قانون اور ترقی

قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی کا خواب ممکن نہیں

تحریر: ممتاز حسین

قوموں کی ترقی کا سفرسالوں نہیں دہائیوں پرمحیط ہوتا ہے۔۔ جو قدم بہ قدم طے ہوتاہے اور منزل پر پہنچنے والی قومیں ہی دنیا میں ممتاز مقام اورعزت کی حقدار ٹھہرتی ہیں۔ترقی پذیر سے ترقی یافتہ بننے کے لیے بنیادی نقطہ درست سمت کا تعین اور اس پر استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ سیاسی قیادت ملکی ترقی کے لیے نظام وضع کرتی ہے اور اسی کی بنیاد پرعمارت استوار ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمارے سیاستدان پاکستان کا ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کرتے اور ان کی مثالیں دیتے نظرآتے ہیں۔ یہ بیانات عوام کوسوچنے پر مجبور کرتے ہیں وہ کون سی وجوہات ہیں جو سترسال بعد بھی پاکستان کی ترقی کے آڑے آرہی ہیں۔ ہم سے بعد میں آزادی حاصل کرنے والے ممالک ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہو چکے جبکہ ہمارے ہاں اب بھی بے یقینی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

تبدیلی کا نعرہ لگانے والے عمران خان ہوں یا تجزیہ کار، سبھی جنوبی کوریا،ملائیشیا اور سنگا پور کی مثالیں دیتے ہیں کہ ان ممالک نے چند دہائیوں میں تیزی سے ترقی کی، لیکن پاکستان اور ان ممالک میں بنیادی فرق کیا ہے،اس پرغور نہیں کرتے۔ چلیں جنوبی کوریا کی حکومت کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے، ترقی کا راز ہی سمجھ آجائے گا۔

پارک جیون۔ہائی جنوبی کوریا کی پہلی جمہوری طور پرمنتخب خاتون صدر تھیں، ان کے والد پارک چنگ ہی نے 1961 سے 1979 تک جنوبی کوریا پرحکمرانی کی۔ وہ جنوبی کوریا میں جمہوری اقتصادی ترقی کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ مارچ دو ہزار سترہ میں منتخب خاتون صدر پارک جیون۔ہائی کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ ان پر براہ راست کرپشن، منی لانڈرنگ یا بددیانتی کا کوئی الزام نہیں بلکہ وجہ یہ تھی کہ چوئی سنسل نامی ان کی مشیر اور قریبی دوست نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، مس چوئی سنسل نے حکومتی اثر و رسوخ اور اپنی دوست صدرکا نام استعمال کرتے ہوئے مختلف کمپنیوں پر دباؤ ڈالا اور اپنی بیٹی کی غیرسرکاری تنظیم کو ایک معروف کمپنی سے 36.4 ملین ڈالرز کے مالی عطیات دلوائے۔

اس اسکینڈل کے بعد کوریا کی عوام سڑکوں پرنکل آئی اورخاتون صدر کو نہ صرف اپنی دوست کے کیے پر عوام سے معافی مانگنا پڑی بلکہ صدارت کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا۔ بات یہیں پرختم نہیں ہوئی، پارک جیون۔ہائی کا باقاعدہ ٹرائل جاری ہے۔ غیرسرکاری تنظیم کو چندہ دینے والی کوریا کی مایہ ناز الیکٹرانکس اینڈ آٹو کمپنی سام سنگ کے سربراہ لی جے ینگ کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ غیرسرکاری تنظیم کیلئے عطیات کے نام پر رشوت دینے اور لینے والے دونوں ملزمان جیل میں ہیں جبکہ جس صدر کا نام استعمال کیا گیا وہ خاتون سیاستدان مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اس واقعے کا حوالہ دینے کا مقصد جنوبی کوریا اور پاکستان کے حکمران، سیاستدان، عوام اور سرمایہ کار طبقات کا موازنہ کرنا ہے، پارک گیونہے کے اسکینڈل کو سامنے رکھتے ہوئے وطن عزیز کے ماضی اور حال کے کرپشن کے مقدمات اوراسکینڈل پر نظر دوڑائی جائے تو اس طرح کے کئی اسکینڈل سامنے آتے ہیں۔ ان میں پاکستانی حکمرانوں پربراہ راست کرپشن،منی لانڈرنگ، اختیارات کے ناجائز استعمال اورسنگین غداری جیسے مقدمات شامل ہیں۔ لیکن تھوڑا بہت شعور رکھنے والے شخص کو یہ سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا کہ جنوبی کوریا کے کم وقت میں ترقی کی منازل طے کرنے کا راز کیا ہے۔وہاں قانون سازی شاید بہت اچھی نہ ہو لیکن جو قوانین ہیں ان پر من و عن عملدرآمد ہرصورت کرایا جاتاہے۔

اپنی دوست کی وجہ سے اقتدار سے ہاتھ دھونے والی پارک جیون۔ہائی مقدمات کا سامنا کررہی ہیں،کوریا کی معزول صدرنے ناں تو کوئی لانگ مارچ نکالا، نہ عدلیہ اور اداروں کے خلاف تحریک چلائی۔ پارک جیون۔ہائی نے کسی قسم کا استثنیٰ لیا اورناں ہی انہوں نے اپنی جگہ اپنے بچوں یا رشتے داروں کو منتخب کرانے کوشش کی۔

لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ براہ راست کرپشن کے الزامات پر سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد عدلیہ مخالف محاذ کھولاجاتا ہے، پارٹی صدارت کے لیے دستور میں ترمیم کی جاتی ہے۔ نااہل سیاستدان کے حلقے سے اسی کے اہلخانہ میں سے کسی شخص کو ضمنی الیکشن میں منتخب کرایا جاتا، موروثی سیاست کے نام پرمخالفین کو ہدف تنقید بنانے والی جماعت کے سربراہ اپنے نااہل رکن اسمبلی کے بیٹے کو ٹکٹ عنایت کر کے اسمبلی میں لانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ یہاں کے بزنس ٹائیکون ہر دور حکومت میں حکمرانوں کےساتھ ڈاک خانہ ملا لیتے ہیں۔ کسی دور حکومت میں خاتون اول کے بھائی بن جاتے ہیں، تو کبھی برسراقتدار جماعت کے سربراہ کو کسی بڑے شہرکے پوش علاقے میں قلعہ نما رہائشگاہ تعمیر کرکے تحفے میں دیتے ہیں،کہیں پولیس افسر جعلی مقابلوں کے ذریعے اپنے آقاؤں کے مخالفین کا قتال کرتا ہے اور بیرون ملک فرار ہوجاتا ہے تو کہیں قانون کا محافظ بھتہ وصول کرتا اور زمینوں پر قبضے کرواتا ہے۔ ماتحت عدلیہ کے جج رشوت لے کر ملزمان کے حق میں فیصلے دیتے ہیں، پاکستان میں ایسے کرداروں تک قانون کا ہاتھ یا پہنچتا نہیں یا پھر کئی سال ٹرائل چلنے کے بعد کلین چٹ دے دی جاتی ہے اور یہ کردار ہر دور میں مختلف ناموں سے اپنے کام جاری رکھتے ہیں۔

تبدیلی کے نعرے لگانے اور دیگر ممالک کے حوالے دینے والے عوامی شعور اور قانون کی حکمرانی پر بہت کم بولتے دکھائی دیتے ہیں، پاکستانی عوام بھی زمینی حقائق سے قطع نظر اندھی تقلید میں بار بار آزمائے ایسے کرداروں کا انتخاب کرتی ہے، ملکی ترقی میں قانون کی حکمرانی اورعوامی شعوربہت اہم ہے،انکے بغیر نہ تو نظام میں بہتری آ سکتی ہے اور ناں ہی پاکستان ترقی کرسکتا ہے۔دعا ہے کہ جنوبی کوریا، ملائیشیا اورسنگا پورکی مثالیں دینے والے ہمارے سیاستدان ان ممالک اورپاکستان کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھ اور عوام کو سمجھا سکیں۔ تا کہ وطن عزیز میں جلد قانون کی حکمرانی و عوامی شعور بیدار ہو۔

متعلقہ مضامین