عاصمہ جہانگیر کے تاریخ کو سامنے لاتے دلائل

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے مقدمے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے بددیانتی کا مطلب ہمیشہ جرم نہیں ہوتا لیکن اگر کسی کو اس وجہ سے سزا ہو جائے تو اس کے اثرات ہوتے ہیں۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن لڑنے والے امیدوار کے فہم و ادراک (آئین میں لکھا گیا لفظ ساگیشیس) کو ماپنے کیلئے ووٹرز کی رائے ہونا ضروری ہے، عدالتیں اگر اس کیلئے فیصلے دے کر رہنمائی کریں گی تو وہ کنٹرولڈ جمہوریت ہوگی جو درست نہیں۔
سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس کی سربراہی میں جعلی ڈگری اور اثاثوں کے معاملے پر نااہل کئے گئے سابق ارکان پارلیمان کی درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزار رائے حسن نواز کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل میں کہاکہ اگر جج اورعدالت ہی امیدوار کے صاحب ادراک ہونے کا فیصلہ کریں گے تو پھر ووٹرز کے پاس وہ کیسے جائے گا، یہ عدالت کا کام نہیں کہ وہ امیدوار کے بارے میں فیصلہ دے کر ووٹرز کی رہنمائی کرے، ووٹرز کی وہ رائے جو عدالت کی رہنمائی کے زیراثر ہو وہ کنٹرولڈ ہوگی، کنٹرولڈ جمہوریت درست نہیں ہوتی، عدالت اگر لوگوں کو امیدواروں کے بارے میں گائیڈلائن دے گی تو درست نہیں ہوگا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر جرم/مجرم کا لفظ نہ ہوتا تو پھر بات دوسر ی تھی مگر اب اس کی کیا تشریح ہوگی؟۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ آپ تشریح کیسے کرسکتے ہیں؟ مثلا آپ آئین میں لکھے نظریہ پاکستان کی تشریح کیسے کریں گے؟ قائداعظم والی یا پھر جنرل شیر علی والی؟۔ کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس میں نظریہ پاکستان کی تشریح کی گئی ہو، جس میں لکھا گیاہو کہ نظریہ پاکستان کیاہے؟۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا آپ چاہتی ہیں کہ ہم آئین کی ان شقوں کو کالعدم قرار دے دیں؟ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ کالعدم نہ کریں مگر عدالت میں سیاسی سوالات والے مقدمے نہ سنے جائیں، ان کی تشریح نہ کی جائے، ان معاملات کو آنے والے وقت اور سیاست دانوں پرچھوڑ دیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ اگر سیاست دان یہ خود نہ کرسکیں اور یا پھر ناکام بھی ہو جائیں تب بھی عدالت نہ کرے، کیونکہ جوکام سیاست دان نہ کرسکیں، عدالت کیسے کرسکتی ہے؟۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہاکہ عدالت ٹھوس سوالات کے مقدمے سن کرفیصلے کرتی ہے، مفروضوں پر مبنی سوالات پر نہیں، آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کے مطابق اہلیت کاجائزہ لیناہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی کو کیسے آئین میں لکھے لفظ ساگیشیس کے مطابق قرار دے گی؟ وہ کون سی عدالت ہوگی اور اس کیلئے ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہوگا؟۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ یہ ساری مشکلات ججوں کیلئے ہیں میرے لیے نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جب ایک بار آئین میں ترمیم ہورہی تھی تو ارکان نے اس شق کو تبدیل کیوں نہ کیا؟۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ اس لیے کہ پارلیمان ابھی تک مکمل آزاد نہیں ہے، کوئی بھی ادارہ مکمل آزاد نہیں ہے، اس لیے ان آرٹیکلز کو آئین میں رہنے دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم آزاد ہیں اور پارلیمان کے بارے میں بھی ایسے الفاظ نہیں کہہ سکتے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میری اپنی رائے ہے آپ کا متفق ہوناضروری نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں۔فوجی عدالتوںکی ترمیم منظور کرتے ہوئے یہ بات خود ارکان پارلیمان نے کہی۔ مثلا ضیاء کے دورمیں جب کسی احتجاج میں بلانے پر جاتی تو خوف ہوتاتھاکہ شاید واپس نہ آسکوں گی، آج بھی جب کوئی احتجاج میں شرکت کیلئے بلاتا ہے تو خوف موجود ہے ہرچند کہ کم ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ پارلیمان پرآئینی ترمیم کے وقت اس آرٹیکل کو نہ چھیڑنے کیلئے کیا پابندی یا دباﺅ تھا، وہ تو آزاد تھے چاہتے تو کر دیتے۔وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یہ آپ کا اپنا نکتہ نظر ہے اور اس کا احترام کرتی ہوں۔ جب کبھی تبدیلی آتی ہے تو مرحلہ وار سب کچھ ہوتاہے، وقت لگتا ہے۔ماضی میں ایبڈو جیسے قوانین بنائے گئے، سات ہزار افراد کے خلاف مقدمے چلے۔ 1985 کی اسمبلی کے کسی رکن پر نااہلی کا کوئی مقدمہ نہیں چلا، اس کے بعد بھی ایسے مقدمات پر کسی کی نااہلی نہیں۔ سنہ دوہزار دو میں عوامی نمائندگی کا قانون لایا گیا کہ امیدوار کو گریجویٹ ہونا چاہیے، اس کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ پوری اسلامی دنیامیں صرف ایران کے آئین میں پارلیمان کے امیدوار کیلئے اسلامی تعلیمات کا علم ہونا ضروری ہے، پاکستان میں کسی دوسرے ادارے یا محکمے میں کسی فرد کیلئے ایسا ضروری نہیں مگر رکن پارلیمان کیلئے اسلامی شرائط ہیں۔ سپریم کورٹ نے گریجویشن کی شرط کو آئین کے مطابق قرار دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت اٹارنی جنرل مخدوم علی خان تھے
اور انہوں نے اس شرط کی مخالفت کی تھی اس کے باوجود عدالت نے قانون کے خلاف درخواست خا رج کر دی تھی۔ ( یہ الگ بات ہے کہ اس کیس کے فیصلے میں مخدوم علی خان کے سارے دلائل لکھے ہوئے ہیں، اور اس میں انہوں نے شرط کی ایسی مخالفت نہیں کی تھی۔ رپورٹر)
جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ آپ کے دلائل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جس چیز کو پارلیمان نے ایسے ہی چھوڑ دیا ہم بھی اس کو نہ دیکھیں۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہاں ہم میں سے کوئی بھی دوسرے کے خلاف نہیں، صرف بہترتشریح کی بات کررہے ہیں تاکہ ہم پر جو اجتماعی ذمہ داری عائدہوتی ہے اس کو نبھاسکیں۔ چیف جسٹس نے پوچھاکہ کیا جو آنسٹ وامین نہ ہو الیکشن لڑسکتاہے؟۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ یہ مختلف اصطلاحات ہیں جو مبہم ہیں اور ان کی کوئی بھی تشریح کی جاسکتی ہے مگر تشریح موجود نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت کیلئے سب سے مشکل کام مبہم اصطلاحات کی تشریح کرنا ہوتا ہے۔ اس کیلئے طریقہ کار کیا ہوگا؟ اور کیا ہم اس میں کوئی شق شامل کرکے تشریح کریں گے؟۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ عدالت نے زیادہ تر لوگوں کو آنسٹی پر نااہل کیا ہے، وہ کیا ذریعہ یا طریقہ کار ہے کہ آنسٹی کا معیار ناپ سکیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بددیانتی کا مطلب ہمیشہ جرم نہیں ہوتا، اگر سزا ہوجائے تب اس کے اثرات ہوتے ہیں، بعض اوقات نیت نہیں ہوتی مگر قانون کی نظر میں جرم ہوتاہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ اگر میں پارلیمان میں ہوتی اور گریجویشن کی شرط عائد کی جاتی تو بطور احتجاج کبھی گریجویشن نہ کرتی، یہ میرا طریقہ ہے پروٹسٹ کرنے کا۔ جعلی ڈگری کیس میں سمیراملک کو نااہل قراردیا گیا، اس کی تصویرکے بارے میں رپورٹ تھی کہ وہی ہے مگر یہاں بیٹھے جج صاحب نے کہاکہ رول نمبر سلپ اور ڈگری کی تصویر مختلف ہے، آپ ججوں کی نظر بہت تیز ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے فورا کہا کہ میری نظر تیز نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دونظریں ہیںایک اندر کی اور ایک باہر کی۔
چیف جسٹس نے پوچھاکہ کسی شخص کو عدالت بددیانت قرار دے تو اس کی نااہلی کتنے عرصے کیلئے ہوگی؟ عاصمہ جہانگیر نے جواب دیاکہ نااہلی زیادہ سے زیادہ پانچ سال کیلئے ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ساتھی جج کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص کو عدالت نے بددیانت قرار دیاہو، وہ جب تک اپنی دیانت کا اسی طرح کا فیصلہ لے کرنہ آجائے دیانت دار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟۔مسئلہ یہ ہے کہ پہلے والے فیصلے کو ختم کرنے تک کچھ نہیں ہوسکتا۔ہم اس وقت صرف آئین کے آرٹیکلز کی تشریح کیلئے بیٹھے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ ہم سے چاہتی ہیں کہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں بھی نااہلی کی مدت پانچ سال ہی پڑھیں؟۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ نہیں، بالکل بھی نہیں،آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اور عوامی نمائندگی کے قانون میں پانچ سال کی نااہلی ہے اس وجہ سے کہہ رہی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ باسٹھ اور تریسٹھ الگ الگ آرٹیکلز ہیں، یہ قانون سازوں کی منشا تھی کہ ایک کے مطابق نااہلی پانچ سال اور دوسرے کے تحت مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔
عاصمہ جہانگیر نے انگریزی لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم کرنے والے (کلمزی) اناڑی/بے ڈھنگے ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ لفظ آپ استعمال کرسکتی ہیں ہم نہیں،ہم تو پارلیمان کی وزڈم کو مانتے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ آج آپ بیٹھے ہیں تو اس کو کرلیں، کل کو اور آجائیں گے تو پتہ نہیں باسٹھ تریسٹھ کی کیا تشریح کریں، ہم سب تو مرجائیں گے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہاکہ نہیں، بہت اچھے لوگ آئیں گے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ آپ کی ذات یا ججوں کا نہیں کہہ رہی، سارے اداروں کی بات کررہی ہوں۔جن دیانت داروں کی بات ہو رہی ہے، وہ باہر سے لائے جائیں تب ہی ممکن ہے، اس ملک میں تو ایسے لوگ نہیں ہیں۔ سنہ دوہزار نو میں اسی سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کے حق میں فیصلہ دیا، پانچ رکنی لارجر بنچ نے ان کو اہل قراردیا تھا۔اب آپ نے وہ آنسٹ و امین کا معیار بلند کر دیا ہے یا پھر نیچے آ گیا ہے، مجھے تو علم نہیں۔
عاصمہ جہانگیر نے بے نظیربھٹو کے خلاف 1988 میں دائر کی گئی درخواست کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ اس میں کہاگیا تھاکہ محترمہ مغربی لباس پہنتی ہیں، عدلیہ اورفوج کے خلاف تقریریں کی ہیں اس لیے نااہل قرار دیا جائے مگر سپریم کورٹ نے درخواست خارج کردی تھی۔ اس کے مقابلے میں سمیرا ملک کے لیے مختلف معیار اپنایا گیا۔ دونوں فیصلے ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کئی مواقع پر حالات وواقعات کے مطابق قوانین کی مختلف تشریح ہوتی ہے اور الگ فیصلے ہوجاتے ہیں، یہ پوری دنیا میں ہواہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ اہلیت کامعیار 85ء میں کچھ، 92ء میں کچھ، 2009ء میں کچھ اور جبکہ اب ترامیم کے بعد کچھ اور ہوگیاہے۔
سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ نے دلائل کے آغاز میں کہاتھا کہ بنیادی حقوق آئین کا دل ہے، اس دوران میں اپنے سامنے پڑی نوٹ بک پر دل بناتا رہا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین