ویلنٹائن ڈے اور اسلامی شریعت

سبوخ سید

ویلنٹائن ڈے کا اسلام اور شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔
اچھا بھائی
میں بھی ایک عرصے سے انہیں یہی سمجھا ہو ریا ہوں کہ ویلنٹائن کا اسلام اور شریعت سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ اڑھائی سطروں کی مار کمینے لوگ سمجھتے ہی نہیں ،
ابھی کرانچی کے ماڑواڑی روڈ پر ایک شوقیہ ویلنٹائنی نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈالوا رہا تھا ۔
میں بولا اڑے بھائی ، پس تم جان لیو کہ ویلنٹائن ڈے کا اسلام اور شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ کہنے لگا یہ تو پتا ہے، ہم نے کب اسے اسلام اور شریعت کا حکم سمجھ کر منایا ؟
میں نے خیران ہو کر اس کے لمبے لمبے بالوں کو چھوتے ہوئے کہا
"بیٹا ، جب پتا ہے تو پھر مناتے کیوں ہو ”
عجیب یکطرفہ قسم کا کمینہ نکلا
موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور یہ کہتے ہوئے بھاگ گیا کہ
جس طرح ویلنٹائن ڈے کا اسلام اور شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح فرقہ واریت ،قتل وغارت ، گالم گلوچ کا بھی اسلام اور شریعت سے کوئی تعلق نہیں ۔
میں وہ منا رہا ہوں جس کا اسلام اور شریعت میں کوئی حکم ہی نہیں اور تم وہ کر رہے جسے اسلام اور شریعت نے حرام ، ناجائز ، کفر اور فسق قرار دیا ہے ۔
میں ایک دن غلط کام کرتا ہوں اور آپ پورا سال یہی دھندا کرتے ہو اور کرتے بھی اللہ کے گھر میں ہو ۔
میرے ویلنٹائن ڈے منانے سے کسی کا کچھ نقصان نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف نہیں پہنچتی ، کسی کی جان نہیں جاتی اور تمھارے کاموں سے قبرستان آباد ہو گئے ۔ مائیں کی گودیں ویران ہو گئیں ، جوان لڑکیوں کے سہاگ اجڑ گئے ، اسلام کا نام بدنام ہو گیا ۔ معاشرہ مذہب بیزار ہو گیا ۔
ہم دونوں ہی غلط کر رہے ہیں لیکن تم بڑے غلط ہو ۔ اب چھاننی لوٹے کو دو چھیدوں کا طعنہ دیتی اچھی لگتی ہے کیا ۔
زرا سوچنا ، میں زیادہ غلط ہوں یا تم
میں قدموں تلے سے زمین سرکی ، ندائے غیب آئی
بھنڑ دی سری
کہتا تو سچ ہے ۔ اس دوران صورت الہام مجھ پر کلام خادم حسین رضوی اترا اور سی ویو سے لیکر حیبیب بنک پلازہ تک چار ڈانگ عالم کے دماغ میں بتیاں جلنا شروع ہو گئیں ۔
ھل من ناصر ینصرنا
(سبوخ سید منجھے ہوئے صحافی اور لکھاری ہیں)

متعلقہ مضامین