میر شکیل اور جسٹس کھوسہ

احساس/ اے وحید مراد
ہم جیسے ’چھڑے‘ جو ناشتہ بھی سپریم کورٹ میں کرتے ہیں ان کو صبح سویرے رپورٹروں کیلئے مختص عدالت عظمی کے کمرے میں بھیڑ ناگوار گزرتی ہے ۔ چوبیس جنوری کی صبح ساڑھے نو بجے عدالت عظمی کے احاطے میں داخل ہوا تو ہرطرف بول نیوز کے رپورٹرز موبائل فون کے کیمرے کھولے گھومتے نظر آئے۔ جیسے ہی ان کا مطلوبہ ’شکار‘ جنگ گروپ کے مالک میرے شکیل الرحمان پارکنگ سے اندر آنے لگے ان پر شکروں کی طرح جھپٹ پڑے۔ ہر ایک اونچی آواز میں بول کر اپنی آواز ’مالکوں‘ تک پہنچانے میں جت گیا ۔ بول نیوز سے منسلک رپورٹروں کی ’مجبوری‘ سمجھ میں آنے والی تھی، مگر ہمارے دوست طیب بلوچ نے میر شکیل الرحمان سے سوال نما چیز پوچھی کہ ’آپ نے اپنے ضمیر کا سودا کتنے میں کیا‘؟۔ سوال کم اور تبصرے یا طنز بھرے جملے اچھالتے رپورٹرز میر شکیل الرحمان کو لے کر عدالت کی عمارت میں داخل ہوگئے۔
میرشکیل، میر جاوید اور احمد نورانی کے خلاف مقدمے کی سماعت کیلئے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت مقرر تھا۔ جنگ گروپ سے منسلک صحافی میر شکیل الرحمان کو صحافیوں کیلئے مختص کمرے میں لے گئے۔ اور پھر وہاں پاﺅں رکھنے کی جگہ نہ بچی۔ مجھے کینٹین سے منگوایا گیا ناشتہ دوسرے کمرے میں بیٹھ کر زہرمار کرنا پڑا ۔ دوبارہ ایسوسی ایشن کے کمرے کا رخ کیا تو اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ ہر ایک میر شکیل کی ’نظروں‘ میں آنے کیلئے اپنی نشست سے بھی پنجوں کے بل اوپر اٹھ کر بلکہ آگے جھک کر بات کرنا چاہ رہا تھا۔ دروازے سے ہی واپس آ گیا۔

عدالت کی راہداریوں میں گشت شروع کی تو دنیا ٹی وی کے ایک شرارتی رپورٹر یاسر ملک آئے اور کہا کہ آپ یہاں گھوم رہے ہیں، وہاں کمرے میں کوئی نچلا بیٹھنے کو تیار ہی نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ’ٹی سی باز‘ تبصرہ نگاروں کی محفل میں میر شکیل الرحمان حیران و پریشان ہے کہ کس کی سنے اور کس کی طرف دیکھے۔ یاسر نے اصرار کیا کہ میرے ساتھ چلیں اور یہ تھیٹر دیکھیں یا پھر کوئی ’میزائل‘ ہی اس محفل پر داغ آئیں۔
چار و ناچار کمرے کا رخ کیا۔ دروازے میں بڑی مشکل سے خود کو پھنسایا اور سننے لگا۔ گفتگو ہمارے دوست اور ساتھی عبدالقیوم صدیقی کے فیس بک لائیو پروگرام ’اے کیو ایس‘ کے گرد گھوم رہی تھی۔ دوست رپورٹرز میر شکیل الرحمان کو بتا رہے تھے کہ صدیقی صاحب کا پروگرام بہت مقبول ہے اور ہزاروں لوگ فیس بک پر دیکھتے ہیں، آپ ان کو جیونیوز پر کوئی ٹاک شو کیوں نہیں دیتے؟۔ میرشکیل الرحمان یہ تعریف سن رہے تھے۔ میں نے معذرت کرکے سب کو مخاطب کیا اور عبدالقیوم صدیقی سے کہا کہ آپ اپنے دوستوں سے پوچھیں کہ اگر جنگ گروپ/جیونیوز سے وابستہ نہ ہوتے تو آپ کو کتنے لوگ پہچانتے اور آپ کا فیس بک لائیو کیسے چلتا؟۔ کیا عبدالقیوم صدیقی کی اس کامیابی کے پیچھے جنگ گروپ کا نام نہیں؟۔ عبدالقیوم صدیقی ابھی جواب کیلئے مناسب الفاظ ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ میں نے میرشکیل الرحمان کو مخاطب کرکے کہا کہ ’صحافت کا طالب علم ہوں، بارہ پندرہ برس سے یہ پیشہ ہے، میرے پاس آپ کو دینے کیلئے ایک ہی کریڈٹ ہے، اور وہ یہ کہ صحافیوں کے سورما لیڈروں کو آپ نے مجھ جیسے طالب علم کے سامنے ایکسپوز کیا ہے، ہر لیڈر آپ نے ملازم رکھا ہوا ہے‘۔ میرشکیل الرحمان شاید کچھ حیران ہوئے اور پھر الفاظ کا چناﺅ کرتے ہوئے جواب دینے لگے کہ ایسا نہیں ہے، میرے میڈیا ہاﺅس میں مختلف یونین کے لوگ ہیں، دیگر اداروں میں بھی یہ لیڈر ہیں، ہم لوگوں کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر لیتے ہیں۔
میرشکیل الرحمان کے اس جواب پر ذہن میں تبصرہ تو موجود تھا کہ جناب نے کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک ’صحافی لیڈر‘ کو دبئی میں ڈیل کے بعد کس ٹیلنٹ کی بنیاد پر لیا مگر وہ صحافی نما شخص پر ذاتی حملہ تصور کیا جاتا ۔ میری بات پر بول ٹی وی سے منسک خاتون رپورٹر نے میرشکیل سے اسی ’لیڈر‘ کے بارے میں پوچھ لیا کہ جب جیو پر مشکل وقت آتا ہے تو وہ باہر نکل آتا ہے مگر بول نیوز کیلئے وہ ’لیڈر‘ سامنے نہیں آیا ۔ خاتون کے سوال پر میرا تبصرہ تھا کہ یہ سوال اسی ’لیڈر‘ سے کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ تاہم اسی دوران کچھ رپورٹر اپنے ’لیڈر‘ کی طرف سے جواب دینے کیلئے بولنے لگے اور کمرے میں شور اٹھ گیا تو میں باہر نکل آیا۔
سماعت کا آغاز ہوا تو سب لوگ کمرہ عدالت میں پہنچ چکے تھے جہاں جسٹس آصف کھوسہ کو اپنی کچھ وضاحتیں دینا مقصود تھا۔ انہوں نے آف دی ریکارڈ کہہ کر پانامہ کیس کی آخری سماعت کا ذکر کیا۔ کہا کہ میں نے اس دن کہا تھا کہ ایسا فیصلہ دیں گے کہ اگر بیس برس بعد بھی کوئی پڑھے تو قانون کے مطابق ہو۔ لیکن میری بات کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا، تبصرے کیے گئے کہ بیس سال تک یاد رکھنے والا فیصلہ کیوں؟ اکیس سال تک کیوں نہیں کہا؟ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر تبصرے کیے گئے۔ میری غلطی یہ تھی کہ انگریزی میں بول گیا تھا اور شاید بہت سے لوگ سمجھ نہیں پائے تھے۔
کچھ دیر بعد احمد نورانی کو معافی مانگنے کیلئے مناتے ہوئے جسٹس آصف کھوسہ نے ایک اور واقعہ بھی سنایا اور اس کو بھی آف دی ریکارڈ کہا۔ جسٹس کھوسہ نے احمد نورانی کو معافی مانگنے میں متذبذب دیکھ کر کہا کہ چند برس قبل ایک امریکی جیٹ فائٹر نے چینی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو اسے لڑاکا طیاروں نے گھیر کر اتار لیا۔ اب چین نے امریکا سے کہاکہ وہ معافی مانگ لے تو معاملہ ختم کردیں گے۔لیکن امریکا چونکہ خود کو سپرپاور سمجھتا ہے تو اس نے نہ مانا۔ اسی دوران چینی صدر اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک گئے۔ وہاں صحافیوں نے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے کہاکہ معافی مانگنا کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں، چین میں تو گلی میں گزرتے کسی کا کندھا ٹکرا جائے تو وہ دوسرے کو ’آئی ایم سوری‘ کہہ دیتا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اس کے بعد وہ معاملہ ختم ہوا۔
خیر احمد نورارنی جسٹس کھوسہ کی اس ’آف دی ریکارڈ‘ کے جھانسے میں نہ آئے تو سماعت کے اختتام پر توہین عدالت کا ایک اور نوٹس لے کر واپس ہوئے۔ یہ سب آپ گزشتہ روز پڑھ چکے ہیں۔ عدالت کے باہر میر شکیل الرحمان نے صحافیوں کیلئے مختص کمرے والی ایسوسی ایشن کے صدر طیب بلوچ کو ساتھ لیا اور ایک طرف جاکر اسے پانچ لاکھ فنڈز دینے کی یقین دہانی کرا دی۔ (طیب بلوچ ہمارے وہی دوست ہیں جنہوں نے صبح عدالت کے احاطے میں میرشکیل سے ضمیر کاسوداکرنے کا ریٹ پوچھا تھا)۔
میر شکیل الرحمان کو اپنے اور پرائے سارے صحافیوں نے ایک بار پھر گھیرا ۔ اس دوران ’مشہور و معروف‘ تجزیہ کار اسد کھرل نے تبصرہ داغا کہ ابھی تو آپ کے خلاف سب سے اہم کیس کھلا ہی نہیں، کسی نے پوچھا وہ کون سا ہے؟ تو اسد کھرل نے جواب دیاکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں نوازشریف کو صاف شفاف قرار دینے کی جو لیڈ اسٹوری شائع کی تھی، اس کی بات کررہاہوں۔اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتا میں نے اسد کھرل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ حضور، آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے اس پر اگلے دن جنگ اخبار نے صفحہ اول پر معافی مانگ لی تھی، اب آپ بتائیے کہ جناب کی جو روز’بریکنگ نیوز ‘ باﺅنس ہوتی ہیں تو زندگی میں کبھی ایک بار بھی معافی مانگی؟۔ دوستوں کے قہقہے گونجے اور بات آئی گئی ہوگئی۔ سینئر تجزیہ کار مگر اپنے تجزیے بکھیرنے پر مصر تھے اور میرشکیل الرحمان کے گرد ’اٹھانے‘ والوں کا ہجوم تھا، میں خاموشی سے نکل آیا۔
(مجھے نہیں معلوم کہ گزشتہ روز تعریفیں کرنے والے کتنے رپورٹروں کو میرشکیل الرحمان اپنے میڈیا ہاﺅس میں ملازمت دیں گے، تاہم اتنا جانتا ہوں کہ گزشتہ سال بول ٹی وی کے ایک درجن’حکام‘ کو عدالت میں دروازے سے اختتام تک پروٹوکول فراہم کرنے والے ہمارے ایک دوست کو ’محنت‘ کا پھل آٹھ ماہ بعد بول میں جاب کی صورت مل چکا ہے۔ دوست اتنا کمینہ ہے کہ مجھے ’نوکری‘ حاصل کرنے کا وہ فن بتانے کیلئے تیار ہی نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے