یہ ہے کہ وہاں کی عدلیہ فیصلے دینے میں تاخیر نہیں کرتی ۔ مہمان خاص نے تجاویز کو سراہا اور بہتری کا وعدہ کرتے ہوئے اگلی پیشی تک خدا حافظ کہہ کر ہنستے مسکراتے واپس روانہ ہوگئے۔

متعلقہ مضامین