مطیع اللہ: توہین عدالت نوٹس اور کارروائی ختم

ویٹ فار آرڈرز ۔۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی

ہائی کورٹ سے عابد خورشید

مطیع اللہ جان نے معافی نہیں مانگی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی چوتھی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں ہوئی _ مطیع اللہ جان نے اپنے جواب میں اپنے 22 سالہ صحافتی تجربے اور اتنے ہی سال کورٹ رپورٹنگ اور اپنی صحافتی ملکی اور بین الاقوامی تعلیم، بی بی سی اور رائٹرز کیلے رپورٹنگ اور پیمرا قوانین پر قانون سازی کے حوالے سے جہدوجہد، اور ماضی میں ملکی شہرت یافتہ تھنک ٹینکس سے وابستگی اور کالم نگاری کے حوالے دیے ۔
اپنے جواب میں مطیع اللہ جان نے چار سال پہلے وکیل سے انٹرویو پر مزید تحقیقات نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا تاہم انہوں نے کہا کے وکلا کے فٹ بال گراونڈ پر غیر قانونی قبضے کے خلاف حقائق جاننے اور موقف کے حوالے سے اپنے پروگرام میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر کو بھی مدعو کیا تھا، آئندہ وہ اپنے پروگرامز میں ان سے بھی زیادہ باخبر شخصیات کو مدعو کریں گے تاکہ زیادہ معلومات سامنے لائی جا سکیں۔
اپنے جواب میں مطیع اللہ جان نے کہا کہ وہ تمام عدالتوں اور قانونی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور پروگرام کا مقصد غیر قانونی قبضے کے حقائق سامنے لانا تھا۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ وہ چیف جسٹس ثاقب نثار،جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور پروگرام نشر کرنے میں کوئی بد نیتی یا غلط مقاصد نہ تھے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مطیع اللہ جان کا تحریری جواب پڑھ کر پوچھا، آج آپ کے صحافی یونینز کے لیڈز نہیں ساتھ آئے کیا، جس پر مطیع اللہ جان نے کہا کہ انہوں نے انہیں ساتھ آنے سے منع کر دیا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ایک کمیشن بنانا چاہیے جس میں تمام اینکرز کے اثاثوں دیکھے جائیں۔
نوائے وقت گروپ کے وکیل نے بتایا کہ اسی حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک نوٹس لے رکھا ہے ۔ جس پر جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ وہ الگ معاملہ ہے ۔ اینکرز کے اثاثہ جات سامنے آنے چاہیے۔ جن کے پاس کچھ سال پہلے موٹر سائیکل نہیں تھا آج چار چار بڑی گاڑیاں ہیں ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کس نے بینکوں سے قرض معاف کرائے، بلیک میلنگ کی ۔ کس کی بیگم نے منہ دیکھائی میں بنگلہ لیا سب سامنے آنا چاہیے۔
مطیع اللہ جان بولے کے ہم ایسے کسی بھی کمیشن کو خوش آمدید کہیں گے ۔ عدالت نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مہاتڑوں کی بات نہیں کر رہا، ہم اور آپ ادھر ہی رہیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ دوسروں کا گریبان چاک کرنے سے پہلے اپنا گریبان میں جھانکنا چاہئے، جب صحافیوں کا قلم بکتا ہے تو قوم کی حرمت بک جاتے ہے۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں میں نے صحافتی اقدار اور صحافت اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ آپ سے زیادہ ذمہ داری کی توقع کرتی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مطیع اللہ صاحب آئین کا آرٹیکل 19 پڑھ کر سنائیں ۔ مطیع اللہ نے آئین کا آرٹیکل 19عدالت میں پڑھا۔عدالت نے کہا کہ اس آرٹیکل اندر رہ کے جو مرضی کریں ۔جس کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت۔ برخاست کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

بعد ازاں عدالت نے وقت ٹی وی کی انتظامیہ اور مطیع اللہ جان کے جواب منظور کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس اور کارروائی ختم کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button