پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ: ہے کوئی جواب؟

عفت حسن رضوی
میں نے دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سولہ تک بلا تعطل جیو نیوز اور پھر نائنٹی ٹو نیوز کے لیے سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کی،بحیثیت خزانچی پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ (پاس) کا حصہ رہی،پاس کے پاس پیسہ تھا نہیں ،خزانہ خالی تھا اس لیے بطور خزانچی ایک سال تک پاس کے خالی بینک اکاونٹ کی چیک بک ہی سنبھالی۔
قارئین ، نہ میں گھر کا بھیدی ہوں جو لنکا ڈھانے نکلا ہے اور نہ کوئی عناد ہے ہاں البتہ صحافی ہونے کے ناتے ضروری سمجھتی ہوں کہ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ اپنی حیثیت پہچانے، اپنی حدود متعین کرے، صحافیوں کی معاونت کے لیے بنائی گئی باڈی خود ساختہ سینسر بورڈ نہ بنے، صحافت کے نام پر جس کا دل چاہے پگڑی اچھالنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
سپریم کورٹ کی عمارت میں صحافیوں کے بیٹھنے کے لیے ایک کمرہ ہے یہی پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ یعنی پاس تنظیم کا ہیڈ آفس ہے بلکہ یوں سمجھ لیں کہ یہی کل کائنات ہے، یہ ایسوسی ایشن ماضی میں بڑے خلوصِ نیت کے ساتھ بنی ہوگی مگر قانون کے پینترے رپورٹ کرنے والے صحافیوں نے اب تک اس تنظیم کو قانونی طور پر رجسٹرڈ کیوں نہیں کرایا؟ جواب کسی کے پاس نہیں.
ہر سال دسمبر میں اس تنظیم کے الیکشن یا سلیکشن کا عمل ہوتا ہے جس میں کبھی ووٹنگ سے فریقین جیت جاتے ہیں اور کبھی ہمدردی یا مجبوری کے جذبے کے تحت کسی صحافی کو صدر بنا دیا جاتا ہے کہ فلاں رپورٹر اگر صدر نہ بنا تو کہیں ہارٹ اٹیک سے مر ہی نہ جائے اس لیے اس سال فلاں کو صدر بنا دو اگلے سال تم بن جانا.
ہر سال صدر بننے والے صحافی سے یہی امید لگائی جاتی ہے کہ وہ ایسوسی ایشن کے لیے فنڈز سمیٹ سکے گا مگر کم از کم میرے ہوتے ہوئے اب تک اس مشن میں کامیابی نہیں مل سکی، ہاں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور اب چیف جسٹس ثاقب نثار کی کرم نوازی کی وجہ سے پریس روم بہتر ہورہا ہے، عموماً فنڈز لینے کے آڑے آتا ہے اس تنظیم “پاس” کا سرکاری طور پر غیر رجسٹر ہونا، البتہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں اس تنظیم کو لاکھوں روپے فنڈز ملے جس سے پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صحافیوں نے نادرن پاکستان ٹوور کیا، ایک بہترین معیاری میگزین کی اشاعت بھی کی گئی، پیسہ آیا اور چلا گیا مگر یہ پاس تنظیم تب بھی رجسٹر نہیں کرائی گئی.
پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے رجسٹر ہونے میں سب سے مشکل نکتہ جو ساتھیوں کو درپیش رہا وہ ادارے کے باضابطہ قوانین کا نہ ہونا اور مالی معاملات کے آڈٹ کی عدم موجودگی ہے.
کچھ ساتھیوں کی زبانی سنا ہے کہ ایسوسی ایشن سے وابستہ نجی چینل کے ایک بزرگ صحافی نے تنظیم سے معقول رقم مستعار لی اور پھر کبھی واپس نہ کی اب وہ اسی سپریم کورٹ کے پریس روم میں بیٹھ کر سب کے بخیے ادھیڑتے ہیں تو جناب یہ تو شفافیت کا عالم ہے۔
یہ تنظیم اگر صحافیوں کو سپریم کورٹ کی کوریج کے لیے معاونت فراہم کرنے کا ذریعہ بنی رہتی تو کیا ہی خوب ہوتا مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ صحافیوں کی یہ تنظیم ذاتی و سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگی ہے ،سپریم کورٹ کا پریس روم سیاسی،نظریاتی، مذہبی، پیشہ ورانہ رقابت اور بعض اوقات عقائد کے ٹکراو کا اکھاڑا اکثر بنا نظر آتا ہے۔
برسبیل تذکرہ، گذشتہ سال عمران خان صاحب کی دعوت پر سپریم کورٹ کی کوریج کرنے والے صحافی بنی گالا ان سے ملاقات کے لئے گئے،سب نے ملاقات سے ملنے والی خبروں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں رپورٹ کیا، میں نے بھی کیا مگر عمران خان کی جانب سے غیر ملکی کرکٹرز کو پھٹیچر اور ریلو کٹا کہنے کی وڈیو رپورٹ کرنے کی پاداش میں یہی پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ بیچ میں کود پڑی، عمران خان اپنے کہے پر ڈٹے رہے مگر پاس تنظیم تو جیسے جلتے توے پر بیٹھی تھی بغیر اپنی قانونی حیثیت کا ادراک کیے میرے خلاف ایک شو کاز نوٹس ٹھونک دیا، بتایا جاتا ہے کہ ایک انگریزی روزنامے سے وابستہ صحافی نے اس وقت پاس تنظیم کے صدر ٹیرنس جے سیگمنی کو دباو میں لیا اور میرے خلاف تادیبی کارروائی کا نوٹس جاری کیا ، اس وقت بھی یہی سوال کیا تھا آج بھی کروں گی کہ پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ صحافیوں کی ایڈیٹوریل پالیسی کو ڈکٹیٹ کرے، “پاس” ایک سہولت کار تنظیم سے ایک ریگولیٹر کیسے بن گئی، آپ ہوتے کون ہیں ایک رپورٹر کو یہ بتانے والے کہ وہ خان صاحب کی کونسی بات چائے کے ساتھ پی جائے اور کونسا بیان رپورٹ کر دے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ آج تک میں اس کڑے لہجے مگر عجلت میں لکھے گئے نوٹس میں دی گئی دھمکی پر عملدرآمد ہونے کی منتظر ہوں۔
“پاس” نے پھٹیچر بیان والی خبر رپورٹ کرنے پر مجھے شکنجے میں کسنے کی کوشش کی تھی آج وہی تنظیم وحید مراد کے بلاگز اور اس کے نظریات پر سوال اٹھا رہی ہے۔
ایگزٹ جعلی ڈگری کیس کے دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے جب سپریم کورٹ رپورٹر وحید مراد سے ان کی تحریروں میں عدلیہ کے حوالے سے تلخی کی وضاحت چاہی تو ساتھ ہی چیف جسٹس نے پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے صدر طیب بلوچ کو ڈائس پر طلب کیا، اور طیب بلوچ سے پوچھا گیا کہ “پاس” تنظیم ایسی رپورٹنگ پر ایکشن کیوں نہیں لیتی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اسی وقت جواب میں کہہ دیتے کہ صحافی کی خبر کو ریگولیٹ یا ڈکٹیٹ کرنا پاس تنظیم کا دائرہ اختیار نہیں مگر طیب بلوچ نے بھی وہی پرانی غلطی دہرائی اور اپنے ہی صحافی ساتھی کے لتے لینے لگے کہ وحید مراد یہ لکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں، ارے بھئی آپ ہوتے کون ہیں یہ پوچھنے والے کہ کوئی صحافی کیا لکھتا ہے۔
جناب چیف صاحب معاملہ سیدھا سا ہے، یہ “پاس” نامی تنظیم صحافیوں کو یہ بتانے اور جتانے کی مجاز نہیں کہ انہیں کمرہ عدالت سے کب کیا رپورٹ کرنا ہے، نہ ہی عدالت صحافی کو توہین عدالت کے قانون سے دھمکا کر اس سے الفاظ چھین سکتی ہے، جہاں اتنے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں ایک نوٹس پاس تنظیم کو بھی جاری کیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ عدالت عظمی کے اندر واقع یہ تنظیم “پاس” کس قانون کے تحت چلتی ہے .
آج اگر معمول کی ڈگر سے ہٹ کر صحافت پریکٹس کرنے والے صحافیوں کے پر کاٹے جائیں گے تو اونچی پرواز آپ بھی نہیں اڑ سکتے جناب!
امید کرتی ہوں پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ کے ساتھی ذاتیات پر حملے کرنے کے بجائے اپنی صفوں میں موجود فتنہ پرور افراد کو پہچاننے گے اور ان اعتراضات کا مثبت جواب دیں گے. (بشکریہ ہم سب)
نجی نیوز چینل میں ڈیفنس کاریسپانڈنٹ عفت حسن رضوی، بلاگر اور کالم نگار ہیں، انٹرنیشنل سینٹر فار جرنلسٹس امریکا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی فیلو ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے