طاقتور بیورو کریٹ کو کانپتے دیکھا

سپریم کورٹ سے عدیل وڑائچ

ملک کے طاقتور ترین سمجھے جانے والے بیوروکریٹ ، جن کا نام سن کر بیوروکریٹس بھی ڈرتے ہیں ، وزیر اعظم کے سیکریٹری فواد حسن فواد، ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ ملک کے سب سے بڑے منصف نے پوچھا "کدھر ہے فواد حسن فواد ؟ ". وزیر اعظم کے سیکریٹری آگے بڑھے اور کہا کہ میں ہوں فواد حسن فواد۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تم ہی سب کچھ چلا رہے تھے ؟ فواد حسن فواد بولنے لگے تو چیف جسٹس نے کہا کہ پیچھے جا کر کھڑے ہو جاؤ۔ ملک کے انتظامی معاملات میں بے پناہ اختیارات اور بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کی طاقت رکھنے والے فواد حسن فواد ہاتھ میں فائلیں لئیے سر جھکائے ایسے کھڑے تھے جیسے کوئی معمولی سرکاری ملازم۔ چیف جسٹس کی گرجدار آواز اور اس طاقتور بیورو کریٹ کا سر جھکا کر سننا، دیکھنے والا منظر تھا۔ سینیٹر پرویز رشید بھی ساتھ روسٹرم پر کھڑے تھے۔ چیف جسٹس نے فواد حسن فواد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری پروموشن ابھی گریڈ بائیس میں ہوئی ہے نا،جب عطا الحق قاسمی کی تقرری ہوئی تو گریڈ اکیس میں تھے۔ عطا الحق قاسمی کی تقرری کی سمری کے بارے بتاؤ، اگر یہاں جھوٹ بولا تو واپس وزیر اعظم سیکریٹریٹ نہیں جاؤ گے۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ سر ،میں نے کبھی غلط بیانی سے کام نہی لیا۔ چیف جسٹس بولے "وضاحت کیوں دینی پڑ رہی ہے، کیا کسی نے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے؟” چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے وہ بندہ چاہیے جس کو عطالحق قاسمی کے نام کی سمری بھجوانے کا خیال آیا۔ وقفے کے بعد فواد حسن فواد نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے پرنسپل سیکریٹری کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت ہے، پیچھے جا کر کھڑے ہو جاؤ، آپ نے وزیر اعظم ہاؤس کا اقتدار دیکھا ہے، وزیر اعظم ہاؤس کا اقتدار اور طرح کا ہے۔

قریباً 6 برس قبل ایسا ہی منظر افتخار محمد چوہدری صاحب کی عدالت میں دیکھنے کو ملا۔ جب ڈی ایم جی گروپ کے گریڈ بائیس کے افسر اور اس وقت کے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ سہیل احمد ، پولیس سروسز کے ایک افسر کے تبادلے کے معاملے پر پیش ہوئے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ حسین اصغر کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن ابھی جاری کرو ورنہ جیل جاؤ گے, اس روز اس طاقتور افسر کو روسٹرم پرکانپتے دیکھا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا،، آدھے گھنٹے میں وہ نوٹیفیکیشن تو جاری ہو گیا مگر اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سہیل احمد کو اسی روز ہٹا دیا۔
یہ تو صرف دو واقعات ہیں، بحیثت صحافی ایسا بہت کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں ، تین وزرائے اعظم کو نا صرف کٹہرے میں کھڑے دیکھا بلکہ دو کی نااہلی کو خود رپورٹ بھی کیا۔ عدالتی فعالیت پر تنقید کرنے والے تو بہت ہیں مگر ادارے اور ملک کو چلانے والے اگر ٹھیک کام نہ کریں تو عوام میں مایوسی پھیلتی ہے ، جب عام آدمی کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اس ملک میں تگڑے کو بھی پوچھنے والا کوئی ہے تو عام شہری کا نظام پر اعتماد بحال ہوتا ہے۔

(عدیل وڑائچ دنیا ٹی وی سے منسلک ہیں، یہ تحریر ان کی اجازت سے فیس بک سے لی گئی ہے)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button