اعتزاز احسن کی چیف جسٹس کو جگتیں

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کے لارجر بنچ میں ڈی ٹی ایچ لائسنس کیس کی سماعت کے دوران میگ کمپنی کے وکیل اعتزاز احسن نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو پچھلے قدموں پر دھکیلنے کی کوشش کی ہے ۔

چیف جسٹس نے اعتزاز احسن اور ان کے معاون کو دلائل جلدی دینے کیلئے اشارتا کہنے کی کوشش کی تو اعتزاز احسن سیدھے ہوگئے  ۔ مطلوبہ صفحہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے اعتزاز کے معاون وکیل گوہر کو چیف جسٹس نے کہا کہ رات کو تیاری کرا لیا کریں، ابھی  میں نے روسٹرم سے ہٹا کر پیچھے بٹھا دوں گا تو پھر کیس گیا (کیونکہ اس عمر میں شاید اعتزاز احسن معاون کے بغیر نہیں چل سکتے) ۔ تو پھر کیس گیا ۔ چیف جسٹس کی بات کا برا مناتے ہوئے اعتزاز احسن نے ترنت جواب دیا کہ پانی، بجلی، ایندھن، جانور اور ٹیکے، ہسپتال۔ یہ سب کچھ دیکھنے کی صلاحیت آپ میں ہے مجھ میں نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جگتیں مار رہے ہیں، یہ سب آپ کیلئے کر رہا ہوں، میری دلی خواہش تھی آپ کی شاگردی کروں۔ آج یہاں بیٹھ کر بھی آپ سے سیکھنے کا خواہش مند ہوں، جس دن آپ کو لگے کہ اپنی حدود اور اختیارات سے تجاوز کر رہا ہوں، چیمبر میں آ کر بتادیجیے گا ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ بہت جلد آپ کے چیمبر میں حاضر ہوں گا ۔ اس دلچسپ مکالمے پر عدالت زعفران زار بن گئی ۔ وکیل طارق محمود نے عدالت میں اٹھ کر کہا کہ بات چیمبر نہیں یہاں ہی ہونا چاہیے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسپیڈ تھوڑی سی بڑھا لیں تو اعتزاز احسن نے کہا کہ میرا معاون گوہر چاہے کھڑا رہے یا بیٹھے، میری اسپیڈ یہی رہے گی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button