مطیع اللہ تم نے میرے خلاف لکھا، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں شعیب شیخ و دیگر ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا دیا گیا اپنا حکم اینکر سمیع ابراھیم کی استدعا پر واپس لے لیا۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو ایگزیکٹ کے خلاف زیر سماعت مقدمات 30 دنوں میں سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ۔عدالت نے قرار دیا ایف آئی اے ایگزیکٹ کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کرنے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلا ف انٹرا کورٹ اپیل دائر کرسکتا ہے ۔عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کراچی کی ٹرائل کورٹ میں ایگزیکٹ کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے، اگر کراچی ٹرائل کورٹ میں ملزمان پیش نہ ہوں تو استغاثہ ملزمان کی ضمانت مسوخی کیلئے درخواست دائر کرنے کا اختیار رکھتاہے ،متعلقہ عدالتیں اور استغاثہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر اپنی کارروائی جاری رکھے ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر عدالت میں پیش ہوئیں۔ عاصمہ جہانگیر کے دلائل پر شعیب شیخ نے اعتراض کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ ہم سے مخاطب ہیں،عاصمہ بی بی نے آپ کو کچھ نہیں کہا،ہم نے مقدمہ اس لیے لگایا کہ یہ مقدمہ ملک کے وقار سے متعلق ہے،ایگزیکٹ سے متعلق کچھ مقدمات زیر التوا ہیں ہم نے انکو بھی دیکھنا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ڈی جی ایف آئی اے کو تحقیقات سے متعلق تفصیلات جاننے کیلئے طلب کر رکھا ہے،حال ہی میں ایک غیر ملکی صحافتی ادارے نے نئے الزامات لگائے،یہ عوامی نوعیت کا مقدمہ ہے،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ میری قوم کی عزت اور ملک کے وقار کا معاملہ ہے۔اینکر جاوید اقبال نے استدعا کی کہ ہم بھی بول کے متاثرہ ہیں ہمیں بھی سنا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب کو سنیں گے،مقدمہ سننے کا مقصد یہ ہے کہ ملکی وقار کو دیکھا جائے،ایگزیکٹ کی طرف سے ایڈووکیٹ ظفر علی شاہ پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے تو یہ بتا دیں آپ کا حق دعوی کیا ہے،یہ ایک سوشل الزام ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایف آئی اے کو معاملہ کا جائزہ لینے کا کہیں گے،یہ میری قوم کی عزت اور وقار کا معاملہ ہے، مجموعی طور پر یہ ریاست کی عزت اور وقار کا مسئلہ ہے۔
بول نیوز کے متاثرین بھی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ہم بول کے متاثرین ہیں ہمیں بھی سنا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میری عدالت میں کوئی ہاتھ کھڑا کرے تو اس کو ضرور سنتا ہوں آپ کو بھی سنیں گے۔ دیکھنا ہے ملک کی عزت و تکریم متاثر تونہیں ہو رہی، اگر عزت و تکریم متاثر ہوئی تو دیکھنا ہو گا کیسے مداوا ہو گا۔ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پیش ہوئے چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹ ایک کمپنی ہے،کب سے ایگزیکٹ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے۔ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ جولائی دو ہزار چھ سے پہلے یہ کمپنی رجسٹرڈ ہے، ایگزیکٹ کا ہیڈ آفس کراچی خیابان اقبال میں ہے۔ جسٹس اعجازاالاحسن نے استفسار کیا کہ ایگزیکٹ کا بزنس کیاہے۔
بشیر میمن نے بتایا کہ سافٹ وئیر کی ایکسپورٹ کابزنس ظاہر کیاگیاہے،ایگزیکٹ کے دس بزنس یونٹ ہیں، ستر فیصد ریونیو آن لائن یونیورسٹیوں سے آتا ہے،ایگزیکٹ کی تین سو تیس یونیورسٹیاں تھی۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیاایگزیکٹ کا کسی یونیورسٹی سے الحاق ہے؟،بشیر میمن نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کاصرف ویب پیج تھا،کسی یونیوسٹی کاایگزیکٹ سے الحاق نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کیمپس نہیں تو کلاس رومز بھی نہیں ہوں گے، ہمارے ہاں بھی ورچوئل یونیورسٹی ہے،کیاورچوئل یونیورسٹی کوئی پروگرام کنڈکٹ بھی کرتی تھی، بشیر میمن نے بتایا کہ پانچ ہزار ڈالرز میں ایگزیکٹ ڈگری مل جاتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات زیرالتوا کیوں ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ تجربہ پر ایگزیکٹ والی ڈگر ی مل جاتی تھی،چیف جسٹس نے کہا کہ میرا قانون اور بطور جج کافی سالوں کا تجربہ ہے مجھے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟۔بشیرمیمن بولے تجربہ کی بنیاد پر آپکو قانون ،نظام عدل میں اصلاحات اور انگلش کی ڈگری مل سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انگلش میری اتنی اچھی نہیں ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایگزیکٹ کا اپنا پلیٹ فارم ہے جو ایکری ڈیشن بھی کرتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایکری ڈیشن کیسے کر سکتے ہیں۔ بشیر میمن نے بتایا کہ جناب پیج بنا کر ایکری ڈیشن شروع کردی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ یونیورسٹیاں تو کسی قانون کے تحت بنتی ہیں، یہ کام 2006سے ہو رہا ہے،2006 سے 2015 تک یہ کاروبار ہوتا رہا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب میڈیا میں خبریں آئی تو ایف آئی اے نے معاملات کو دیکھنا شروع کیا، ۔بشیر میمن نے بتایا کہ اسلام آباد کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ سے ملزم بری ہو چکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے نے ثبوت پیش کیے۔بشیر میمن نے جواب دیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل زیرالتوا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کس جج کے سامنے کیس لگایاگیا ہے، رجسٹرار نے بتایا کہ جسٹس اطہرمن اللہ کیس سنیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس اطہرمن اللہ کے ساتھ جسٹس گل حسن کو بھی بنچ میں شامل کریں،سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے دورکنی بینچ بنائیں،اسلام آباد کی ماتحت عدالت کے جج کا ضمانت کے لیے پیسے لینے کی خبر چھپی تھی ،اس جج کا نام کیا ہے اور اس کے خلاف کیاکاروائی ہورہی ہے۔عدالت کو بتایا گیا جج کا نام پرویزالقادر میمن ہے،اُن کے خلاف اے سی میٹنگ کا معاملہ زیر سماعت ہے ۔چیف جسٹس نے بشیر میمن سے کہا یہ تو آپ کی برادری کانکل آیا،اے سی میٹنگ کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ رکھا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ خود کیوں تشریف نہیں لائے،یہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔ بشیر میمن نے بتایا کہ ہمارامرکزی کیس کراچی میں ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمہ میں سارے ملزم ضمانت پر ہیں،عدالت نے کہا کہ ملزمان تعاون نہ کریں تواستغاثہ کو ضمانت منسوخی کی درخواست دینے کا اختیار حاصل ہے۔
سماعت کے دوران شعیب شیخ نے اپنی نشست پر کھڑے ہو کر ہاتھ بلند کیا تو چیف جسٹس نے کہا بیٹھ جاؤ ،پھر بولے شعیب شیخ کھڑے ہوجاؤ ،کیوں بار بار اپنی نشست پر کھڑے ہو رہے ہو ۔شعیب شیخ نے جواب دیا میں سمجھا آپ ملزمان کی بات کر رہے ہیں ۔عدالت کوبتایا گیا ملزمان کچھ پیشوں پر حاضر نہیں ہوئے اس پر چیف جسٹس نے کہا تمام ساتوں ملزمان اپنی نشستوں پرکھڑے ہوجائیں،کیوں نہ تمام ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کردیں ، ماتحت عدلیہ اور ہائی کورٹ سے ملزمان کاعدم تعاون برداشت نہیں ہوگا،میں اپنے ملک اور قوم کوشرمندہ نہیں ہونے دونگا۔ شعیب شیخ نے کہا کہ اپنا مقدمہ خود لڑنا چاہتا ہوں،عدالت نے جو حکم دیا وہ درست ہے،ماتحت عدلیہ اور ہائی کورٹ مجھے سن کر فیصلہ کرے،میری یہ استدعا ہے یہ ملک کی عزت کے ساتھ ملک کے مستقبل کا بھی سوال ہے،عدالت دیکھے آجکل یہ کام ہو رہا ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آجکل یہ کام نہیں ہو رہا،آپ کیخلاف خبریں چلتی ہیں تو ہتک عزت کا د عویٰ کریں، غلط خبر پر پیمرا معاملے کو دیکھے گا۔چیف جسٹس نے شعیب شیخ سے کہا کہ غیرمتعلقہ بات کو نہیں سنوں گا ، الزمات کو ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے، آپ غلطی کریں ہی نہ ،ٹی وی پربولتے دیکھا اچھے مقررہوں گے مگریہاں نہیں ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایگزیکٹ کمپنی پر جعلی ڈگری دینے کا الزام ہے ،لوگوں کو فون کال پر ایگزیکٹ کی ڈگری دی جاتی تھی،شعیب شیخ نے کہا کہ ایف آئی اے نے جعلی ڈگری کے بارے میں غلط بیانی کی۔عدالت نے شعیب شیخ اور انکے تما م ساتھیوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔بعد ازاں اینکر سمیع ابراھیم نے چیف جسٹس نے استدعا کی کہ شعیب شیخ اور دیگر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالے جائیں ۔چیف جسٹس نے استدعا منظور کر لی ۔تاہم پی بی اے کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اس پر اعتراض اٹھایا ۔چیف جسٹس بولے ابھی عدالتی آرڈر پر دستخط نہیں ہوئے ۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بول کے متاثرین کو بھی سنا ۔اینکر جاوید اقبال نے کہا مئی 2015سے ہمیں واجبات نہیں ملے ،راولپنڈی اسلام آباد کے تقریبا 40ملازمین ہیں ۔ایک صحافتی یونین کے نمائندے نے کہا ہم نے ایک درخواست لکھی تھی لیکن پولیس نے لے لی ۔چیف جسٹس نے کہا ہم پولیس والے کو معطل کریں گے ۔صحافی چوہدری تصور حسین نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ پولیس والے کو معطل نہ کیا جائے ۔چیف جسٹس نے کہا ملک بھر کے بول ملازمین اور بقایاجات کی تمام تفصیلات فراہم کی جائیں ،ہم دیکھیں گے ۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا وحید مراد کہاں ہے ؟پریس ایسوسی ایشن کا صدر کہاں ہے ۔اس پر وحید مراد روسٹرم پر آیا تو چیف جسٹس نے پوچھا آپ نے ایک ٹوئیٹ کی تھی ؟کیا ایسا کرنا درست ہے ؟وحید مراد نے کہا وہ سوشل میڈیا ہے ۔چیف جسٹس بولے کیوں نہ وحید مراد کی سپریم کورٹ داخلے پر پابندی لگا دیں ۔پریس ایسوسی ایشن کے صدر طیب بلوچ نے کہا یہ کوئی ایجنڈاہے ۔پھر ایک اور صحافی مطیع اللہ جان نے عدالت سے بات کرنے کی اجازت مانگی۔ مطیع اللہ جان نے کہا میں 20 سال سے کورٹ رپورٹنگ کر رہا ہوں، پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم نہیں، سپریم کورٹ اس طرح کسی صحافی کو حراساں نہیں کرسکتی، ہم صحافی ہیں پولیس اے ایس آئی نہیں جنھیں معطل کر دیا جائے ۔ طیب بلوچ نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی مطیع اللہ جان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری رکھا ہے۔ مطیع اللہ جان نے کہا سپریم کورٹ میں یہ معاملہ زیر سماعت نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نے کسی پر پابندی نہیں لگائی، مطیع اللہ جان کا کوئی پرانا ایشو ہے، مطیع اللہ تم نے میرے خلاف لکھا، میں ابھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا ہوں، اگر اس طرح آپ لوگوں سے عدالت بے عزتی کراتی رہی تو پھر دیگر لوگوں کو کیسے ھینڈل کریں گے، میں سب صحافیوں کو عزیز سمجھتا ہوں ۔
صحافی مطیع اللہ جان نے کہا ہم عدالتوں کی عزت کرتے ہیں ۔ اسی دوران عاصمہ جہانگیر بھی کھڑی ہوئیں اور ایک ہی وقت میں کئی آوازیں آنا شرو ع ہوگئیں۔ پھر صحافی نذیر لغاری نے کوئی بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ بول ٹی وی میرے بارے میں جو باتیں کر رہا ہے وہ مجھے متاثر نہیں کر سکتیں۔ بول کے ڈائریکٹر نیوز اینکر سمیع ابراھیم نے کہا شعیب شیخ و دیگر ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکال دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نام نکال دیتے ہیں ۔ پی بی اے کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا عدالت ایسا نہ کرے۔ چیف جسٹس نے کہا ابھی عدالتی حکمنامے پر دستخط نہیں ہوئے۔ ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے کہا یا صحافیوں کو سن لیں یا پھر وکیلوں کو سنیں، طریقہ کار کے مطابق مقدمہ چلایا جائے، ایگزیکٹ کیس میں کراچی کے کتنے پراسیکیوٹر تبدیل ہوئے یہ چیک کروائیں۔ چیف جسٹس نے کہا مجھے سب پتہ ہے ۔
ایک صحافی عقیل افضل روسٹرم پر آئے اور وضاحت کرتے ہوئے کہا اگر سپریم کورٹ کی کوریج کرنیوالا کوئی صحافی غلط خبر دے تو ہم اپنے پریس روم میں اُس خبر پر گفتگو کرتے ہیں اور غلط خبر دینے والے پر تنقید کرتے ہیں ،ہم کسی ایجنڈے پر نہیں ہیں ۔ اُس کے بعد شعیب شیخ نے کچھ باتیں جو نوٹ نہ کی جاسکیں ۔ چیف جسٹس نے شعیب شیخ سے کہا آپ تحریر ی طو ر پر بھی معروضات دے سکتے ہیں ۔
(جہانزیب عباسی نیو ٹی وی کیلئے سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کرتے ہیں ۔ یہ تحریر ان کی فیس بک سے لی گئی ہے اور ان کی اجازت سے شائع کی جا رہی ہے۔)

متعلقہ مضامین

One Comment

  1. مطیع اللہ نے آج سپریم کورٹ میں بلا خوف اور بہترین دلائل دیئے وہ قابل ستائش ھیں اور بے باق صحافی کی طرح بات کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button