توہین عدالت اور گاڈ فادر

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ میں میرشکیل الرحمان اور احمد نورانی توہین عدالت کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پانامہ مقدمے کے فیصلے میں لکھے گئے گاڈ فادر ناول کے ڈائیلاگ کی وضاحت کی ہے۔
جنگ گروپ کے مالک میرشکیل الرحمان اور ادارے سے وابستہ دیگر افراد صبح ساڑھے نوبجے سپریم کورٹ پہنچے۔ کسی کو معلوم نہ تھاکہ ’جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی‘ والی خبر پر ملنے والے نوٹس پر صحافی احمد نورانی اور جنگ گروپ نے عدالت کو کیا جواب دینا ہے۔
دن سوابارہ بجے جنگ گروپ کے مالک اور صحافی احمد نورانی کے خلاف توہین عدالت کے تین نوٹسز کی سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ کے دائیں جسٹس دوست محمد خان اور بائیں جسٹس منصور علی شاہ بیٹھے ہوئے تھے۔ عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران پہلی بار جنگ گروپ کے مالک ، پرنٹر اور صحافی کی جانب سے تین وکیل پیش ہوئے۔ اس سے قبل کی سماعتوں میں صرف ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے حاضری دی تھی۔
وکیل نے بتایا کہ تیسرے نوٹس کے جواب میں تیار کی گئی دستاویز عدالت میں ہی پیش کر رہے ہیں، عدالت اگر ضروری سمجھے تو پھر اس کو دفتر میں بھی جمع کرا سکتے ہیں۔ اس جواب کو عام کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔ وکیل کی جانب سے تین سفید لفافے اسٹاف کے حوالے کیے گئے جو بنچ میں بیٹھے جج صاحبا ن کو دینے سے قبل چاک کیے گئے اور ان میں موجود جواب کی پیپربک جسٹس آصف کھوسہ، جسٹس دوست محمد اور جسٹس منصور شاہ کو دی گئی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ ہمیں جواب پڑھنے دیں، کیا سارے مدعا علیہان کے جواب میں ایک ہی بات لکھی ہے؟۔ وکیل نے کہا کہ رپورٹر احمد نورانی کے جواب میں کچھ نکات مختلف ہیں۔ تینوں جج صاحبان پندرہ منٹ تک جواب پڑھتے رہے۔ جسٹس دوست محمد نے جواب پڑھتے ہوئے جسٹس آصف کھوسہ کی جانب جھک کر کوئی بات کی۔ اس کے بعد جج صاحبان کی آپس میں گفتگو ہوتی رہی۔
جسٹس کھوسہ نے وکیل سے پوچھاکہ کیا تینوں جواب ایک جیسے ہیں؟۔ وکیل نے بتایاکہ احمد نورانی نے دوسرے اورتیسرے شوکازنوٹس کے جواب میں تین مختلف پیراگراف لکھ کر وضاحت کی ہے۔جسٹس دوست محمد نے پوچھاکہ ایف آئی آر پر کیا کارروائی ہوئی؟( یہ اشارہ جواب میں لکھے گئے احمدنورانی پر حملے کی درج ایف آئی آر کے بارے میں تھا)۔وکیل نے احمد نورانی سے پوچھ کر بتایاکہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، پولیس کہتی ہے کہ نامعلوم افراد تھے ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔جسٹس دوست محمد نے کہاکہ پریس والے بھی تو ہائی پیڈسٹل پر رہتے ہیں۔ اس کے بعد کہاکہ آپ نے جواب میں پریمئیر( آئی ایس آئی سے متعلق) کا لفظ لگایا ہے، یہ لفظ تو صرف وزیراعظم کیلئے ہوتاہے۔وکیل نے کہاکہ یہ لفظ وہ ادارہ عام طور پر اپنے لیے استعمال کرتاہے۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ آئین وقانون کی کون سی کتاب میں یہ لفظ ان کیلئے لکھا گیاہے؟۔
وکیل نے جواب دیاکہ ’فار دا سیک آف کنوینینس‘۔ آسانی کیلئے یہ لفظ لکھا گیا۔ جسٹس دوست محمدنے کہاکہ اس کیلئے تو ’جن‘ بھی لکھ سکتے تھے۔یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔اس ملک میں قانون وآئین چلے گا یا کسی اور کی چلے گی۔زندگی اور موت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ہم نے اگر آنے والی نسلوں کو ایک بہتر ملک دیناہے تو ایسی باتوں سے نکلناہوگا۔
وکیل نے کہاکہ ہماری استدعاہے کہ نوٹس واپس لیاجائے، عدالت کو رحم وکرم پرچھوڑا ہے۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ آپ نے لفظ ہی ایسا لکھ دیاہے، مجھے تو تکلیف ہوئی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ آپ نے جواب میں ریگرٹ (معذرت کی ہے، افسوس کا اظہار کیا ہے) شو کیا ہے۔ آپ نے جواب ایسے انداز میں اور لفافے میں بند کرکے دیا ہے کہ یہاں عدالت میں تجسس ہے کہ پتہ نہیں کیا دے دیاہے، ہم بتادیں کہ اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے، آپ نے اچھاکہ پہلے یہاں پڑھنے کیلئے دیا اور پھر ساتھ ہی کہاکہ عدالت سمجھے تو اس کو دفتر میں جمع کرانے کیلئے کہے او رچاہے تو پبلک کردے۔ آپ نے عدالت کیلئے احترام ظاہرکیاہے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ جواب میں زیادہ سے زیادہ یہی لکھاہے کہ رپورٹر نے مختلف افسران سے ملاقاتیں کیں جس سے یہ تاثر ملاکہ جے آئی ٹی کو آئی ایس آئی چلا رہی ہے، حالانکہ سپریم کو رٹ نے یہ اختیار جے آئی ٹی کے سربراہ کو دیاتھا، رپورٹر کو یہ تاثرملا تو اس نے خبر لگادی۔ویوز اور نیوز میں فرق ہے، بدقسمتی سے تاثر کی بنیاد پرخبرلگائی گئی،یہ تھوڑا مکس اپ ہوگیا، کبھی ایسا بھی ہوجاتاہے۔ عدالت نے پوچھاکہ احترام ہے کہ نہیں ہے،آپ نے کہاکہ تھاکہ عدالت کا احترام کرتے ہیں۔ توہین عدالت کے قانون کا مقصد کسی کو غیر ضروری تکلیف دینا نہیں، مگر عدالت کے احترام کے بغیر معاشرہ چل نہیں سکتا۔
جسٹس دوست محمد خان نے کہاکہ موجودہ دور میں جتنی بھی آئینی ترامیم ہوئی ہیں وہ آزادی اظہار اور اطلاعات تک رسائی کے بارے میں ہوئی ہیں۔یہ ہرشہری کا حق ہے۔ جب تک کسی کی رائے اور خبر توہین کی حدود میں داخل نہیں ہوتی ہم اس پر نوٹس نہیں کرتے، لوگوں کو غیر ضروری طور پر توہین سے نہیں ڈراسکتے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ جواب اس طرح پیش کرنے سے سنسنی پھیلائی ہے، سب کو بتادیتاہوں کہ اس میں کیا ہے، خبر دیتے وقت آپ مستعدی دکھارہے تھے، دکھانی بھی چاہیے، آئی ایس آئی جے آئی ٹی(پانامہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) کا حصہ تھی۔ جواب میں لکھاہے کہ ہمیں یہ تاثر ملا کہ آئی ایس آئی ہی سب انتظام سنبھالے ہوئے ہے اور اس کو شاید سپریم کورٹ نے کہاہے، اس پر رجسٹر ار کو فون کیا جنہوں نے جواب نہ دیاتو جج صاحب کو فون کردیا، رپورٹر نے بھی اور جج صاحب نے بھی بہت تحمل سے بات کی۔جسٹس کھوسہ نے کہاکہ اس جواب میں یہ سب لکھا ہے ، اورکوئی پریشانی والی بات نہیں۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ تاثر کو خبر بناکر پیش کریں گے تو غیرضروری پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں، اور اس کا ازالہ ڈٹ جانا نہیں ہوتا۔ اب تو یہ وطیرہ بن گیا ہے جو بات سپریم کورٹ نے نہیں کہی ہوتی وہ بھی منسوب کردی جاتی ہے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ اسی طرح بہت سی چیزیں آج کل بھی ہورہی ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان سے پوچھاکہ کیا آپ اٹارنی جنرل کی نمائندگی کررہے ہیں؟ مثبت جواب ملنے پر پوچھاکہ کیا آپ نے پانامہ کیس کا فیصلہ پڑھاہے؟ ۔ عامررحمان نے اثبات میں جواب دیاتو جسٹس کھوسہ نے کہاکہ کیاکہیں عدالت نے لکھاہے کہ میاں نوازشریف گاڈ فارد ہیں؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیاکہ فیصلے میں ایسا نہیں لکھاگیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ سن لیں، حکومت پاکستان عدالت میں تسلیم کررہی ہے کہ فیصلے میں یہ نہیں لکھاگیا۔جسٹس کھوسہ نے کہاکہ اسی طرح سسلین مافیاکی بات بھی سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کی گئی۔ نہال ہاشمی توہین عدالت کیس میں جج صاحب نے کہاکہ نہال ہاشمی جس طرح ججوں کو دھمکی دے رہے ہیں، ججوں کے بچوں کو تو سسلین مافیا والے قتل کرتے تھے۔یہاں بھی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
(جس وقت جسٹس آصف کھوسہ یہ وضاحت کررہے تھے عدالت میں جنگ گروپ کے مالک میرشکیل الرحمان کے علاوہ کئی سینئر صحافی موجود تھے جن میں انصارعباسی، فاروق اقدس اور عمر چیمہ بھی شامل تھے)۔
جسٹس کھوسہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ سوال پوچھتی ہے کہ کیا اسمگلر، ڈاکو، چور اور لفٹر سیاسی جماعت کے سربراہ بن سکتے ہیں؟ کیا قانون میں اس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟۔ مگر اس میں سے ایک لفظ کو اٹھا کر اور پوری بات کے سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کردیا جاتاہے۔جسٹس کھوسہ نے کہاکہ ہم سے وہ منسوب نہ کریں جو ہم نے کہاہی نہیں۔ جو ہم نے کہاہے ہم اس کو اون کرتے ہیں۔ آدھی بات کو اٹھاکر پیش کرنے سے مفہوم بدل جاتاہے۔ کچھ لوگ تو قرآن کے ساتھ بھی ایسا کرتے ہیں، وہ قرآن سے لے کر کہتے ہیں کہ یہ بھی لکھاہے کہ نماز کے قریب مت جاؤ، مگر اس کے آگے کیا لکھاہے وہ نہیں بتاتے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ یہ بڑی زیادتی ہے، سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غلط پیغام جاتاہے۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
جسٹس دوست محمد نے اپنی طبیعت کے مطابق مسکراتے ہوئے کہاکہ گاڈ فادر میں ایسا کچھ نہ تھا، اس میں ولن کا رنگ بھرا گیا، وہ تو ہیرو کا کردار تھا لوگوں کے مسائل حل کرتاتھا۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ یہی درخواست ہے کہ تبصرے ضرور کریں مگر فیصلہ پڑھ کر ایسا کریں۔ انہوں نے آف دی ریکارڈ کہہ کر بھی ایک سابق اٹارنی جنرل دوست کے بارے میں بتایا جو ٹی وی پر تبصرے کرتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ کے مطابق کسی جگہ ان سے سرراہ ملاقات ہوئی تو پوچھاکہ کیا آپ نے فیصلہ پڑھا ہے؟۔ تو سابق اٹارنی جنرل نے کیا آپ نے گاڈ فادر نہیں لکھا؟۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ وہ میرے پیارے دوست ہیں، دوسو ٹی وی پروگراموں میں کہہ چکے ہیں مگر میں نے فیصلے میں ایسا نہیں لکھا۔
عدالت نے جنگ گروپ کے تینوں جواب قبول کرتے ہوئے غلط ہیڈلائن، رپورٹر احمد نورانی کے جسٹس اعجازافضل کو فون اور آئی ایس آئی کو جے آئی ٹی کا انتظام سنبھالنے والی خبر پر جاری کیے گئے توہین عدالت کے تینوں نوٹس ڈسچارج کردیے۔
عدالتی حکم کے بعد اے آر وائے اور بول ٹی وی سے منسلک صحافی خاموشی کے ساتھ عدالت سے باہر نکل گئے۔ سپریم کورٹ کے باہرشاہراہ دستورپر اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے میرشکیل الرحمان نے شعیب شیخ اوربول ٹی وی کے صحافیوں کے سوالوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ اللہ ان کی مشکلات میں آسان کرے، سب کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button