سازش کی کہانی

احساس/ اے وحید مراد
پانج جنوری کو پنجاب کے ضلع قصورمیں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ سات برس کی معصوم بچی زینب انصاری اغوا ہوئی اور چار یوم کے بعد گھر کے قریب کوڑے کے ڈھیر سے اس کی نعش ملی ۔ سوشل میڈیا پر اس واقعہ نے غم وغصے کو جنم دیا تو ٹی وی چینلز نے اپنی اسکرینیں بریکنگ نیوز کی سرخیوں سے دہکا دیں۔
کیا عام لوگ، کیا سیاست دان، کیا صحافی، ہرایک اس لرزہ خیزقتل سے دہل کر رہ گیا۔ پنجاب حکومت اور پولیس سخت تنقید کی زد میں آئی تو حکام کی دوڑیں لگ گئیں ۔ سینکڑوں مشتبہ افراد سے تفتیش ہوئی، درجنوں حراست میں لیے گئے اور گیارہ سو کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے تجزیے کیلئے لیبارٹری بھجوائے گئے ۔ زینب کو ریپ کے بعد قتل کرنے والے سفاک انسان کی گرفتاری کیلئے بے تاب معاشرے کے ہر فرد پر ایک ایک لمحہ بھاری گزرتا رہا۔ اس دوران صحافی انسانی زخموں کے تاجربن کر اپنی خبریں بیچتے رہے، اور حزب مخالف کے سیاست دان مردار خور گدھ بن کر ٹی وی اسکرینز کو اپنی مکروہ شکلوں اور اخبارات کو تعفن زدہ بیانات سے سیاہ کرتے رہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی کرسی کی مضبوطی کیلئے ہرکاروں کو دوڑاتے رہے کہ ملزم پکڑو، خواہ کوئی بے گناہ ہی کیوں نہ ہو۔
صد شکر کہ اس بار کسی بے گناہ کو ‘شہبازی مقابلے’ میں ماورائے عدالت مارنے سے قبل ہی ڈی این اے کے تجزیے کی رپورٹ آگئی اور شواہد کی بنیادپر ملزم عمران علی گرفتار ہوا، اس میں دو ہفتے کی تاخیر زیادہ اہم نہ ہوتی اگر قصور میں مشتعل مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے دو انسانی جانیں ضائع نہ ہوتیں ۔ ماضی میں ایسے واقعات پر عزت وغیرت کی چادریں ڈالی گئیں یا پھر جعلی مقابلے میں بے گناہ نوجوانوں کو مجرم بناکر عدالت میں پیش کرنے سے قبل ہی مار کر مقتولین کو ’انصاف‘ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ملزم کی گرفتاری سے معاشرے کے ذی شعور افراد نے سکھ کا سانس لیا۔ اور پولیس کو تالیاں بجا کر داد پر حکمرانوں کو شرم بھی دلائی۔ غیرمتوازن معاشرے میں یہ ایک اچھا شگون تھا۔ مگر خوشی اور سکون کا یہ مختصر دورانیہ بھی ہیجان پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھایا ۔ چوبیس جنوری کی رات آٹھ بجے ایک میڈیائی ڈاکٹر نے فیس بک، ٹوئٹر سے کچھ سازشی کہانیوں پر مبنی ’لائنز‘ اٹھائیں اور اپنے ٹی وی پروگرام کو ’چارچاند‘ لگا دیے۔ رات بھر پاکستان اور بیرون ملک مقیم ’محب وطن‘ افراد نے میڈیائی ڈاکٹرکی ’لائنز‘ کو بہت بڑی تحقیقاتی خبر بنا کر پیش کیا، اور اس اہم پیش رفت پر ’تشویش‘ ظاہر کرکے سوموٹو کی تلوار سے ’تفتیش‘ اکھاڑنے کے لیے ہاہاکار مچائی۔
صبح ہوئی تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جو آج کل خود کو بابا رحمت سمجھتے بلکہ پکارتے ہیں، نے رات کو موصول شدہ ’واٹس ایپ‘ ویڈیو کو کھلی عدالت میں نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ پچیس جنوری کو سارے ’محبان وطن‘ کی آنکھیں بابا رحمت والی سپریم کورٹ پر تھیں، اور کمرہ عدالت نمبر ایک میں بیٹھے چیف جسٹس اور ساتھی ججوں کی نگاہیں سامنے دیوار پر لگی اسکرین پر جمی تھیں جہاں میڈیائی ڈاکٹر کے پروگرام کا واٹس ایپ پر موصول شدہ ’ٹوٹا‘ دکھایا جا رہا تھا۔ اور پھر ججوں نے سادہ کاغذ بلکہ ایک چٹ پر ایک وفاقی وزیر سمیت دو ’اہم ملزمان‘ کے نام میڈیائی ڈاکٹر سے لیے اور اپنی جیب میں ڈال دیے۔ تین دن گزرنے کے باوجود معلوم نہیں اتنے ’اہم ملزمان‘ سے تفتیش کیلئے بابا رحمت نے کوئی جے آئی ٹی کیوں نہ بنائی؟۔ پانچ چھ ہیرے تلاش کرکے اس میں شامل کیوں نہیں کیے؟۔
سٹیٹ بنک پاکستان نے ملزم عمران علی کے شناختی کارڈ کی چھان پھٹک کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرکے یہ مژدہ سنایا کہ 37 تو کیا ایک بھی اکاﺅنٹ نہیں ۔ ڈالر، یورو اکاﺅنٹس، ڈارک ویب، وائلنٹ پورنوگرافی، عالمی گروہ اور اہم شخصیات کی پشت پناہی سے کام کرنے والاملزم عمران علی بے یارو مددگار پنجاب پولیس کی تفتیش کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا تو میڈیائی ڈاکٹر کو مختلف چینلوں کے اینکروں نے گھیر لیا۔ سب سے بڑی خبر دینے والے ڈاکٹر نے وہاں ایک بار پھر اعلان کیاکہ وہ ملزم عمران علی کو تنہا نہیں ’چھوڑے‘ گا، میڈیائی ڈاکٹر نے کہا کہ سپریم کورٹ نہ مانے تب بھی ’اہم شخصیات‘ اور عالمی گروہ کو نہیں بخشے گا۔
سٹیٹ بنک رپورٹ کے بعد سب کی توجہ کا مرکز سپریم کورٹ اور چیف جسٹس تھے۔ زینب قتل کیس پیر کو اسلام آباد میں سنا جانا تھا۔ چیف جسٹس نے تاریخ اور مقام تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ مقدمہ اتوار کو لاہور منتقل کر دیا گیا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ چیف جسٹس نے میڈیائی ڈاکٹر کو سبق سکھانا ہے۔ عدالت میں جھوٹ بولنے پر پکڑنا ہے، اور جیب سے چٹ نکال کر اسے آگ لگا دینی ہے ۔ مگر ٹھہریے، ایسا نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کہ چیف جسٹس نے اتوار کو پیشی کیلئے میڈیائی ڈاکٹر کے بعد درجن بھر دوسرے میڈیا مالکان اور صحافیوں کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ ڈاکٹر پر ذمہ داری عائد کرکے معافی طلب کرنے یا سزا دینے کے بجائے سارے میڈیا مالکان اور صحافیوں کو ’اپنی ذمہ داریاں‘ سمجھنے اور سمجھانے پر لیکچر دیا جائے گا۔
سازشی کہانی کے مطابق ’لائنز‘ دینے والوں نے اپنے مہرے کو استعمال کیا، بابارحمت سے ’ازخود‘ کرایا، اس طرح گزشتہ کئی ماہ سے تنقید کی زد میں آئے ’محکموں‘ اور عدلیہ کے بعد اب حساب چکانے کیلئے میڈیا کو بھی ’برابر‘ کرنے کی باری ہے۔ سپریم کورٹ میں کل اٹھائیس جنوری کو ہونے والی سماعت اور اس میں ججوں کی طرف سے دیے جانے والے ریمارکس پر نظر رکھیں۔ اور ہاں، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کبھی کسی میڈیائی ڈاکٹر کی ’عزت فضائی‘ نہیں کرے گی، سزا دینا تو بہت دور کی بات ہے۔

معلوم نہیں میڈیائی ڈاکٹر کی دھمکی کے بعد بھی عالمی چائلڈ پورنوگرافی نیٹ ورک اپنا کام جاری رکھے گا یا پھر عمران علی کے 37 بینک اکاؤنٹس بند کر کے غائب ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین