کیا چور پارٹی سربراہ بن سکتا ہے؟

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کیخلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔سماعت کے آغاز پرمسلم لیگ ن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل شروع کئے کہ پولیٹیکل پارٹی ایکٹ 2002میں سیکشن پانچ نرالا تھا،سیکشن پانچ کے زریعے پارٹی سربراہ کے لیے قدغن لگائی گئی، آرٹیکل 19اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے،آرٹیکل 17 تنظیم سازی کو تحفظ دیتا ہے، سیکشن پانچ آرٹیکل 17اور19کی خلاف ورزی تھا، سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ سیاسی جماعت کو اپنا سربراہ مقرر کرنے کی اجازت ہے،آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اثر محدود ہے ، آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا اطلاق آراکین اسمبلی پر ہوتا ہے، آرٹیکل باسٹھ کے تحت رکن اسمبلی بننے پر قدغن ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ڈیکلئیر کر دیا کہ پارٹی سربراہ نااہل شخص نہیں بن سکتا، اگر قانون کالعدم ہو جاتا ہے تو سینٹ الیکشن کے ٹکٹ کا کیا ہوگا، کیا قانون کالعدم ہونے پر واک اوور ہوگا، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کیا سینٹ کا الیکشن دوبارہ ہوگا، چیف جسٹس نے کہا ہمیں ان تمام سوالات کے جواب بھی دیں انتخابی اصلاحات پر پارلیمنٹ نے انتخابی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی،جب بنیاد ختم ہو جاتی ہے تو اس پر کھڑا ڈھانچہ بھی گر جاتا ہے،،سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے سب کمیٹی تشکیل دی جس نے تجاویز دیں ،سب کمیٹی نے 25دسمبر2016کوقانون کا مسودہ تیار کیااس قانونی مسودے پرتمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں پھر قانون پرسب کمیٹی میں بحث ہوئی۔جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ کیاشق 203پرکمیٹی میں بحث ہوئی ۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمیٹی میں تمام جماعتوں کے اراکین شامل تھے ،قانون سازی میں کوئی بدنیتی شامل نہیں ۔چیف جسٹس نے سوال اُٹھایا کہ کیامتفقہ طور پر تیار قانون آئین سے متصادم نہیں ہوسکتا، آئین سے متصادم ہونے پر قانون کالعدم ہوسکتاہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اگر کوئی شخص چوری کرتے پکڑا جائے وہ پارٹی سربراہ بن سکتا ہے؟کیا کسی چور کوپارٹی سربراہ بنایا جا سکتا ہے؟ جس پہ جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی سربراہ بنایا جاسکتا ہے۔۔۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کیا پارٹی سربراہ کے لیے کوئی اخلاقیات نہیں؟پارٹی سربراہ پر بہت ذمہ داری ہوتی ہے، پارلیمانی سیاست میں پارٹی سربراہ کا کردار نہایت اہم ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی سربراہ برائے راست گورننس پر بھی اثر انداز ہوتا ہے،۔مسلم لیگ ن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اپنے کام کے طریقہ کار خود اختیار کرتی ہے، پارلیمانی کمیٹی کے اراکین پارٹی سربراہ یا پارٹی کے آئین کے پابند نہیں ہوتے،آئین میں نااہل شخص کے حوالے سے قانون موجود ہے، سلمان اکرم راجہ نے دلائل جاری رکھے کہ پارلیمانی پارٹی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے پابند نہیں ہوتی، سیاسی جماعت کا سربراہ پارلیمانی پارٹی کے ممبر کو ہٹا نہیں سکتا۔۔جسٹس محمد عطا بندیال نے کہ ا کہ پارٹی سربراہ نااہلی کا کیس الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سربراہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کا پابند نہیں، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا ڈسپلن کی خلاف ورزی سیاسی جماعت کا اندرونی معاملہ ہوتا ہے،۔چیف جسٹس نے کہا کہ اصل فیصلہ تو سربراہ نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سیاسی جماعت سربراہ کے گرد گھومتی ہے،سیاسی جماعت کا سربراہ پارلیمنٹرین کو کنٹرول کرتا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی سربراہ کسی رکن کو براے راست نااہل نہیں کرسکتا،سلمان اکرم راجہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نااہلی کے معاملے کا جائزہ میرٹ پر لینا ہوتا ہے، الیکشن کمیشن میں بیس ہزار سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں،جب کہ ہر سیاسی جماعت پارلیمنٹ کا حصہ نہیں،چیف جسٹص نے ریمارکس دیے کہ آپ کا موقف احمقانہ اور مضحکہ خیز ہے ، کیا پارٹی سربراہ کا حکومت سازی میں کردار ہے، الیکشن کمیشن سے ریکارڈ منگوایا ہے، تا کہ دیکھنا دیکھنا ہے پارٹی ٹکٹ کون جاری کرتا ہے،دیکھنا ہے سینٹ الیکشن میں ٹکٹ کس نے جاری کیے، عدالت نے پیپلز پارٹی۔مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فارم طلب کر لیا جس پر الیکشن کمیشن کا نمائندہ عدالت میں پیش اور عدالت کو بتائے کہ سینیٹ کے لیے پارٹی ٹکٹ کس نے جاری کیے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بتایا جائے 14 ویں ترمیم کتنے وقت میں پاس ہوئی۔اور 14ویں ترمیم میں کیا بحث ہوئی اٹارنی جنرل آفس ریکارڈ پیش کرے۔عدالت نے 1997 میں ہونے والی 14ویں ترمیم کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا کہ 14ویں ترمیم کس سیاسی جماعت کے دور میں ہوئی؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 14ویں ترمیم کی کہانی کاعلم ہے ،،،دیکھناچاہتے ہیں 14ویں ترمیم کتنے وقت میں پاس ہوئی ۔سلامن اکرم راجہ نے جواب دیا کہ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کارکن کونااہل کرنے کااختیار محدود کردیاگیا،،18ویں ترمیم کے بعد پارٹی سربراہ نااہلی کامعاملہ الیکشن کمیشن کو یفر کر سکتا۔۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا پارٹی سربراہ کاپارلیمانی کمیٹی کے کام میں کردار ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اُٹھایا کہ اراکین اسمبلی پارٹی سربراہ کی ڈائریکشن کے خلاف کیسے جاسکتے ہیں، یہ سیاسی جماعت ہے کمپنی نہیں_اگر کوئی شخص ممبر اسمبلی نہیں بن سکتاتو سربراہ کیسے بن سکتاہے،کیاسنگین جرائم میں سزاپانے والاشخص پارٹی سربراہ بن سکتاہے۔۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ کوئی بنانا ری پبلک نہیں ہے،،چیف جسٹ ٹس نے کہ کہ کیامنشیات فروش کسی پارٹی کاسربراہ بن سکتاہے۔۔۔۔۔مسلم لیگ نے قانون میں پارٹی سربراہ کے لیے کوئی قدغن نہیں ہے۔پارٹی چاہے تو ایسے شخص پر قدغن لگاسکتی ہے، قانون میں اس وقت کوئی قدغن نہیں ہے، پارلیمنٹ نے اپنی بصیرت سے قانون پاس کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیامنشیات فروش کسی پارٹی کاسربراہ بن سکتاہے : اگر پارٹی سربراہ رکن اسمبلی بن جائے تو پارلیمانی کمیٹی سربراہ کیخلاف ایکشن کا نہیں کہہ سکتی، اس لیے نہیں کہہ سکتی کیونکہ ایکشن تو پارٹی سربراہ نے لینا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایک شخص کو عدالت نااہل قرار دے چکی، ایک شخص کو غیر امین غیر ایماندار قرار دے چکی ہے، ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا، سلمان اکرم راجہ نے جوابا دلائل دیے کہ کیا بطور انسان ان کے بنیادی حقوق ختم ہو گئے؟کیا ایسے شخص کے تنظیم سازی اور اظہار رائے کے حقوق ختم ہو گئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ایسے شخص کے تمام حقوق ہیں لیکن سربراہ نہیں بن سکتا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آئین پارٹی سربراہ بننے پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتا ۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت کمپنی نہیں ہوتی، ایسا شخص جو پارلیمنٹ کا رکن نہ ہو کیا پارلیمنٹ کے اراکین کو کنٹرول کرسکتا ہے، وکیل نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں سیاست دان نااہل ہوئے انھیں جلا وطن کیا گیا، جسٹس اعجاز نے کہا کہ ایسا شخص جسے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو وہ پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا، وکیل نے کہا کہ کیا عدالت نااہل قرار دیئے گئے شخص کو بولنے کے حق و بنیادی حقوق سے متاثر کر سکتی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرسکتی لیکن نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا خائن شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، وکیل نے کہا کہ ایسے لوگ جو قتل جیسے سنگین الزامات کا سامنا کرتے رہے وہ شہری برقرار رہے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ڈرگ ٹائیکون پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ کوئی پابندی نہیں، جسٹس عمر عطا نے پوچھا کہ اگر کوئی وار لارڈ ہو جس کی بنانا ریپبلک کی طرح اپنی فوج ہو کیا وہ پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، وکیل نے کہا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ کی دانست پر چھوڑ دیں، آرٹیکل 17 معاملے کو دیکھنے کیلئے کافی ہے_

چیف جسٹس نے کہا کہ سلیمان اکرم راجہ صاحب بلڈ پریشر ہائی نہ کیا کریں، پہلے ہی بلڈ پریشر ہائی کرنے کی وجہ سے ایک دنیا سے چلی گئی، عدالت نے سلمان اکرم راجہ کوکل دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے