سماعت کم، تقریریں زیادہ

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ کا کمرہ عدالت نمبر ایک جہاں چیف جسٹس دیگر ججوں کے ساتھ بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کرتے ہیں، آج کل کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے ۔ صبح ساڑھے نو بجے شروع ہونے والی عدالت دن گیارہ بجے سے ساڑھے گیارہ تک وقفہ کرتی ہے۔ ساڑھے گیارہ کے بعد کب تک مقدمات سننے ہیں یہ ججوں کی منشاہے۔ اگر بڑے اور میڈیا کی دلچسپی کے دس مقدمات سماعت کیلئے مقرر کیے گئے ہوں تو پھر 136 نشستوں والے کمرے میں مزید ایک سو افراد کوکھڑے رہنا پڑتاہے۔ ایک ہی وقت میں کمرہ عدالت میں تین وزیر، دو صوبوں کے پولیس سربراہ اور پانچ وزارتوں کے سیکرٹری اور دس ٹی وی چینلوں کے اینکروں کو بھی کھڑے دیکھا۔ ایسے وقت میں ججوں کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ ایسی آڈینس ہر ایک کو کہاں میسر آتی ہے۔ ہر موضوع پر بے تکان لیکچر دیا جاتاہے ۔ فی الوقت آپ آج دو مقدمات میں ججوں کے ریمارکس اور جملے بازی سے لطف اٹھائیے۔ میری رائے میں اگر یہ سب نہ بولا جائے تو ہر مقدمہ پندرہ منٹ میں سن کر نمٹایا جاسکتا ہے۔
نوازشریف کی پارٹی صدارت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ عدالتیں ختم ہوجائیں تو پھر جنگل کاقانون ہوگا ،مجھے جسٹس اعجازالاحسن نے برطانیہ کی عدالت کافیصلہ نکال کر دکھایاہے جس میں لکھا ہے کہ اگر عدالتی فیصلے پر بلاجواز تنقید ہوتو ججزجواب دے سکتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عدالت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے کاجواب دینا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ ہم جلسہ کرسکتے ہیں نہ لوگوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کاکہہ سکتے ہیں ،یہ عدالت آئین کے تحت بنائی گئی ہے،وکیل لطیف کھوسہ فیصلے کوبراکہتے ہیں لیکن احترام کرتے ہیں ۔
اس کے بعد چیف جسٹس کی نظر مسلم لیگ ن کے رہنما سینٹر راجہ ظفرالحق پر گئی تو کہاکہ راجہ ظفرالحق صاحب آپ عدالت میں آتے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے،آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آتے،ہمیں ڈرانے والے لوگ عدالت نہیں آتے انہیں تو لے کر آئیں،ذرا ان لوگوں کو کبھی پیار سے لے کر آئیں، ذرا ہم بھی دیکھیں ہم ڈرتے ہیں یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کا تقدس واضح نظر آنا چاہیے تھا،جس کو جو ملتاہے یہاں سے تول کرلے جائے،لطیف کھوسہ کے خلاف فیصلہ دیا ان کے ماتھے پرشکن نہیں آئی۔
پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ نواز شریف نے عدالت اورلوگوں کوبے وقوف بنانے کی کوشش کی ،18ویں ترمیم میں آرٹیکل62ون ایف کوبرقرار رکھاگیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آئین ایک عمرانی معاہدہ ہے اور بہت مقدس ہے ۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ ججزکواختیار آئین اورعدلیہ نے دئیے ہیں،عدلیہ اورفوج کو آئین نے تحفظ دیاہ ے،آئین کا تحفظ اصل میں ملک کا تحفظ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کسی آئینی ادارے کودھمکانا اور تنقید کرنا آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے لوگوں میں عدلیہ کے وقار کو بحال کرناہے،کون صحیح اورکون غلط ہے اس کافیصلہ لوگوں نے کرناہے ۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ لوگوں کو معلوم ہے اس عدلیہ پر حملہ کس نے کیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ توہین عدالت کیس میں مجرم کی سزا 6 ماہ ہے،عدالت کے پاس اس سے زیادہ ملزم کو جیل بھیجنے کا اختیار نہیں۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ عدالت اتنی رحمدلی نہ دکھائے کہ ریاست کو جھیلنا پڑے ، یہ لوگ اپنے خلاف خبر نہیں چھپنے دیتے ،عدالت نے انھیں گاڈ فادر ایسے ہی نہیں کہا ،یہ گاڈ فادر ہیں ،پانامہ نظرثانی کافیصلہ اخبار میں مکمل نہیں چھپا ،پورا فیصلہ چھپ جاتا تو یہ نہ کہتے مجھے کیوں نکالا ،عدالت کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کی گئی ۔
جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل لطیف کھوسہ کی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے کہاکہ عدالت نے واضح قرار دیانواز شریف نے مکمل سچ نہیں بتایا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حضرت عمر کا ہمارے ہاں کیا مقام ہے، کرتے پر حضرت عمر سے سوال پوچھا گیا۔ حضرت عمر نے کرتے کے سوال پر جوابی سوال نہیں اٹھایا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ فیصلے میں لکھا گیا نواز شریف نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ نئے قانو ن کے مطابق اثاثوں کی ڈیکلریشن کا خانہ ختم کردیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمان میں آپ نے بھی (پیپلزپارٹی) اس قانون کے حق میں ووٹ دینے کیلئے ہاتھ کھڑا کیا ہوگا۔
عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017کا پارلیمانی ریکارڈ طلب کرنے کی ہدایت کی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی کا سربراہ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دیتا ہے۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ نوازشریف وزیراعظم بننے کے بعد سپر وزیراعظم بن گئے ہیں۔بطورپارٹی صدر نواز شریف اپنے وزیراعظم کو نکال سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ کیا موجودہ وزیراعظم کے بیانات کاریکارڈ موجود ہے ۔ موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں انھیں کسی نے وزیراعظم بنایا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں نواز شریف ان کے وزیراعظم ہیں ، وزیراعظم کہتے ہیں انھیں نواز شریف نے وزیراعظم بنایا ہے،وزیراعظم کہتے ہیں ان کا وزیراعظم نواز شریف ہے عدالتی فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ۔
وکیل لطیف کھوسہ نے بولنے کی کوشش کی مگر ججوں کی تقریر جاری رہی اور چیف جسٹس نے کہاکہ کیا قانون سازپارلیمنٹ کے ذریعے عدالتی فیصلے کا اثرختم کرسکتے ہیں ، کیا ہم اس بنیاد پر قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں ۔لطیف کھوسہ نے کہاکہ قانون آئین کے متصادم ہے کالعدم ہوسکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے مطابق آئین کی روح یہ ہے کہ ریاست پر ایماندارشخص حکمرانی کرے ، اگر ادارے کا سربراہ ایماندار نہ ہو تو پورے ادارے پر اثر پڑتا ہے ، سپریم کورٹ کی عمارت شاہراہ دستور پر قائم عمارتوں سے اونچی ہے،یہ عمارت کیوں اونچی کیوں ہے،نہیں بتاوں گا ، چیف جسٹس نے کہاکہ ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے ، بے انصافی سے معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ سسلین مافیا اور گاڈ فادر کی عدالتی آبزرویشن درست تھی، آج کہا جارہا ہے چیف جسٹس سمیت تمام جج کو باہر نکال دیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے ، نہ ہم پریشان ہیں اور نہ ہی قوم پریشان ہیں، الحمد اللہ کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا ، ریاست کے ستون کی بنیاد عدلیہ ہے ، عدالیہ کی تضحیک اور تذلیل پر آرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتی ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہاں عدالت کو سیکنڈلائز کیا جارہا ہے ۔
پوری سماعت کے دوران ساتھی ججوں اور وکیل کو بولتے دیکھ کر سنجیدہ رہنے والے جسٹس عمر عطا نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ،جو ہوا ہے جو ہو رہا ہے جو آگے ہوگا سب اللہ کی نشانی ہے، پاکستان میں جمہوریت ابھی ینگ ہے، کیاملک میں سیاسی جماعتیں سربراہان کے ساتھ قائم ہیں ،کیا شخصیات کے جانے سے پارٹی بھی ختم ہوجاتی ہے،ہمیں اس حوالے سے تحریری مواد دیں، جسٹس عمرعطابندیال نے لطیف کھوسہ سے کہا تو ان کا جواب تھا کہ ملک کی تباہی کر دی ملک میں ہیجان پیدا ہو رہا ہے، وہی تقریریں باپ بیٹی کر رہے ہیں ،تذلیل کر کے کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جوکوئی ایسا کرتاہے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ پھر عدالت ایسا صبر کیوں دکھا رہی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے آپ کو حکمت کا بہت کم علم ہے ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پاکستان جاگ رہا ہے، یہ بہت چھوٹی سی بات ہے پوری قوم پر عزم ہے ،ہم ایسی باتوں کو جانے دے رہے ہیں ،کوئی بھی شخص اس ملک کوتباہ نہیں کرسکتا،اللہ پر ایمان رکھیں۔
یہ مقدمہ ختم ہواتو آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کا مقدمہ شروع ہوگیاجس کیلئے پانچ جج بیٹھے۔ جسٹس عظمت سعید کی شرکت سے بولنے والے ججوں میں اضافہ ہوگیا۔ طویل اور تھکا دینے والی سماعت کی مکمل کارروائی لکھنے سے قاصر ہوں۔ کوشش جاری ہے

متعلقہ مضامین