عدالت میں وکیل کی شاعری

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے پولیس افسران کی تنزلی کے خلاف اپیلوں کی سماعت میں وہیل چیئر پربیٹھے عدالت عظمی کے سینئر وکیل عزیز اے ملک نے دو اشعار سنائے تو چیف جسٹس کو پسند آ گئے مگر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ تو اشعار سنا سکتے ہیں، ہم یہاں بیٹھ کر شعربھی نہیں کہہ سکتے۔ ہلکے پھلکے انداز میں ہونے والی اس گفتگو میں وکیل عزیز اے ملک نے ان آٹھ پولیس افسران کا مقدمہ لڑا جن کو پنجاب پولیس کے سربراہ کی جانب سے عدالتی فیصلے کے بعد حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ڈی موٹ کر دیا گیا تھا۔
وکیل نے دلائل کے دوران شعر پڑھاکہ
ہم تو آئے تھے کہ اقرار وفا ہوگا
جو ہے ناراض تو سرکار چلے جاتے ہیں
وکیل عزیز اے ملک نے عدالت کے باہر پاکستان 24 کے نامہ نگار نے گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دو اشعار سنائے تھے
وہ بھی تیری مسیحائی کا دم بھرتے ہیں
ہو کے مایوس جو بیمار چلے جاتے ہیں
وہیل چیئر پر عدالت میں بیٹھ کر دلائل دینے والے وکیل عزیزاے ملک نے حال ہی میں محمد رسول اللہ ﷺ پر ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا عنوان ہے ’محتسب اعظم‘ ۔ عدالت کے باہر وکیل عزیز اے ملک نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تصنیف چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی پیش کی ہے۔ اور چیف جسٹس نے گھر سے باہر آکر ان کی وہیل چیئر کو پکڑا، اور اپنے مہمان خانے میں لے گئے۔
شعر و ادب سے شغف رکھنے والے عزیز اے ملک نے پاکستان 24 کو اشعار میں اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے کہا کہ
محتسب تیرا بھی احتساب ہونے کو ہے
ہرٹیلہ زیر آب آنے کو ہے
عزیز اے ملک نے ایک اور شعر سنایا کہ
اس شہر میں ہرشخص کا ایمان بکا ہے
قیمت مجھے معلوم ہے تم نام بتادو

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button