تم نے کس کو کھو دیا لوگو !

احساس/ اے وحید مراد
وہ عورت شاعرہ نہ تھی۔ اس نے شاید کبھی زندگی میں یہ شعر نہ پڑھا ہوگا کہ
جس روز ہمارا کوچ ہوگا
پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی
مگر وہ ایسے ہی موسموں میں رخصت ہوئی کہ جب شجر بے ثمر ہیں ۔ کوئی پتہ ہے نہ پھول ۔ اور اسلام آباد کا وہ آسمان بارش کی صورت میں زار و قطار آنسو بہا رہا ہے جس فلک کی آلودگی سے پاک آنکھیں گزشتہ چالیس دن سے خشک پڑی تھیں۔ وہ لوگ جو آسمان کے رونے کی دعائیں مانگ رہے تھے انہیں کیا معلوم تھا کہ بادل عاصمہ جہانگیر کے رخصت ہونے پر آئیں گے، اپنے دلوں کے پرچم جھکانے ۔
وہ عورت نہیں رہی جو ایک چیخ تھی ۔ ظلم اور جبر کے خلاف، لاقانونیت اور تشدد کے خلاف، نفرت اور بے امنی کے خلاف، امتیاز اور تفریق کے خلاف، آمریت اور مطلق العنانیت کے خلاف ۔ وہ عورت جو شعورکی روشنی تھی اور اس نے معاشرے کو منور کرنا چاہا تھا۔ وہ عورت جس نے کسی طالع آزما کے سامنے سر نہ جھکایا۔
شہریوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے کے ’جرم‘ میں اس عظیم عورت کو تاریخ ’مطالعہ پاکستان‘ میں پڑھنے والی ذہین قوم نے ہر وہ گالی دی جو قدیم وجدید غلیظ لغت میں موجود تھی مگر اس کے پائے استقامت میں لغزش نہ دیکھی گئی ۔ موت سے اڑتالیس گھنٹے پہلے اس کے ساتھ سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت ایک میں موجود تھا جہاں اس کو بول ٹی وی کے اینکر کی جانب سے بتایا گیا کہ آپ جانتی ہیں میڈیا ٹرائل کیا ہوتا، آپ کا بھی ہوتا رہا ہے، تو اس عورت نے بے پروا ہو کر جواب دیا کہ بہت ہوا ہے، اور آئندہ بھی ہوگا مجھے فرق نہیں پڑتا ۔
وہ معاشرہ جہاں عورت ہونا اذیت بنتا جارہاتھا عاصمہ نے اسے اعزاز بنا دیا۔
اب وہ بچے یتیم ہوگئے ہیں جن کی مائیں ان کی گمشدگی پر آواز اٹھانے کیلئے عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کرتی تھیں۔کمزوروں اور مظلوموں کے سر سے شفقت کا سایہ اٹھ گیا ہے ۔ ظالم کو للکارنے والی آواز خاموش ہوگئی ہے۔ اس ملک کے ہر مظلوم اور کمزور کیلئے وہ ایک سایہ دار شجر تھیں۔ وہ سردیوں کی دھوپ اور گرمیوں کی چھاﺅں جیسی عورت رخصت ہوگئی۔وہ عورت جس کو میں نے ہمیشہ ایک مہربان ماں کے طور پر دیکھا، ایسی ماں جو ہمیشہ مجھے ’وحید صاحب‘ کہہ کر پکارتی تھی۔ وہ عورت جس کو وکیلوں کے ہاسٹل میں ہوٹل چلانے کی قانونی حیثیت پوچھنے والے میرے سوال کبھی کبھی برہم کر دیا کرتے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ سب کچھ بھول جایا کرتی تھی ۔ وہ عورت جس کو میں نے آخری بار جمعرات کے روز فون کرکے تاحیات نااہلی کیس میں دیے دلائل کے حوالوں کی تفصیل جاننا چاہی تو اس کا فون مصروف تھا۔ تین منٹ تک واپس کال نہ آئی تو میں نے دفتر میں ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے میڈم عاصمہ سے میرا فون نمبر ڈیلیٹ ہو گیا ہے، اور ابھی بات مکمل نہ ہوئی تھی کہ میرے فون کی اسکرین پر اس عظیم عورت کا نام نمودار ہوگیا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ میری ان سے آخری گفتگو ہے ۔ فون ریسیو کرتے ہی ان کی توانا آواز گونجی، جی وحید صاحب ۔ اور پھر چارمنٹ تک میرے سوالوں پر جواب دیتی رہیں ۔ اب میں ساری زندگی فون سے ان کا نمبر ڈیلیٹ کرنے کی ہمت نہیں کر پاﺅں گا۔ اگر معجزے ہوتے ہیں تو کسی دن غلطی سے بھی ان کا نمبر ڈائل ہوگیا تو وہ کال بیک کرلیں گی۔
وہ عورت جس کی موت سے سوشل میڈیا پر آنسوﺅں کا سیلاب رواں ہے، مگر اسلامی تعلیمات سے ناآشنا کچھ نفسیاتی مریض اس عورت کے تابوت پر تھوکنے میں اپنی غلاظت اپنے چہرے پر مل رہے ہیں۔ آسمان جتنا قد رکھنے والی اس عورت نے زندگی بھر کبھی ان فکری بونوں کی پروا نہیں کی۔ وہ سرخرو ہے، اس نے زندگی اپنے اصولوں پر بسر کی اور ایسی گزاری کہ رشک آتا ہے۔
سات برس قبل سوات آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ اگر آپ کو اپنی رائے کاحق ہے تو طالبان کو کیوں نہیں ۔ بولیں، وحید صاحب، رائے کا حق ہے، لوگوں کو مارنے کا نہیں۔ اور پھر جب آپریشن کے خاتمے پر سوات کے ستائیس سو جوان لاپتہ ہوگئے تو طالبان نے عاصمہ جہانگیر سے رابطہ کیا کہ کوئی وکیل ہمارا مقدمہ لڑنے کیلئے تیار نہیں تب عاصمہ جہانگیر نے بتایا تھاکہ انتیس خاندان سامنے آئے ہیں ان کا مقدمہ لڑوں گی، ریاست کو اپنے بچے لاپتہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس عورت کے مرنے پر اگر قومی پرچم سرنگوں نہیں ہوا تو کیا ہوا ۔ اس کی شخصیت ان علامتی چیزوں سے اوپر تھی، وہ من موجی درویش تھی۔ اس کی موت پر کروڑوں لوگ اپنے دلوں کے پرچم جھکائے اس کو رخصت کر رہے ہیں اور آسمان شبنم افشانی کر رہا ہے ۔
میں اگر شاعر ہوتا تو اس عورت کے اس طرح اچانک چلے جانے پر ایک آفاقی نظم لکھتا مگر مجھ پر شاعری نہیں اتری، میں اس عورت کیلئے دعا مانگتا ہوں
اے خدا
تم اس عورت کو جانتے ہو
وہ عورت جس کو دنیا عاصمہ کہتی تھی
وہ عورت جہاں گیر ہوگئی
جس نے زمانے کے ہر جھوٹے خدائی دعوے دار کو للکارا
وہ عورت
جس نے تیرے مظلوموں کی داد رسی کیلئے آواز اٹھائی
جو ہر ظلم کے خلاف باہر نکلی
جسے ہر مظلوم بلاتفریق رنگ ونسل ملنے آتا تھا
وہ عورت جو کمزور کی آواز بنی
اے خدا، ہم نے اس عورت کو بہت دکھ دیے
وہ عورت جس کا دل مظلوموں کے دکھوں سے بھرا ہوا تھا
وہ دل جو درد سے پھٹ پڑا، اور جسم کا ساتھ چھوڑ گیا
وہ عورت زخمی دل لیے تیرے پاس آگئی ہے
اس کے دل کادرد تم جانتے ہو
اے خدا، اس عورت کو اپنے باغوں میں داخل فرما

متعلقہ مضامین