نواز شریف، پرویز مشرف اور نیب

نیب کو کسی کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے ہدایات دینا فئیر ٹرائل کے خلاف ہے تو سپریم کورٹ نے پانامہ کیس میں نواز شریف کے خلاف نیب کو ہدایات کیسے دیں؟ کیا نواز شریف کے ہونے والے ٹرائل کو ان فئیر کہا جائے؟ یہ سوالات آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں پروپر مشرف کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران اٹھائے گئے _

ہائی کورٹ نے پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپانے پر کارروائی کیلئے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے _
کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی پرویز مشرف کیخلاف درخواست کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،
دوران سماعت درخواست گزار نے استدعا کی کہ پرویز مشرف نے کاغذات نامزدگی میں ایک ارب کے اثاثے ظاہر کئے، تنخواہ سے اتنے اثاثے کیسے بنائے گئے، نیب کو تحقیقات کا حکم دیا جائے،، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نیب کو کسی کیخلاف تحقیقات کا حکم نہیں دے سکتی، نیب کو عدالت سے ہدایات جاری کرنا فیر ٹرائل کیخلاف ہے، درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف کے کیس میں سپریم کورٹ نے یہ ہدایات کیسے جاری کیں، اگر سپریم کورٹ نواز شریف کے کیس میں نیب کو ہدایات دے سکتی ہے تو یہاں ہائیکورٹ کیوں نہیں، عدالت نے قانون کے مطابق دیکھیں گے یا نہیں کیا کرنا ہے کے ریمارکس دیتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا،،اب ہائی کورٹ نے تو کہہ دیا کہ نیب کو ہدایات دینا فئیر ٹرائل کے خلاف ہے، تو کیا نواز شریف ٹرائل میں نیب کو براہ راست سپریم کورٹ سے ملنے والی ہدایات سے قانونی طور پر ٹرال ان فئیر نہیں ہورہا،،.. ہائی کورٹ کا محفوظ فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button