آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے موت ہو ہی جائے گی، زینب کے قاتل کو سزا تو مل گئی اور دل کو سکون آ گیا مگر آئین اور قانون کی بالا دستی کیلئے یہ سب کچھ کافی نہیں۔ ایک جاہل اور نفسیاتی مریض درندے کو کیفر کردار تک پہنچا کر عوام کے غصے کو عارضی طور پر ٹھنڈا تو کیا جا سکتا ہے مگر اس مسئلے کا مستقل حل قانون کے بلا امتیاز اطلاق میں ہے۔

ہم آرمی پبلک سکول پشاور کے قاتل درندوں اور زینب جیسی بچیوں کے مجرموں کو جتنی بڑی تعداد میں گولیوں سے چھلنی کریں یا انہیں پھانسیوں پر لٹکائیں اس سے آئین اور قانون کی بالادستی ثابت نہیں ہو گی۔ کرائے کے قاتل دہشت گرد ہوں یا جاہل جنونی، کو ماورائے عدالت یا بذریعہ عدالت موت کے گھاٹ اتارے جائیں عوام کو کوئی غرض نہیں اور خاص کر جب ایسے ملزمان فوج یا پولیس کے تحویل میں ہر قسم کے جرائم کا اقرار کر کے مقدمات کی فائلیں بند کروانے پر تیار ہوں تو پھر انصاف اور قانون کی نام نہاد بالادستی کیلئے اداروں اور حکام کو زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی۔ زینب کے مجرم عمران کو چار بار سزائے موت دیں یا دس بار اور جتنے کروڑ روپے بھی جرمانہ عائد کریں اس سے لواحقین کے آنسو تو پونچھے جا سکتے ہیں مگر وہ زینب واپس نہیں آ سکتی جس نے شائد اس ملک کی قیادت بھی کرنا تھی۔

موجودہ سیاسی حالات میں اداروں کے عمل اور رد عمل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم سب معاشرے کے مرض کا علاج کرنے کی بجائے اس کے زخموں پر محض مرہم رکھ رہے ہیں۔ اس معاشرے میں حکیم تو پہلے ہی بہت تھے مگر اب نیم حکیم بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اپنا اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے نہیں لگتا کہ ہمارا کوئی بھی ادارہ آئین اور قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کر پائے گا۔ میڈیا کی چکا چوند نے بہت سوں کو اندھا کر دیا ہے، کوئی پریس ریلیزوں اور جلسے جلوسوں کی تقریروں سے حکومت چلا رہا ہے تو کوئی ٹی وی کیمروں کے سامنے حکمت کی پڑیا بیچ رہا ہے۔ اسی طرح اپنے ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف خوفناک جنگ کے بیچ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کوئی اقوام متحدہ امن فورس کا ملازم ہے یا پھرکسی برادر اسلامی ملک کے دفاع واسطے چل نکلا ہے۔

عوام کی منتخب پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کا بنایا آئین اور قانون موم کی وہ ناک ہے جس کو ہر ادارہ اپنی سہولت کے مطابق موڑ رہا ہے۔ معاشرے کی آنکھ اور کان ،میڈیا اور اسکے ارکان کو واضح طور پر خبر دار کردیا گیا ہے کہ "اگر آپ ہمارے دوست نہیں تو دشمن ہو”۔ایک خاص تسلسل اور زاویے سے میڈیا کو آنے والے وقت میں کسی خاص واقعہ اور اس کے دُرران اسے لگام ڈالنے کیلئے ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے عدلیہ کے سرگرم ہونے سے متعلق کہا تھا کہ شائد نگران حکومت آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے۔ عدلیہ کی طرف سے سیاست دانوں خصوصاً حکمران جماعت سے متعلق جس قسم کے جارحانہ ریمارکس دیے جا رہے ہیں ان کی مثال نہیں ملتی ، یہ بھی کہا گیا کہ برطانیہ میں اب ججوں کو بھی عوامی تقریبات میں خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دینے کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ غیر ملکی فیصلوں اور روایات کے حوالے دینا اچھی بات ہے مگر پھر پوری دنیا میں تو ہین عدالت کے قوانین اور اس حوالے سے سزاؤں کی روایت بھی معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ اور ویسے بھی دنیا بھر کے مہذب ممالک اور ان کی عدالتوں کی وہ تاریخ و معیار نہیں جو ہمارا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا میڈیا بھی عوام کی آنکھ ، کان اور زبان بننے کی بجائے مقتدر قوتوں کا دست و بازو اور ان کی آواز بنتا جا رہا ہے۔ چاہے فاضل ججوں کے صحافت اور صحافیوں سے متعلق جارحانہ ریمارکس ہوں یا توہین عدالت کی دھمکیاں، پاکستانی صحافت پہلی بار ایک ایسی قوت کے نشانے پر ہے کہ جس کا کام عوام کی آزادی رائے کا تحفظ کرنا تھا۔ اس سے پہلے حکومتیں اور فوجی حکمران باالترتیب اپنی سیاست اور غیر آئینی اقتدار کو بچانے کیلئے مذہبی جنونیوں کا سہارا لیتے تھے مگر اب یہ کام انصاف کے علم برداروں نے بھی شروع کردیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ایسے مذہبی جنونیوں کے توہین آمیز الفاظ کا نوٹس نہیں لیا جاتا بلکہ ایسے عناصر کواپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔اپنی اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے مذہب کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی روایت پنپ گئی ہے۔ اس خطرناک رجحان نے آنے والے سیاسی اور انتخابی عمل کے دوران ایک خطرناک تقسیم کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اسکے نتیجے میں سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی انتشار کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہوگا جو جمہوریت کے خلاف ایک نئے لبادے میں متحرک ہو چکی ہیں۔ اس حوالے سے یہ کہنا شائد غلط نہ ہو گا کہ کچھ حضرات ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت آنے والے انتخابی عمل کو سبوثار کرنے کی بھرپور تیاری میں ہیں اور اس بار جاوید ہاشمی کے خدشات کے عین مطابق عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اجتماعی زیادتی میں ایک نکاح خواں بھی شامل ہو گا جس کے فوراً بعد عوامی مینڈیٹ کو نکاح خواں کی زوجیت میں دے دیا جائے گااور ایک شاندار ولیمے کا بھی اہتمام ہو گا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button