راؤ انوار کہاں ہے؟ چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل ازخود نوٹس کیس میں سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ کی سخت سرزنش کی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ راﺅ انوار بس یا گنے کے ٹرک پر چڑھ کر اسلام آباد نہیں پہنچا تھا، کراچی سے جہاز پر آیا تو کیا سندھ پولیس کا سربراہ سو رہا تھا؟ آئی جی کو تو ایسے کیس میں دن رات جاگنا چاہیے۔ عدالت نے مفرور پولیس افسر کی گرفتاری کیلئے تمام خفیہ اداروں کو پولیس سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی۔ پاکستان ۲۴ کے نامہ نگار کے مطابق سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو بتایاکہ راﺅ انوار کسی نجی جہاز پر بیرون ملک فرار نہیں ہوا، ملک میں چار افراد کے پاس نجی جہاز ہیں، انہوں نے بیان حلفی دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے نے بیان حلفی کیوں نہیں دیا، جہاز ان کا ہے تو کسی دوسرے کو آگے کرکے بیان حلفی کیوں دلایا؟ الزام ہے کہ ملک ریاض کے جہاز کے ذریعے گڑ بڑ ہوئی ہے، علی ریاض کا بیان حلفی آناچاہیے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایاکہ ایف آئی اے نے رپورٹ دی ہے کہ راﺅ انوار ملک سے باہر نہیں گیا۔چیف جسٹس نے آئی جی سندھ کو مخاطب کرکے کہاکہ جو پولیس افسر شہریوں کے تحفظ کا ذمہ دارہے اسی نے قتل کیا، الزام پوری ریاست پر ہے کہ شہریوں کو اس طرح قتل کیا جا رہا ہے، ملزم ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوا؟۔ ساری بات کی تفصیل فراہم کریں۔ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بتایاکہ تیرہ جنوری کے پولیس مقابلے میں نقیب محسود مارا گیا اور اس کی شناخت چار دن بعد ہوئی جس کے بعد سوشل میڈیا کی خبروں سے معلوم ہواکہ نوجوان لبرل تھا، دہشت گردی میں ملوث نہیں تھا۔ انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے عبوری رپورٹ میں پولیس مقابلے کو جعلی قراردیا جس کے بعد راﺅ انوار کو معطل کرنے کی سفارش حکومت سندھ کو بھیجی گئی اور ای سی ایل میں شامل کرنے کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھا۔ راﺅ انوار اور ان کی پوری ٹیم کو ملیر تھانے سے ہٹا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ مقدمہ درج کیوں نہیں کیا؟ راﺅ انوار کی گرفتاری کیوں نہیں کی گئی؟۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا پاکستان سے راو انوار کے فرار کے لیے نجی جہاز استعمال ہوا ہے؟  ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ تمام نجی طیاروں کے مالکان نے اپنے بیان حلفی جمع کروا دییے ہیں۔ اس دوران صرف 4 فلائٹس نے بیرون ملک آپریٹ کیا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بحریہ ٹائون کی جانب سے بیان حلفی کس نے دیا ؟ بتایا گیا کہ بیان حلفی سی او کرنل خلیل الرحمان نے جمع کروایا۔ چیف جسٹس نے پوچھا ملک ریاض صاحب نے کیوں نہیں دیا جبکہ جہاز ان کا ہےـ ملک ریاض کہا ں ہیں؟  ملک ریاض کے وکیل نے بتایا کہ وہ ملک سے باہر ہیں اور کمپنی کے سی ای او علی ملک بھی باہر ہیں ۔ کرنل خلیل سی او ہیں ۔ چیف  جسٹس نے کہا کہ میں کسی سی او کے بیان حلفی کو نہیں مانتا،
2 دن تک علی ریاض کابیان حلفی ریکارڈ کا حصہ بنائیں ۔
چیف جسٹس کے پوچھنے پر ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتایا کہ پائلٹس کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ 10فروری تک پہلی رپورٹ آئے گی ۔ ایک ماہ میں مکمل اسکروٹنی رپورٹ دیں گے ۔ عدالت کو ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے بتایا کہ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق راو انوار ملک سے باہر نہیں گئے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قتل کا الزام ریاست پر ہے ۔ الزام کے مطابق ریاست نے قانون سے انحراف کرتے ہوئے قتل کیا۔جن ہر حفاظت کی ذمہ داری تھی ان پر قتل کاالزام ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ راو انوار کا سروس پروفائل عدالت میں جمع کرائیں ۔
عدالت نے نقیب محسود قتل کا پس منظر تفصیل سے بتانے کی ہدایت کی تو آئی جی سندھ نے بتایا کہ ابتدائی معلومات 13 جنوری رات کو ملیں کہ ملیر کے علاقے میں 4 دہشت گرد پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں ۔ ان میں سے دو محمد اسحاق اور نذر جان کی شناخت موقع پرکر لی گئی تھی ۔ 17 جنوری کو تیسری نعش کو نسیم اللہ عرف نقیب اللہ کے طور پر شناخت کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر خبر آئی کہ نقیب لبرل نوجوان تھا اور اس کا دہشت گردی سے واسطہ نہ تھا اس کو بے گناہ قتل کیا گیا ۔ میں نے فوری سی سی پی او کراچی کو مرنے والوں کی شناخت کرنے کا کہا۔ کمیٹی بنائی جس نے 20 جنوری کو عبوری رپورٹ دی جس میں انکاونٹر کو اسٹیج انکاونٹر یعنی جعلی پولیس مقابلہ قرار دیا گیا۔نتیجے میں 20 جنوری کو راو انوار اور اس کی ٹیم کو معطل کر دیا گیا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ رائو انوار کو گرفتار کیوں نہ کیا گیا؟ آئی جی نے کہا کہ مقدمہ درج نہیں تھا اس لیے گرفتار نہیں کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوری مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا۔ راو انوار کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے حاضری یقینی بنانے کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ ایک معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی جا سکتی ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ والدین اور ورثا کے آنے کا انتظار کیا گیا کیونکہ جب بھی پولیس افسر کے کیس میں مقدمہ پولیس کی جانب سے درج ہو تو سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات کیے؟ کیا صرف وزارت داخلہ کو نام دینا کافی تھا؟ بطور سربراہ آپ کو مقدمہ نہیں درج کرانا چاہیے تھا؟ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے کہا کہ آپ نے کمال کی نگرانی کی آئی جی صاحب، راؤانوار کو اسلام آباد ائیرپورٹ پر روکا گیا جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ 20 جنوری کو راؤ انوار کراچی سے اسلام آباد پی کے 300 پر آیا، چیف جسٹس نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال تھا آپ کہیں گے راؤ انوار فلموں کی طرح کسی بس یا گنے کے ٹرک پر آیا ہے ۔ جب وہ کراچی سے نکلا آپ کو علم ہونا چاہیے تھا، راؤ انوار کی بیرون ملک روانگی کو ائر پورٹ پر خاتون افسر نے روکا، سندھ پولیس کیا کر رہی ہے، نقیب کا والد اگر پندرہ دن تک نہ آتا تو کیا مقدمہ درج نہ کرتے ؟۔

چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا معلوم ہے آپ سے متعلق عدالت نے نہ ہٹانے کا حکم دیا تھا، اس حکم پر عدالت کو کتنی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ میں عہدہ چھوڑ دیتا ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میں نے 36 گھنٹے دیے تھے جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس واٹس ایپ کو ٹریس نہیں کر سکی، ہمارے پاس واٹس ایپ ٹریس کرنے کی سہولت نہیں، راؤ انوار میڈیا سمیت بہت سے افراد سے رابطے میں ہیں، عدالت تمام ایجنسیوں کوحکم دے، راؤ انوار کا فون 19جنوری سے بند ہے جب کہ ان کے پاس دوبئی کا اقامہ ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پولیس افسران کے پاس اقامہ ہوسکتاہے، کیا آپ نے سوچا بھی نہیں تھا کہ راؤ انوار باہر جاسکتاہے۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ لکی مروت اور اسلام آباد میں ٹیمیں بھیجی ہیں، راؤ انوار کی آخری پوزیشن ڈھوک پراچہ اسلام آباد ترنول کی ہے۔

چیف جسٹس نے  کہا کہ نقیب سے زندگی کو کسی عام آدمی نے نہیں چھینا، ریاست نے ہی نقیب اللہ سے جینے کا حق چھینا ہے، اب یہ پوری ریاست کی ذمہ داری بن چکی ہے، ممکن ہے راؤ انوار کو واپس لانے میں سال لگ جائے جب کہ بھول جائیں آپ پر کوئی سیاسی دباؤ ہے، ہم پولیس اور انتظامیہ کے تحفظ کے لیے تیار ہیں جب کہ اگر سب معاملات میں عدالت حکم دے تو اختیارات سے تجاوز کا کہا جاتاہے۔

عدالت نے راؤ انوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی لگاتے ہوئے آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کو پولیس سے مکمل تعاون کرنے اور گواہوں کومکمل تحفظ دینے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔

سماعت کے موقع پر نقیب اللہ کے والد کا خط عدالت میں پیش کیا گیا جس میں نقیب اللہ کے والد نے کہا کہ راؤ انوار میڈیا میں بولتا ہے، الحمداللہ پاکستان میں ہوں، پولیس سے پوچھا جائے کہ تفتیش کے دوران وہ کیسے غائب ہوا جب کہ خط میں نقیب کے والد کا کہنا تھا کہ پورا فاٹا آپ کے انصاف کا منتظر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فاٹا والوں کاغم اور خوشی مشترک ہیں، فاٹا والے فکر نہ کریں دل آپ کے لیے دھڑکتے ہیں، کسی دن فاٹا میں عدالت لگا سکتا ہوں۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے نقیب اللہ قتل کیس میں تفتیش کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقیب اللہ محسود کی پروفائل کا جائزہ لیا گیا، بادی النظر میں یہ پولیس مقابلہ جعلی تھا، نقیب اللہ کو پولیس نے 2 دوستوں کے ہمراہ 3 جنوری کو اٹھایا، نقیب اللہ کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نقیب کے دوستوں قاسم اور حضرت علی کو 6 جنوری کو چھوڑ دیا گیا جب کہ پولیس افسران نقیب اللہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار جان بوجھ کر کمیٹی میں شامل نہ ہوئے جب کہ انہوں نے جعلی دستاویزات پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

متعلقہ مضامین