جو آج سپریم کورٹ میں دیکھا

(سپریم کورٹ سے)
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایگزیکٹ کیس میں شعیب شیخ کے خلاف اہم فیصلہ سنایا اور شعیب شیخ کی وہ کلاس لی کہ توبہ توبہ۔۔!!۔ شعیب شیخ سمیت متعدد ملزمان کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا حکم دیا، سخت آرڈر بھی لکھوا دیا ۔ اتنے میں بول ٹی وی کے سابق ملازمین نے اپنی تنخواہوں کا معاملہ اٹھایا، چیف صاحب نے انتہائی ہمدردی سے سنا ۔ صحافیوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ چیف صاحب نے کہا کہ میں اپ کی خدمت کرتا ہوں اور آپ الٹی خبریں چلاتے ہیں ۔ کدھر ہے وحید مراد ۔ وحید مراد اپ نے جج کی پھرتی لکھا، کیا یہ درست ہے؟ وحید مراد نے عدالت کو بتایا کہ وہ سوشل میڈیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کیوں نہ وحید مراد پر پابندی لگا دی جائے۔ سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ وحید مراد پاکستان 24 بھی چلاتا ہے اور وہ کسی ایجنڈے پر ہے۔ (وحید مراد اور طیب بلوچ کی ناراضگی کی وجہ اور بھی تھی) ۔ عدالت نے کہا کیوں نہ وحید مراد پر پابندی لگا دی جائے۔ معاملہ سپریم کورٹ کی ایسوسی ایشن کو بھیج دیتے ہیں۔ اسی دوران سینیر اینکر پرسن مطیع اللہ جان نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ صحافی کی خبر کا معاملہ پیمرا، پریس کونسل یا صحافتی تنظیم کو دیا جائے اور صحافی پر پابندی یا اٹھا کر سپریم کو رٹ سے باہر پھینکنا درست نہیں، (اج ہی سپریم کورٹ سے ایک اے ایس آئی کو بے دخل کیا گیاتھا) صحافی اور اہلکار میں فرق ہے ۔ عدالت برہم ہوئی اور مطیع اللہ جان کیلے توہین عدالت کی کارروائی کے حوالے سے سخت ریمارکس دیے گئے ۔ خبروں اور صحافیوں کے حوالے سے ماحول سخت گرم تھا اور عدالت کے گرم سرد ریمارکس جاری تھے۔ چیف جسٹس نے کہا مطیع اللہ سے بھائیوں کی طرح پیار ہے لیکن پتہ نہیں میرے پیچھے کیوں پڑا ہے اور میری فیملی کے خلاف خبریں چلائی گئیں ۔
ہم سب روسٹرم پر موجود تھے کہ بول ٹی وی کے موجودہ صحافی دوست بھی آگے آئے ۔ ٹی وی کے اینکرز سمیع ابراہیم اور نزیر لخاری نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور عدالت سے شعیب شیخ کیلئے ریلیف مانگا، ماحول ٹینس تھا، عدالت نے درخواست سنی اور بیس کے قریب ایگزیکٹ کے ملزمان کا نام ECL سے نکلوانے کی استدعا کی گئی اور ان دو صحافیوں کی گارنٹی پر عدالت عظمی کو ایگزٹ کے حوالے سے فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور شعیب شیخ کو عارضی ریلیف مل گیا۔
شعیب شیخ نے روسٹرم پر سرگوشی کی، مطیع اللہ صاحب آج سے میں اپ کا قائل ہو گیا. آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہاتھ ملانے کی کوشش کی۔ مطیع اللہ نے ہاتھ جھٹکا اور کہا
Mind your !business !
(یہ تحریر صحافی سردار عابد خورشید کے فیس بک سے لے کر ان کی اجازت سے شائع کی گئی)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button