یہ عدالت میں کیا ہو رہا ہے

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

چیف جسٹس ثاقب نثار کی عمر 64 برس ہے۔ ان کے ساتھ سپریم کورٹ میں سولہ دیگر جج بھی ہوتے ہیں۔ آج صبح سے عدالت میں ہمیں جو بھاگ دوڑ کرنا پڑ رہی ہے اس میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ایک بات رپورٹ کرتے ہیں تو چار ہاتھ سے پھسل جاتی ہیں۔ ایک خبر دینے کیلئے عدالت کے کمرے سے نکلتے ہیں تو پانچ منٹ میں چیف جسٹس تین مزید نوٹس جاری کردیتے ہیں۔ کوشش ہے کہ ترتیب سے کچھ لکھ کر قارئین تک پہنچا سکوں۔ عدالتی کارروائی پڑھیں۔
سپریم کورٹ نے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کے مدت کے تعین کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت میں قانون دان منیر اے ملک اور علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاہے کہ اس مقدمے میں وہ تمام افراد فریق بن سکتے ہیں جو کسی بھی عدالتی فیصلے کے نتیجے میںنااہل ہوئے ہیں، نوازشریف کو دوبارہ نوٹس جاری کیاہے کہ اپنا موقف بتادیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نااہلی کی مدت اور آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کی تشریح کیلئے دائر چوہ درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین آ گئے ہیں مگر نوازشریف کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہیں، پہلے یہی دونام ذہن میں آئے تھے ، اب پبلک نوٹس کررہے ہیںکہ تمام متاثرہ افراد عدالت آسکتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ ہم نظرثانی درخواست خارج ہونے کے بعد کوئی نظر ثانی پٹیشن نہیں سن سکتے لیکن یہ آئینی درخواستیں ہیں جن میں آرٹیکل باسٹھ کی تشریح کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار سمیع بلوچ کے وکیل بابراعوان نے دلائل میں کہاکہ نااہلی کی تین صورتیں ہیں، ایک نااہلی کسی قانون کے تحت ہوتی ہے، ایک نااہلی کسی سزا کے بعد ہوتی ہے، لیکن سپریم کورٹ نے حدیبیہ فیصلے میں ایسی بات کی ہے جوفوجداری قانون سے مختلف ہے۔ آئین میں رکن پارلیمان کیلئے اچھا کردار، امانت دار، اور اسلامی شعائر کا پابند ہونا ضروری ہے۔ اسلامی شعائر کی تشریح بہت وسیع ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ امیدوار کی اہلیت کے تعین کیلئے ریٹرننگ افسر کے پاس کوئی مواد یا عدالتی فیصلہ موجود ہونا چاہیے۔ بابراعوان نے کہاکہ برے کردار پر بھی کسی شخص کی نااہلی ہو سکتی ہے مگر قانون میں برے کردار کی تشریح موجود نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پاکستان کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے لوگ بھی نااہل ہوسکتے ہیں؟۔بابراعوان نے کہاکہ پاکستان بننے سے قبل کسی نے مخالفت کی ہے تو اس پر نہیں مگر اب کوئی کھڑا ہوکر کہتاہے کہ فاٹا آزادی مانگ رہا ہے، یا فلاں ملک کی طرح آزادی دیں تو تب ریاست کے آئین کے تحت کارروائی ہوگی۔آپ کہتے رہتے ہیں کہ پارلیمان سپریم ادارہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پارلیمان بھی آئین کے تابع ہے۔ بابراعوان نے کہاکہ اب باسٹھ ون ایف پر دلائل شروع کرتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آئین کے ہر لفظ کو الگ پڑھا جائے گا یا اس کو ملا کر دیکھا جائے گا، کیا صادق وامین کو الگ الگ پڑھا جائے گا؟ بابراعوان نے کہا کہ ہر لفظ کی علیحدہ ڈاکٹرائن ہے۔ جسٹس عمرعطا نے پوچھا کہ کیا صادق اور امین کی شرط غیرمسلم پر بھی لاگو ہوگی؟۔ بابر اعوان نے کہا کہ اچھے کردار کا حامل ہونا غیرمسلم کیلئے بھی ضروری ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ نااہلی کیلئے تین فورم ہیں، ٹریبونل، الیکشن کمیشن اورکو ورانٹو کی رٹ ہائیکورٹ میں دائر کی جاتی ہے۔ہم کیس تیسری چوتھی بار سن کر نظر ثانی تو نہیں کرسکتے۔ بابراعوان نے کہاکہ اسی وجہ سے اس عدالت میں ہم سب موجود ہیں کہ اس آرٹیکل کی تشریح کی جائے۔ باسٹھ ون ایف پر پارلیمان میں بحث ہوئی تھی جب اٹھارویں ترمیم کا معاملہ تھا، بطور وزیرقانون کمیٹی میں شامل تھا۔جسٹس عظمت نے پوچھاکہ کیا اس پر پارلیمان میں بحث ہوئی؟۔ بابر اعوان نے بتایاکہ پارلیمان کی کمیٹی میں بحث ہوئی تھی، کمیٹی بھی پارلیمان کا حصہ ہے، پارلیمنٹ دوطرح سے کام کرتی ہے ایک ایوان اور دوسری کمیٹیاں۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ مجھے معلوم ہے کہ دو طرح سے کام کرتی ہے۔ پارلیمنٹ پبلک فورم ہے کیا وہاں بحث ہوئی؟۔ بتائیں کیا وہاں بحث ہوئی؟۔ بابراعوان نے کہاکہ کمیٹی میں بحث ہوئی تھی اور مانتا ہوں کہ وہ زیادہ تفصیلی نہیں تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ٹھیک ہے سن لیا کہ پارلیمان نے بحث کرکے بھی باسٹھ ون ایف کو نہیں نکالا، اس میں کیا نکتہ لانا چاہ رہے ہیں؟۔ کیا آپ جس درخواست گزار کی طرف سے پیش ہورہے ہیں اس کو بھی نااہل کیا گیا ہے؟۔ بابراعوان نے کہاکہ نہیں، میں تاحیات نااہل کرانے کیلئے پیش ہو رہا ہوں۔

بابر اعوان نے استدعا کی کہ دلائل مکمل کرنے کیلئے کل تک مہلت دیں ۔ چیف جسٹس نے بابر اعوان کو دلائل مکمل کرنے کیلئے کل تک مہلت دینے سے انکار کیا تو بابر اعوان نے کہا کہ میری بابا رحمتے سے ملاقات کرا دیں تاکہ دلائل کیلئے مہلت مانگ سکوں ۔ چیف جسٹس نے نہ سمجھتے ہوئے پوچھا کہ کیا کہا آپ نے؟ ( اس دوران جسٹس عظمت سعید دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ہنستے رہے) ۔

بابر اعوان نے دوبارہ بابا رحمت کا پتہ پوچھا تو چیف جسٹس نے کہا کہ بابا رحمت ماں ہے جو ہر وقت دعائیں دیتی ہے، یہاں بھی اور اوپر جا کر بھی ۔ ہم یہ مقدمہ رات سات بجے تک سنیں گے ۔ دلائل آج ہی مکمل کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہمارے سامنے بنیادی معاملہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کا ہے، ہم نے اسی پر وکیلوں کو تفصیل سے سننا ہے، اگر نوازشریف نہیں آتے تب بھی دوسروں کو سن کر فیصلہ دیں گے، بغیر سنے فیصلہ دینے سے بہتر ہوتاہے کہ سب کا موقف سن کر تشریح کی جائے۔
عدالت کے تین رکنی بنچ کے سامنے دلائل میں وکیل بابراعوان نے کہا کہ اس کیس میں فیصلے سے پوری قوم نے متاثرہوناہے، یہ آنے والے سارے وقتوں کیلئے ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جہانگیر ترین یہاں بیٹھے ہیں، نوازشریف کو بھی اس لیے نوٹس کیا ہے، انصاف فراہم کرنے کا یہ اصول ہے کہ سب کو سنا جائے جو متاثرہ ہیں، ہم نے نوٹس بھیجنا ہے، کوئی آئے نہ آئے، اس کی مرضی ہے۔بابراعوان نے کہاکہ یہ پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ جس نے درخواست بھی نہیں دی اس کو بھی نوٹس جاری کرکے سپریم کورٹ خود سے موقع دے رہی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بہت سی چیزیں پہلی دفعہ ہورہی ہیں۔ بابر اعوان نے کہاکہ عدالت صرف آئین کی تشریح کرسکتی ہے، اس میں ترمیم کرنے کی مجاز نہیں، پہلے بھی آئین میں ایک نام آ گیا تھا، بڑی مشکل سے ستائیس سال بعد نکالا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جی، ضیا ءالحق کا نام آئین میں آگیاتھا۔ بابر اعوان نے کہا کہ عدالت آرٹیکل چار کو بھی دیکھ لے جو بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس کا بنیادی حقوق سے تعلق نہیں۔ بابراعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے دس فیصلوں میں اس آرٹیکل کے تحت بنیادی حقوق کی بات کی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا، طریقہ کار (ڈیو پراسیس) کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ کیا آئین کی تشریح کرتے وقت اس کو بطور ٹول (آلہ) استعمال کیا جا سکتا ہے کہ ’ریڈان‘ کیاجائے۔ بابراعوان نے کہاکہ ایسا نہیں کیا جاسکتا، اسی کی تشریح ہوگی جو لکھا ہوا ہے، آئین کے’کامہ‘ کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا، فل اسٹاپ، کومہ کیلئے پارلیمان سے رجوع کرنا پڑے گا۔
بابراعوان نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کی تشریح کرناہے تو فل کورٹ تشکیل دی جائے۔ عدالت پرویزمشرف کی نااہلی کا فیصلہ بھی مدنظر رکھے جس میں کہاگیاکہ آرٹیکل چھ ان سب پر لاگو ہوتا ہے جنہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایمرجنسی پر ساتھ دیا، وہ تمام جج بھی نااہل ہوجاتے ہیں جنہوں نے حلف اٹھایا تھا، اس کو بھی دیکھا جائے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ کبھی اھر کبھی ادھر سے کیس ، فیصلے اور ان کے حوالے پکڑتے ہیں اور کہتے ہیںکہ ان سب کے بھی فیصلے کر دیں۔ بابر اعوان نے کہاکہ جب آپ نے پوری قوم کہاہے تو اس میں مجرم بھی شامل ہیں، جج بھی شامل تھے۔ ندیم احمد کیس میں اٹھارویں ترمیم پر سترہ جج بیٹھے تھے، سندھ ہائیکورٹ بارکیس میں چودہ جج بیٹھے تھے اور پی سی او جج فارغ ہوئے تھے، بھٹو صدارتی ریفرنس کی سماعت بھی نہیں ہوئی، وہ فل کورٹ بھی ہونا چاہیے، آئین کی تشریح کے حالیہ کیس میں بھی سترہ جج بٹھادیں کیونکہ پہلے ہی اس عدالت کے سات جج باسٹھ تریسٹھ پر اپنا فیصلہ دے چکے ہیں، اب یہ پانچ ججوں کا بنچ کیسے سنے گا؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پوری سپریم کورٹ نہیں بٹھاسکتے،یہی پانچ جج سنیں گے۔ پرانے سارے مقدمات جو التواء میں ہیں ان کو بھی لگائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت میں موجود وکیل سے کہاکہ لینڈ ریفارمز والا کیس بھی لگاتے ہیں۔ (جاگیرداری نظام کے خاتمے اور زمینوں کی تقسیم کے اس مقدمے کی سماعت دہائیوں سے نہیں ہوئی)۔

جاری ہے

متعلقہ مضامین