عدالتی ڈکشنریاں اور فیصلے

شاہد بھٹی ایڈووکیٹ

پشاور ہائیکورٹ نے ایک کیس میں کمپنی لاء میں درج لفظ promoter کی ڈکشنریوں کی مدد سے تشریح کرکے قرار دیا کے ایس-ای-سی-پی اور سٹیٹ بنک بطور ریگولیٹر ایک مالیاتی ادارے (NBFI) کے promoter بھی ہوتے ہیں لہذا مذکورہ ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے بے ضابطگیوں کی وجہ سے depositors کو ہونے والے نقصان کو انتظامیہ کے ساتھ ساتھ مذکورہ ریگولیٹر کے متعلقہ افسران بھی قانونا پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ سٹیٹ بنک اور ایس-ای-سی-پی کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے خارج کردی لہذا یہ اپیل آخر کار سپریم کورٹ میں دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ نے اس اپیل کو مورخہ 27 اکتوبر 2017 (پانامہ فیصلے سے تین ماہ بعد) کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوے قرار دیا کہ کمپنی لاء کی متعلقہ دفعات کے تحت مذکورہ ریگولیٹرز پر نقصان کو پورا کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ججوں نے promoter کا مطلب جانچنے کے لیے کمپنی لاء پر کسی legal treatise کا مطالعہ نہیں کیا بلکہ سیدھا ڈکشنریوں سے promoter اور promotion کے مطالب کے لیے رجوع کیا ہے۔ مزید کہا کہ ڈکشنریاں لفظوں کے مطالب کا مکمل spectrum مہیا کرتی ہیں جن میں سے اکثر مطالب متعلقہ قانون کے حوالے سے غیر متعلقہ ہوتے ہیں۔ اور یہ کہ عام انگریزی زبان کی ڈکشنریاں بھی کمپنی لاء کے معاملات پر درست مطالب مہیا نہیں کرتیں۔ مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے آرڈیننس کی تشریح کرتے ہوے قانونی تشریحات کے اصولوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور ایک نیا گراونڈ سیٹ کردیا ہے، انھوں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس کی تائید میں انھوں نے کوئی legal treatise یا قانونی نظیر پیش نہیں کی۔
سپریم کورٹ کے اس بینچ نے اپنے فیصلے میں کئی لینڈمارک فیصلوں کا حوالہ دے کر یہ بھی تحریر کیا کہ جہاں penal نوعیت کے قانون میں ابہام موجود ہو یا قانون کی ایک سے زائد تشریحات ممکن ہوں تو عدالت کو چاہیے کہ وہ تشریح اپنائی جائے جس سے ملزم یا الزام علیہ کو فائدہ پہنچتا ہو نہ کہ وہ جس سے اسے نقصان پہنچتا ہو یا وہ سزا کا مستوجب ٹھہرتا ہو۔

سیرحاصل بحث کے بعد عدالت نے حتمی طور پر مذکورہ ریگولیٹرز کو بری الذمہ قرار دیتے ہوے جو وجوہات کا خلاصہ پیش کیا (جنہیں اب قانون کا درجہ حاصل ہے) ان میں سے ایک یہ ہے کہ کمپنی لاء میں درج کسی بھی لفظ یا phrase کو پہلے متعلقہ دفعہ کے سیاق و سباق کے مطابق پڑھا اور سمجھا جائے اور پھر متعلقہ قانون کے سیاق و سباق کے مطابق۔ اگر پھر بھی اس کے معنی مبہم رہیں تو پھر اسے عدالتی نظائراور کمپنی لاء پر legal treatise میں دی گئی وضاحت کے مطابق پڑھا اور سمجھا جائے۔ اور اگر پھر بھی معنی واضح نہ ہوں تو صرف اسی صورت میں ہی قانونی اور انگریزی زبان کی ڈکشنریوں سے رجوع کیا جائے۔

خیال رہے کہ ہہ فیصلہ پانامہ فیصلے کے بعد آیا ہے اور یہ فیصلہ سنانے والے بینچ میں شامل دو معزز جج صاحبان پانامہ فیصلہ سنانے والے بینچ میں بھی شامل تھے۔

نوٹ: یہ تحریر عام قارئین کے لیے لکھی گئی ہے پیشہ ورانہ امور کےلیے غیر موزوں ہے۔ مکمل فیصلہ پڑھنے کے خواہش مندوں کے لیے فیصلہ کی citation پیش ہے PLD 2018 SC 52

یہ تحریر شاہد بھٹی صاحب کی فیس بک سے ان کی اجازت لے کر شائع کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button