این اے 154 سے ن لیگ کا سرپرائز

تحریر : محمد عمران (ڈان نیوز)

دوہزار پندرہ کے ضمنی انتخاب میں 40ہزار ووٹوں سے جیتنے والی پی ٹی آئی دو ہزار اٹھارہ میں ایک بڑی لیڈ سے شکست سے دوچار ہوچکی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی کامیاب حکمت عملی نے پیر اقبال شاہ کی نیا پار لگا دی اور جہانگیر ترین کی ضرورت سے زیادہ پر اعتمادی علی ترین کی ہار کا سبب بنی ۔یہ الیکشن پی ٹی آئی کیلئے ویسا ہی تھا جیسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوری بعد این اے 120 مسلم لیگ ن کیلئے تھا ۔مسلم لیگ ن تو اس معرکے میں کامران ہوئی لیکن پی ٹی آئی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ہوا کچھ یوں ہے کہ مسلم لیگ ن نے عام انتخابات سے چار ماہ قبل ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں نسبتاً کمزور امیدوار کو ٹکٹ دیا لیکن اس کی جیت کا ٹاسک ان کو دے دیا جو 2018 کے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کے امیدوار ہیں ۔سید اکبر علی شاہ، صدیق خان بلوچ، سید رفیع الدین شاہ بخاری، احمد خان بلوچ اور نذیر احمد خان بلوچ نے اپنے اپنے علاقے میں پیر اقبال شاہ کی جیت کیلئے پولنگ سے پہلے صبح تک اور پھر پولنگ کے دن ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک لانے کیلئے خود فیلڈ میں موجود رہے تاہم دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت پولنگ کے دن اتنی زیادہ متحرک نظر نہیں آئی ۔پی ٹی آئی قیادت نے سارا الیکشن اپنی جونیئر ٹیم کو سونپ کر خود صرف مانیٹرنگ کی زمہ داری ہی پوری کی ہے ۔ لوگ منتظر رہے کہ جہانگیر ترین یا ان کے بیٹے پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کریں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹکٹ کے امیدواروں نے اپنی اپنی یونین کونسلز کی زمہ داری خوب نبھائی ہے اور جب حلقے کو مختلف گروپوں میں بانٹ دیا گیا تو ووٹرز کو قائل کرنا اور بھی آسان ہوگیا ۔مسلم لیگ ن کے امیدوار کی جیت میں بلدیاتی نمائندوں کا کردار نہایت اہم رہا ہے ۔ بلدیاتی انتخابات میں اکثریت بھی مسلم لیگ ن کی ہی ہے انتخابی مہم کے دوران دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر یونین کونسل کا چیئرمین اپنے علاقے میں ایک ایک گھر جا کر ووٹ مانگتا رہا ہے اور پولنگ کے دن بھی یہی صورتحال رہی ہے ۔ جب غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری تھا تب بھی لیگی چیئرمینز اپنی پارٹی کیلئے زمہ داریاں نبھا رہے تھے ۔ وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عبدالرحمن کانجو نے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو لیڈ کیا ہے اس جیت سہرا ان کے سر بھی جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ کہ چار ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی(جہانگیر ترین) این اے 154کی نشست واپس حاصل کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں کیا اب بھی وہ سر پنچوں، سرداروں اور زمینداروں پر ہی انحصار کرتے رہیں گے یا عوام کی قربت حاصل کر نے کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت حلقے میں گزاریں گے ۔۔

متعلقہ مضامین