ہماری پالیسی کےدو عناصر

سر تسلیم خم ہونا اورگالی دینا!!
تحریر:عبدالجبارناصر
کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کی سلامتی، بقا ،ترقی اور فلاح و بہود کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور یہ پالیسی پارلیمنٹ بناتی ہے ۔اسی کے تحت دوستوں اور دشمنوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ کل یا جز وقتی فیصلے حالات کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ کبھی پالیسی جارحانہ ہوتی تو کبھی انہتائی نرم ۔کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی میں بنیادی چیز اس ملک کا مفاد ہوتا ہے اور ہر ملک اپنے مفاد کے مطابق دوسرے ممالک سے تعلق قائم اوربرقرار رکھتا یامنقطع کرتا ہے،لیکن شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پالیسی سازافراد میں سے ایک بڑی تعداد عملاََ اپنے ملکی مفادات کے بجائے دوسرو ں کے مفادات کومدنظر رکھتے ہیں ۔ہم جب اپنی پالیسی شخصیات کا جائزہ لیتے ہیں ان کی پالیسی میں ’’جابر کے سامنے بچھ جانا‘‘ اور موقع پڑنے پر’’دوستوں کودنیا کے سامنے ننگا کرنا‘‘شامل ہے۔ عجب تماشہ یہ ہے کہ جوابی ردعمل پر پھر شکوہ،شکایات اوران کی خامیاں گننا شروع کر دیتے ہیں۔
2015 کی طرح آج بھی پارلیمنٹ میں بعض نمائندوں نے عرب دنیا کے حوالے سے جو غیر محتاط زبان استعمال کی، یقیناََ کھلے عام اس طرح کی زبان کا استعمال کرنا نہ صرف نا مناسب بلکہ مزید خلیج اور دوریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ 2015 میں یمن کے معاملے پر پارلیمنٹ میں ہمارے بعض نمائندوں نے عربوں کی نسلوں تک کو معاف نہیں کیا ۔جب ان کا جھکاؤ ہمارے اس منفی رویے کے بعد بھارت کی طرف ہوا تو ہم نے شکوے شروع کر دئیے ۔جو بات ہم کھلے عام تلخ انداز میں کہہ رہے تھے وہ بات بند کمرے میں سفارتی انداز میں بھی ہوسکتی تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ محمود خان اچکزئی سمیت بعض سینئر پارلیمنٹرین نے دوست ممالک کے حوالے سے ایسی جذباتی تقرریں کیں کہ دشمن بھی ایسا نہیں کرتے ۔جب بھی سعودی عرب اور عربوں کی بات آتی ہے تو پیپلز پارٹی ہمیشہ خم ٹھوک کر سامنے آجاتی ہے اور پھر اس کے دیکھا دیکھی دیگر بھی شروع ہوجاتے ہیں۔معاملہ یمن کا ہو یا ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضہ حسنہ کا یا آج فوجی تربیت کے لئے بھیجے گئے ایک ہزارفوجیوں کا ہر بار ہمارا یہی رویہ ہوتا ہے۔ اس بار بھی پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر ،اعتزاز احسن اور دیگر نے پارلیمنٹ میں جس طرح کے سوالات کئے اور تلخ زبان استعمال کی یقیناََ وہ عرب ممالک بالخصوص پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔اعتزاز احسن کی تقریر کا جو حصہ میڈیا میں آیا ہے اس کے مطابق موصوف کی دلیل یہ ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین فوجی تعاون اور تعلقات سے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات میں منفی اثرات مرتب کریں گے۔ اس پر پاکستانی قومی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ جب ایران نے چاہ بہار کی بندرگاہ ہمارے دشمن بھارت کے حوالے کردی تو کیااس وقت ایران نے پاکستان سے پوچھا یا اس بات کا خیال رکھا کہ پاکستان پر اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ افغان وار میں پاکستان ایک فریق تھا اور دوسری جانب ایران پاکستان مخالف پالیسی کے مطابق نہ صرف کام کرتا رہا بلکہ بعض معاملات میں پاکستانی دشمنی پر اتر آیا،کیا پاکستان نے کبھی اس پر اعتراض کیا؟یقناََجواب نفی میں ہے۔
دوسری جانب بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جب ایران سے پاک ایران گیس لائن کے ذریعے سستی گیس کی فراہمی کی بات سامنے آتی ہے تو معاملے میں ایک بڑے طبقے کو پاکستان اور عربوں کے تعلقات میں منفی اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ایران سے تیل اور بجلی کی بات کی جائے تو یہی پریشانی کھڑی ہوجاتی ہے ،الغرض ہر دوجانب بات ملکی و قومی مفاد کے مطابق سفارتی انداز میں کرنے کے بجائے انتہائی سخت ،منفی ، بغیر دلیل اور بے ڈھنگے انداز میں کی جاتی ہے،جب اس کا ردعمل آتاہے تو ہم شکوہ و شکایات پر اترتے ہیں۔ ہمارے اس طرح کے رویوں سے ایران ہم سے ناراض ہے تو عرب بھی خوش نہیں۔
ہماری خارجہ پالیسی کا دوسرا اہم حصہ بچھ جانا ہے یعنی جابرکے سامنے سر تسلیم خم ہونا۔ امریکی جاسوس لاہور کی سڑکوں پر ہمارے نوجوانوں کو قتل کرے تو ہم خود دیت کے قانون کے تحت نہ صرف جاسوس کو معاف کردتے ہیں بلکہ دیت بھی خود ادا کرتے ہیں اور اپنی بیٹی(ڈاکٹر عافیہ صدیقی) تک کو حوالے کردیتے ہیں ۔امریکہ شیخ اسامہ بن لادن کی تلاش میں ایبٹ آباد آکر حملہ کرتا ہے تو ہمارا سیٹلائٹ کام چھوڑ دیتا ہے۔روز ڈرون اٹیک میں پاکستان کی سرحدوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو ہم صرف ایک مذمتی بیان پر انحصار کرتے ہیں، اس طرح کا رویہ کسی بھی آزاد قوم کا نہیں بلکہ غلامی کی سوچ رکھنے والی قوم کا ہوتا ہے۔آزاد اور خود مختار قومیں دوستی اور دشمنی اپنے اصولوں اور مفادات کی بنیاد پر کرتی ہیں وہ نہ بچھتی ہیں اور نہ گالم گلوچ پر اترتی ہیں۔ ہم اپنے سخت رویوں سے کیایہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم دوستوں اور دشمنوں میں تمیز نہیں کرسکتے ہیں ۔یقیناََ ہمارا یہ عمل دن بہ دن ہمیں مزید تنہائی کی طرف لے جائے گا۔ اس لئے سیاسی اور مذہبی جماعتیں پالیسی کا تعین اپنی جماعتی، مسلکی، مذہبی نظریات اور ذاتی مفادات کے بجائے اپنے ملک و قوم اورنسلوں کی بقا و سلامتی فلاح وبہبود اور ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے بناتی ہیں اور یہی قومیں دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے