زینب کو نہ بھولیں

جس طرح ہر انسان کو زندگی میں ایک موقع ضرور ملتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو سنوارے یا پھر زندگی میں کی گئی گزشتہ غلطیوں کی تلافی کر سکے اسی طرح مجھے یقین ہے کہ قدرت قوموں کو بھی ایسے مواقع ضرور دیتی ہے کچھ قوموں کو ایک بار اور کچھ کو بار بار ۔۔۔۔اور مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ ہمارا شمار ان قوموں میں ہوتا ہے جن کو یہ مواقع بار بار مل رہے ہیں ۔
ایسے کئی قومی المیے اور سانحات ہوئے جو کسی بھی خواب خرگوش کے مزے لیتی قوم کو جھنجوڑ کر جگا سکیں جیسا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول ۔۔۔جس نے اس قوم کو بلا تفریق رنگ ،مذہب، نسل ،ذات دہشتگردی کے خلاف لڑنے پر اکسایا ، جب ملک کے طول و عرض میں ہر بچے کی زبان پر تھا کہ ,, بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے ،،
سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد ہم دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں کس حد تک کامیاب ہوئے اس پر آراء مختلف ضرور ہو سکتی ہیں مگر اس بات پر دو رائے نہیں کہ ملک کا ہر شہری دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف جامع اور موثر کارروائی کا حامی ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اور اب مجھے لگتا ہے کہ قصور میں معصوم زینب کے قتل کے بعد ہماری قوم پر وہی کیفیت طاری تھی ۔ بے شک اس طرح کے انسانیت سوز واقعات ہمیشہ ہوتے ریے ہیں مگر وہی بات کہ کسی واقعہ سے قدرت انسان کو جھنجوڑ دیتی ہے ۔۔۔اور یہ اس خواب خرگوش سے جاگی ہوئی قوم کی ہی بدولت تھا کہ ارباب اختیار و اقتدار بھی کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہو گئے اور ملوث ملزم کو اس جذباتی قوم کے سامنے پیش کر دیا گیا مگر اس کے بعد کیا ہوا۔۔۔
درحقیقت آج میرا قلم اٹھانے کا مقصد بھی چند نہایت سادہ سے سوال اٹھانا ہے ۔۔۔۔ جن سے ہو سکتا ہے میں اپنی کم علمی کی بدولت آگاہ نہ ہوں ۔۔ میرا سوال یہ ہے کہ زینب کے مبینہ قاتل کا کیس کہاں تک پہنچا ؟ ملزم کی گرفتاری کے لیے چند گھنٹوں کا الٹی میٹم دینے والی سپریم کورٹ اب اس کیس میں کتنی دلچسپی لے رہی ہے کیا کسی کو معلوم ہے ؟ لیکن کسی کو معلوم بھی کیوں ہو ۔۔۔بحیثیت مجموعی ہم اس عارضے میں مبتلا ہیں جس کو عرف عام میں بھولنے کی بیماری بھی کہتے ہیں ۔۔۔۔ مگر یاد رکھیں اب اگر ہم زینب کے مبینہ قاتل یا قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر آرام سے بیٹھ گئے تو اللہ نہ کرے مگر اگلی زینب ہم میں سے بھی کسی کی ہو سکتی ہے ۔۔۔لہذا یاد رکھیں ہمیں زینب کو بھولنا نہیں ہے ۔۔۔کم از کم اس وقت تک جب تک اس کے قاتل کو سزا نہ دلوائیں ۔۔۔۔

متعلقہ مضامین