پولیس افسر کی چیف جسٹس سے بحث

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب کے ڈی آئی جی رفعت مختار کی سخت سرزنش کی ہے _ رفعت مختار پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ جعلی ادویات بنانے والی کمپنی کے مالک عثمان کے رشتہ دار ہیں اور ہمارے افسران کو ڈراتے دھمکاتے ہیں _

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق رفعت مختار نے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دی جائے، عدالت مجھے بھی سن لے _ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اجازت نہیں ہے، تمہیں  نہیں سنیں گے _ پولیس افسر نے کہا کہ میری بھی عزت ہے _ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی عزت نہیں ہے تمہاری _ پولیس افسر نے کہا کہ کیوں نہیں ہے، ہر انسان کی عزت ہے _

چیف جسٹس نے کہا کہ جس طرح کے کام کرتے ہو، کوئی عزت نہیں ہے، میرے ساتھ بحث نہ کرو، سب ریکارڈ آ جائے گا، ایف آئی اے اور نیب والے اس پولیس افسر کے سارے اثاثوں کی چھان بین کریں _

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق پولیس افسر رفعت مختار نے کہا کہ میں نے کسی کو ہراساں نہیں کیا، الزام غلط ہے _ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تمہیں ابھی معطل کرتے ہیں، تم بحث کرتے ہو، 8 مارچ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پیش ہو کر وضاحت کریں _

بعد ازاں معطلی کا حکم واپس لے لیا گیا _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے