ڈاکٹر شاہد کیس میں میڈیا کی پیشی

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے تین ججوں، پچاس سے زائد صحافیوں اور سینکڑوں افراد کے سامنے اپنی خبر پر درجنوں بار مؤقف بدلے، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد کا جھوٹ ثابت ہوا تو دہشت پھیلانے، عدالت سے جھوٹ بولنے پر گرفتاری اور توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے،

ڈاکٹر شاہد مسعود نے جب عدالت میں کہا کہ وہ ملک سے باہر چلے جائیں گے تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس طرح نہیں جانے دیں گے _

ہم اسلام آباد سے صبح پانچ بجے لاہور پہنچے اور اس میں قصور وار موسم رہا کہ دھند کی وجہ سے موٹروے سے اترنا پڑا _ ساڑھے دس بجے عدالت کے ہال میں جب جج داخل ہوئے تو کھوے سے کھوا چھل رہا تھا، درجنوں سینئر صحافی اور اینکرز بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈھ رہے تھے، میڈیا مالکان کو دیر سے آنے پر بڑی مشکل سے بیٹھنے کیلئے نشستیں مہیا کی گئیں ۔

عدالت کو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عاصمہ حامد نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ گئی ہے، ڈاکٹر شاہد تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے، ملزم عمران کے ۳۷ بنک اکاؤنٹس کی خبر غلط ہے ۔ چیف جسٹس نے عدالت کے روسٹرم پر کھڑے تمام غیر متعلقہ افراد اور وکیلوں کو ہٹ جانے کیلئے کہا ۔ چیف جسٹس نے درجن سے زائد سینئر صحافیوں اور میڈیا مالکان کے نام لے شکریہ ادا کیا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملزم کے بنک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کیا مکمل ہو گئی ہے ؟ پنجاب حکومت کی وکیل عاصمہ حامد نے کہا کہ رپورٹ جمع کرادی ہے، ڈاکٹر شاہد نے کہا تھا کہ ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ ۳۷ اکاؤنٹس ہیں جن میں کروڑوں، اربوں ڈالر ہیں ۔  انہوں نے وزیر سمیت دو افراد کا بھی کہا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد نے مجھے بھی دو نام دیے ہیں جو صرف ان کو یا مجھے معلوم ہیں ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد نے وفاقی وزیر اور ان کے دوست کا نام دیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کاپہلا مقدمہ ہے، معلوم نہیں کتنا وقت لگے گا، ہوسکتاہے رات تک بیٹھنا پڑے۔ عاصمہ حامد نے نیوز ون کے ایم ڈی کو بھی نوٹس جاری کیاتھا، سٹیٹ بنک کی رپورٹ بھی آئی ہے ۔چیف جسٹس نے پوچھاکہ کسی موبائل اکاﺅنٹ کا بھی ڈاکٹر شاہد نے ذکرکیاتھا، وہ کیاہے؟۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے عدالت کوبتایاکہ ایزی پیسہ اکاﺅنٹ ہوتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تفتیش کرنا اور چالان دینا پولیس کاکام ہے۔ پولیس افسر نے عدالت کوبتایاکہ ڈاکٹرز نے ڈی این اے رپورٹ دی ہے، ملزم کو چوبیس جنوری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، چودہ دن کاریمانڈ حاصل کیاہے، مکمل سیکورٹی دی جارہی ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ نوے دن تک تفتیش کرکے چالان پیش کرنے کی قانون میں اجازت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوے دن کا وقت نہیں دے سکتے۔ آئی جی نے کہاکہ کوشش ہے کہ دس دن میں چالان پیش کردیں۔جسٹس منظور ملک نے کہاکہ ڈی این اے رپورٹ بہت اہم اور مضبوط ثبوت ہے۔نوے دن زیادہ سے زیادہ مدت قانون نے دی ہے جو انتہائی مشکل او ر پیچیدہ کیس کیلئے ہوتاہے۔ جے آئی ٹی کے پاس دس دن ہیں یہ تفتیش مکمل کرکے چالان پیش کریں۔
چیف جسٹس نے کہاکہ زینب کے والد پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔زینب کے والد اور وکیل کوئی پریس کانفرنس نہیں کریں گے، ان کی میڈیا سے بات کرنے پر پابندی ہے۔ زینب کے والد حاجی امین نے اثبات میں سرہلایا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب زینب قتل کیس میں خود ٹرائل کورٹ میں پیش ہوں اور ان کی ٹیم بھی ساتھ ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہاں تک اس مقدمے کا ایک حصہ مکمل ہوگیا ہے کہ تفتیش مکمل کرکے چالان پیش کیاجائے تاک ٹرائل آگے بڑھے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ اب آتے ہیں شاہد مسعود صاحب کی طرف، گزشتہ سماعت کے بعد ڈاکٹر شاہد نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے جو گفتگو کی تھی اس کی ویڈیو عدالت کے پروجیکٹر اسکرین پرنشر کی جائے۔ ویڈیو چلائی گئی تو اس میں ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے دعوے دہراتے نظر آئے اور عدالت میں موجود لوگوں کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ رہی جبکہ اس دوران شاہد مسعود نے ایک بار بھی اسکرین کی طرف نہ دیکھا، ان کی نگاہوں پر مرکز صرف تین جج رہے ۔ ویڈیو ختم ہوتے ہی عدالت میں خاموشی چھاگئی۔اس سناٹے کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی آواز نے توڑا کہ ڈاکٹر صاحب، جو باتیں آپ نے کی ہیں ان کو ثابت کرنا آپ کے ذمے ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ آپ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے، تعاون نہیں کیا، ہم نے جے آئی ٹی آپ کے انکشاف پر بنائی تھی۔ عدالت میں آپ نے تمام باتوں کو زور دے کردہرایا تھا۔
شاہدمسعود نے کہاکہ مجھے بولنے کیلئے کتناوقت دیں گے؟۔چیف جسٹس نے کہاکہ جتنا وقت چاہیے لے لیں مگر غیر متعلقہ بات نہ کریں۔
اس کے بعد شاہد مسعود نے اپناتعارف کرایاکہ میرانام شاہد مسعود ہے میں ڈاکٹر نہیں ہوں، دوہزار ایک میں جب پہلی بار نجی میڈیا آیا تو لندن میں تھا، سندھ میڈیکل کالج سے پڑھا۔ سب سے پہلے جس صحافی نے ملاقات کی وہ مظہرعباس تھے ، وہ مجھ سے ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے رہنمائی لیتے تھے۔اس دوران پاکستان کے پہلے چینل کا سب سے پہلا ڈائریکٹر نیوز بنا۔ (اسی دوران عارف حمید بھٹی نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے ایسی آواز لگائی جیسے کسی تھڑے پر بیٹھے ہوں اور چیف جسٹس نے ان کو جواب بھی دیا)۔

شاہد مسعود نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سرجري ميں ماسٹر کر رہا تھا، وہاں سے چھوڑ کر ميڈٰيا ميں آ گيا۔انٹرنيشنل ريليشن اور سيکورٹي ايشوز پر تعليم حاصل کي،افسوس ہے کہ آپ کي عدالت کے تاريخ ساز فيصلوں اور مقدمات کي سماعت ميں پيش نہ ہو سکا ليکن افتخار چودھري کے دور ميں ايک خبر دي تھي جس پر از خود نوٹس ہوا، رات 12 بجے بيپر دياتو عدالت لگي کہ ججوں کو ہٹانے کا نوٹيفيکشن جاري کيا جا رہا ہے۔چيف جسٹس نے فورا کہا کہ بعد ميں پتہ چلا ايسي کوئي خبر نہيں تھي،وہ سوا دس بجے کا واقعہ ہے،رات 12 کا نہيں۔شاہدمسعود نے کہا کہ نوٹيفکيشن تيار تھا بس دستخط شدہ نا تھا۔ميں پچھلے دنوں ميں شام اور کويت سميت خليجي ملکوں ميں گيا جس طرح ہم اے ٹي ايم سے پيسےنکلتے ہيں تو ميسج آتا ہے اس طرح ڈارک ويب کے ويب سائٹ بھي کام کرتي ہيں۔جے آئي ٹي کا پہلا نوٹس پرسوں شام کوملا ليکن جے آئي ٹي کے سامنے پيش کيوں ہوں؟کراچي ميں بے گناہ لوگوں کومارنے والا راوانوار بھي جے آئي ٹي کا سربراہ تھا،کيا ڈٰي پي او قصور اور ڈي پي او شيخوپورہ کے سامنے پيش ہوں؟ْ؟؟زينب سميت قتل کي گئي ديگر بچيوں کي ريکي کي گئي،جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا جس خبر دي تھي اُس پر قائم ہيں؟شاہد مسعود نے کہا ہاں قائم ہوں،قصور ميں 300 بچوں کي وڈيو بني ان کا کچھ نہيں ہوا۔ضيا شاہد نے بھي اپنے پروگرام ميں اس کا ذکر کيا،بتايا جائے عمران نے بچي کوکدھررکھا،بچي پر تشدد کيا گيااس بارے ميں جے آئي ٹي نے نہيں بتايا۔چيف جسس نے کہا کہ آپ اپنے سورس کي خبر کو ثابت کريں،يہ آپ کے دلائل ہيں يا مفروضے؟ْ؟تفشيش کے معاملے پر بات نہ کريں وہ جاري ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 40اکاونٹ کو چيک کيا گيا وہ تو صرف 40 اکاونٹ چيک کرنے کا لاگ نکلاہے۔شاہد مسعود نے کہا کہ پچھلے سال ايک بے گناہ لڑکے کو قتل کياگيا حالانکہ اصل ملزم عمران ہے،ڈٰي اين اے اور پوٹ مارٹم ڈاکٹر کرتے ہيں،چيف جسسٹس نے کہا آپ بطور صحافي تفتیش کے بارے ميں يہ بات کيسے کر سکتے ہيں۔عدالت ميں صرف اپنے الزامات تک محدود رہيں،اگر جے آئي ٹي پر اعتماد نہيں تو نئي جے آئي ٹي بنا ديتے ہيں،شاہد مسعود نے کہا کہ مظہر عباس بيٹھے ہيں ان سے پوسٹ مارٹم کے بارے ميں پوچھ ليں،صحافي مظہرعباس نے اپنی نشست پر بيٹھے ہوئے ہی جواب ديا کہ مجھے اس بارے ميں کچھ معلوم نہیں  –

شاہد مسعود نے دیکھا کہ کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں مل رہی تو اپنی بے ربط گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ عمران وہ بندہ ہی نہیں ہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ پھر اکاؤنٹس کس کے ہیں؟  چیف جسٹس کے ریمارکس سے گھبرائے اور خود کو نارمل ظاہر کرتے شاہد مسعود نے کہا کہ میں یہاں سے چلا جاتا ہوں، راؤ انوار بھی چلا گیا ہے تو چیف جسٹس نے برجستہ کہا کہ یہاں سے ایسے نہیں جانے دوں گا، میرا نام ثاقب نثار ہے، میرا طریقہ کار اپنا ہے، مفاد عامہ کے لیے کام کرتا ہوں ، اگر آپ جے آئی ٹی کو نہیں بتائیں گے تو میں آپ کو ای سی ایل پر ڈال دوں گا، یہ اب پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، آپ نے جو بات کی ہے اس کو ثابت کرنا ہے، پنجاب حکومت کی جے آئی ٹی آپ کیلئے ختم کر رہا ہوں، آپ کیلئے الگ تفتیشی ٹیم تشکیل دے رہے ہیں ، اب کوئی وزیراعظم اور وزیراعلی ہم سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے درخواست نہ کریں، اب کوئی جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا، کمیشن بنانے سے معاملہ کھوہ کھاتے ڈالنا مراد لی جاتی ہے، سلیم شہزاد کمیشن میں حامد میر نے پیش ہو کر کہا تھا کہ حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ آئی ایس آئی نے کیا ہے یا امریکی شامل ہیں، حامد میر سامنے بیٹھے ہیں، اس لیے جوڈیشل کمیشن سے کچھ نہیں نکلتا _

شاہد مسعود نے کہا کہ اگر ان کا (پنجاب حکومت) کا بس چلے تو یہ میرے اکاؤنٹ میں پچاس کروڑ ڈال کر مجھے پھانسی لگا دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں ہیں سب کے حقوق کا تحفظ کریں گے، آپ کو معلوم نہیں کہ خبر غلط ہونے کے بعد کیا نتائج نکلیں گے کہ آپ نے معاشرے میں دہشت پھیلانے کی کوشش کی ۔

اس کے بعد دنیا ٹی وی کے مالک میاں عامر کو بلایا گیا، انہوں نے جذباتی انداز اختیار کر کے خود کو ایک والد کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ ہم نے لوگوں کو بتایا کہ ان کی بچیوں کا صرف قتل نہیں ہوا بلکہ ویڈیوز بھی بنائی گئیں، ایک شخص نے بغیر کسی ثبوت کے یہ سب کہا، یہ صرف ایک شخص کی بات نپیں، میں شرمندہ ہوں، ہم ایسے لوگوں کو اجازت کیوں دیتے ہیں کہ ٹی وی پر آئیں ۔

اس کے ساتھ ہی میاں عامر نے اجازت چاہی اور اپنی نشست کی طرف جانے لگے تو کرسی پر بیٹھے بیٹھے شاہد مسعود نے ان کی طرف دیکھ کر آواز لگائی کہ آپ آنے والے وزیراعلی ہیں مبارک ہو ۔ میاں عامر نے فورا غصے میں جواب دیا کہ میں لعنت بھیجتا ہوں، آپ پر اور آپ کی ایسی باتوں پر ۔ چیف جسٹس نے اس مکالمے پر سخت ناگواری کا اظہار کیا اور کامران خان سمیت نے صحافیوں نے میاں عامر سے کہا کہ اس شخص کو جواب دینے کی بجائے نظرانداز کر دیں ۔

اس کے بعد ضیا شاہد کو بلایا گیا جو بڑی مشکل سے عدالت میں کھڑے ہوئے اور شاہد مسعود کے ایک دعوے کو سہارا دیا۔ ضیاءشاہد نے عدالت کو بتایاکہ قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی تحقیقات ہوں تو معلوم ہوگاکہ اس کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، سرگودھا سے بیالیس سالہ افتخار گرفتار ہوا، جس نے بتایاکہ تین سو بچوں کی ویڈیوز ناروے کی ویب سائٹ کو فروخت کیں، اسی طرح چونیاں میں تین دن قبل ایک باپ نے اپنے حافظ قرآن بیٹا کو مارا پیٹا جب اسے معلوم ہواکہ اس کی ویڈیوز یوٹیوب پر ہیں۔ ضیاءشاہد نے بتایاکہ میں خود قصور گیاتھا، ویڈیوز کے حوالے سے ڈاکٹر شاہد کی بات کی تصدیق کرتاہوں مگر بنک اکاﺅنٹس کا علم نہیں۔ قصور میں مجھے بتایاگیاکہ مقامی ایم پی اے اس گینگ کی سرپرستی کررہاہے، وہاں ایک سرگرم وکیل بھی ملزموں کی طرف سے پیش ہورہاہے۔ رانا ثناءنے اسے زمین کا معمولی جھگڑا قراردیتے ہوئے کہاکہ میڈیا اچھال رہاہے، میں کہتاہوں کہ قصور میں بااثر لوگ اور ارکان اسمبلی اس کام میں ملوث ہیں اور ملزمان کو تحفظ فراہم کررہے ہیں، انڈیا میں ریپ کرکے قتل کی گئی رادھا کی مثال سب کے سامنے ہے جس کی ویڈیوڈارک ویب پر آئی تھی۔ عدالت کے سوال پر ضیاءشاہد نے کہاکہ شاہد مسعود کیلئے جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے سے متفق ہوں۔
اس کے بعد انسانی حقوق کے کارکن اور صحافی آئی اے رحمان کو بلایاگیا تو چیف جسٹس نے ان کومخاطب کرکے کہاکہ کاش میں آپ کو یہاں چائے پلا سکتا۔ پیرانہ سالی میں کم سننے والے آئی اے رحمان نے پوچھاکہ کیا کہاگیاہے تو چیف جسٹس نے چائے پلانے والی بات دہرائی جس پر کمال آدمی نے زبردست جواب دیتے ہوئے کہاکہ چائے نہیں انصاف چاہیے۔ آئی اے رحمان نے کہاکہ میں کسی صاحب کے خلاف بات کرتے ہوئے شرماتا ہوں، اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیاگیا، یہ افسوس کی بات ہے۔ جس طرح جناب نے کہاکہ اگر یہ سچ ثابت ہوتو سرٹیفیکیٹ اور اگر غلط ثابت ہوئی تو سزا دیں۔ آپ نے پوچھا ہے کہ سزا کیا ہوناچاہیے تو جناب وہ آپ کاکام ہے، قانون کے مطابق کریں۔ چیف جسٹس نے کھری کھری سنیں تو کہاکہ دراصل آج کل زیادہ تر قانون ٹی وی پر چلتاہے تو آئی اے رحمان نے کہاکہ میں ٹی وی پر آنے والا آدمی نہیں ہوں۔ اس کے ساتھ ہی بوڑھے مفکر نے عدالتی روسٹرم چھوڑا ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔
مجیب الرحمان شامی کو بلایا گیا تو بولے کہ تاریخ میں پہلی بار ہواہے کہ سپریم کور ٹ نے میڈیا کو اس طرح طلب کیاہے، کہیں میں اس معاملے میں بات کرکے آپ کی حدود میں مداخلت تو نہیں کررہا۔ چیف جسٹس مسکرائے تو شامی صاحب نے کہاکہ جے آئی ٹی بنائیں، خبر درست ہے توانعام دیں، غلط ہے تو سزا کا تعین کریں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تین قسم کی کارروائی ہوسکتی ہے، انسداددہشت گردی، توہین عدالت اور جھوٹ بولنے پر گرفتاری۔
عارف نظامی کی باری آئی تو انہوں نے کہاکہ آپ نے جو کہہ دیا ہے وہ کافی ہے، یہ بات باعث شرم ہے کہ خبر دینے کے بعد تصدیق کیلئے کہا جا رہا ہے، تحقیق کرکے خبر دینے صحافی کا کام ہے۔ آج میں خود اپنے آپ سے شرمندہ ہوں، ڈاکٹر شاہد کو آن ائیر جانے سے پہلے حقائق معلوم کرنے چاہئیں تھے۔ریٹنگ کی دوڑ میں سب کچھ تباہ ہوگیاہے، میڈیا کے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے، خود بھی اپنا احتساب کرنا چاہیے، اگر چالیس اکاﺅنٹس تھے تو سامنے لائے جاتے۔ اگر اس ملک میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا تحفظ کرناہے تو ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا ہوگا، میڈیا مالکان کو اپنے بزنس کی زیادہ فکر ہے صحافت کی پروا نہیں ۔ جعلی خبریں اس وقت دنیا بھر کا مسئلہ ہیں اور اس پر بات ہورہی ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھاکہ میر شکیل الرحمان کو نوٹس کیا تھا کیوں نہیں آئے؟۔ بتایا گیا کہ وہ کراچی میں ہیں، اپنی جگہ سہیل وڑائچ کو بھیجا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی درخواست پر مبنی نوٹس کو بھی کمانڈ کے طور پر لینا چاہیے۔ سہیل وڑائچ کو بعد میں سنیں گے۔
کامران خان روسٹرم پر آئے تو کہاکہ یہ تاریخی موقع ہے کہ صحافت کو نیا رخ دیدیں، ہمارے لیے یہ بات شرمندگی کا باعث ہے، آج سراٹھانے کے قابل بھی نہیں رہے، اندرون ملک تو جو کچھ ہوا مگر بیرون ملک بدنامی ہوئی۔نجی ٹی وی چینلز پر جو کچھ ہورہاہے اس پر شرمندہ کھڑا ہوں۔جب ٹی وی تبصروں میں چیف جسٹس اور آرمی چیف کی عزت محفوظ نہیں تو عام لوگوں کے بارے میں کیا کہنا۔یہ عظیم الشان اجتماع ہے، یہ صاحب بھی یہاں ہیں۔ قوم کیلئے پریشانی ہے کہ کس طرح طوفان بدتمیزی ہے، کیا آج تک کسی عدالت نے کسی اینکر کے خلاف فیصلہ دیا؟ جس کی پگڑی اچھالی گئی، جس کا منہ کالا کیا گیا، کیا کسی کو انصاف ملا؟ ہم ایک ایک حرف کے جوابدہ ہیں۔
نسیم زہرہ کو بلایا گیا تو انہوں نے کہاکہ یہ ایک مخصوص کیس ہے مگر مسئلہ کافی گھمبیر ہے، حقائق کو دیکھنا اور قوانین کے اندر رہتے ہوئے پیش کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ میرا خیال ہے اور امید ہے کہ اس کیس کے فیصلے سے فائدہ ہوگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ میں نے بہت عرصہ پہلے آپ کو ایاز صاحب کے ساتھ ایک جگہ رپورٹنگ کرتے دیکھا تھا، جانتاہوں کہ نسیم زہرہ سے غلطی نہیں ہوسکتی۔ نسیم زہرہ نے جواب دیاکہ نہیں جی، مجھ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ ایک واقعہ سناتی ہوں۔ میرا بھائی پائلٹ ہے، ایک بار پوچھا کہ اگر پرواز بہت زیادہ ناہموار ہو جائے تو آپ کو سب سے زیادہ کس کی فکر ہوگی؟ اپنی بیوی اور بچوں کا، اپنی جان کی یا ہم سب کی؟۔ تو اس نے جواب دیاکہ سب سے زیادہ فکر ان لوگوں کی جانوں کو ہوگی جو اس وقت جہاز میں ہوں گے، یہی میری ذمہ داری او رکام ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ اگر خبر غلط ثابت ہوئی تو ڈاکٹر شاہد کس طرح کی سزا کے حق دار ہوں گے؟۔ نسیم زہرہ نے جواب دیاکہ یہ ہم سے نہ پوچھیے جو قانون ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے گا۔

عارف حمید بھٹی کی باری آئی تو روسٹرم پر پہنچتے ہی اپنے مخصوص انداز میں چیف جسٹس کو ایسے مخاطب کیا جیسے بچپن میں ایک ساتھ بنٹے کھیلے ہوں یا پھر وہ کسی چائے کے ڈھابے پر کسی سے بات کررہے ہوں۔بولے کہ جناب آپ نے تین سزاﺅ ں کا کہہ کر ڈرادیاہے، میرا تو بلڈ پریشر ہی کم ہوگیاہے، یہاں صرف شاہد مسعود پر نوٹس لیا ہے مگر صحافت میں ایک مافیا آتاہے،ان پر بھی نوٹس لیں، آٹھ دس لوگوں کو بلائیں،میں آپ کو بتاﺅںگا۔کسی کو نہ چھوڑیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ نہ دس آپ کے رہیں گے اور نہ پانچ میرے رہیں گے۔ عارف بھٹی نے کہاکہ میرے سمیت سب کے اثاثے دیکھیں، ذرائع آمدن پوچھیں، جب اس شعبے میںآئے تو کیا تھے، اب کیاہیں، کمرشل ازم آگیاہے، وزیراعلی پنجاب نے جھوٹی پریس کانفرنس کی، ڈاکٹر شاہد نے جو بتایا وہ بھی اکاﺅنٹس نہیں ہیں، ڈی پی او نے بھی جعلی کارروائی کی، کوئی چالان ہوگیا، کوئی گرفتار ہوا۔ کیا انصاف صرف اسی کیلئے ہے جو پھنس گیا۔ صحافی کی تیس ہزار کی تنخواہ ہے مالکان ویج ایوارڈ کیوں نافذ نہیں کرتے، یہ ضرور دیکھیں کہ پیسے لے کر تو کسی کی تذلیل نہیں کی، صحافت میں روپ بدل کر بہروپیے آگئے ہیں۔ان کو پکڑنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔جلسوں میں عدلیہ کو گالیاں دی جاتی ہیں، نوٹس نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے جذباتی ہوکر کہاکہ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت نوٹس لینے سے نہیں روک سکتی۔ عارف بھٹی نے ڈائس پر زور سے مکے مارکربات مزید آگے بڑھانا چاہی تو چیف جسٹس نے کہاکہ اس کو نہ توڑیں۔
اس کے بعد چودھری غلام حسین کی باری آئی جن کو چیف جسٹس نے تین بار غلام رسول کہاتو انہوں نے تصحیح کی۔غلام حسین نے کہاکہ ڈاکٹر شاہد نے غلط کیا یا درست، اس کا تو علم نہیں مگر سپریم کورٹ نے ایک صحافی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔انہوں نے اپنی خطابت کے جوہر دکھانا شروع کیے تو چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو آپ نے ڈاکٹر شاہد کو جھوٹا ثابت کرنا شروع کردیاہے، ہم نے ابھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔غلام حسین نے کہاکہ جب تک حقائق سامنے نہیں آتے قصور میں بچوں، بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں۔ جو لوگ جلسوں میں عدلیہ اورججوں کو گالیاںدیتے ہیں، تحمل دکھانے کے نام پر آپ ان کو کچھ نہیں کہتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تحمل نہیں ، وقت کا انتظار کررہے ہیں۔
حامد میر نے عدالت کو بتایاکہ ڈاکٹر شاہد نے خود آپ سے کہاکہ نوٹس لیں، جب یہ خبر آئی تو میڈیا اور باہر بھی لوگوں نے اس پر تحقیق شروع کی۔ ہم نے پہلے رات ہی کہہ دیاکہ اکاﺅنٹس کی خبر درست نہیں ہے۔اچھی بات ہے کہ آپ نے درست ہونے پر سرٹیفیکیٹ دینے اورغلطی پر سزا دینے کا آپشن دیاہے، یہ صرف ایک شخص کا انفرادی معاملہ نہیں، میڈیا کے اداروں کا بھی ہے۔ ایک ادارے نے صحافتی پس منظر نہ ہوتے ہوئے بھی ان کو ڈائریکٹر نیوز بنایا، مگر اس ادارے کا اپنابھی صحافتی پس منظر نہ تھا۔ افسوس اس کا ہے کہ دوسرے ادارے نے گروپ کا ایگزیکٹو ڈائریکٹربنا دیا اور وہ صحافتی ادارہ تھا۔میں نے سپریم کورٹ میں صحافیوں کے احتساب اور میڈیا کوڈ آف ایتھکس کیلئے درخواست دائر کی۔میڈیا کمیشن بنایاگیا، رپورٹ آئی اور اب ڈیڑھ سال ہوگیا سماعت ہی نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے کہنے سے قبل ہی ہم نے زیر التواءمقدمات کی بھل صفائی شروع کردی ہے، میڈیا کمیشن کیس بھی آئندہ ہفتے لگے گا۔
حامد میر نے کہاکہ میری درخواست ہے کہ عدالت ڈاکٹر شاہد کیلئے تین نہیں بلکہ چار آپشن رکھے، ان کو معافی مانگنے کا موقع بھی دیاجائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ موقع گزرگیا، اب کیاکہیں گے کہ کس قدر شرمساری ہے، اور کیا یہ کہہ کرمعافی مانگیں گے کہ یہ کام ہی چھوڑ دوں گااور آئندہ یہ کام ہی نہیں کروںگا ۔ اس بات پر عدالت میں کافی دیر تک قہقہے گونجتے رہے۔
حامد میر نے کہاکہ نہیں، گزارش صرف یہ ہے کہ معافی مانگنے کیلئے آج کے دن کی ہی مہلت دیدیں، ان سے بھی گزارش کروں گا کہ معافی مانگ لیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اب ڈاکٹر شاہد دھمکیاں دے رہے ہیں کہ چھوڑیںگے نہیں، پتہ نہیں کس کو نہیں چھوڑیں گے، گزشتہ رات بھی سنا کافی جلال میں تھے، باربار کہہ رہے تھے کہ چھوڑوں گا نہیں۔

عاصمہ شیرازی ۔ کاشف عباسی ۔ آفتاب اقبال ۔ سہیل وڑائچ ۔ مظہر عباس ۔ سلیم بخاری ۔ فہد حسین ۔ منصور علی خان اور دیگر کے بیانات کے ساتھ سماعت کے آخر میں ہونے والے دلچیسپ واقعات ابھی لکھنا باقی ہیں ۔

تفصیلات اپ ڈی کی جا رہی ہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے