خاک ہو جائیں گے ہم

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

عابد خورشید

’بے خودی بے سبب تو نہیں‘ اور ’قرض کی پیتے تھے مے‘ والےمصرعے ایسے ہی نہیں لکھے گئے ۔ شاعرانہ کلام
ذوق جمالیات کے ساتھ ساتھ آفاقی گہرائی بھی رکھتے ہیں جو مخفی حالات کا پتہ بھی دے جاتے ہیں ۔ وزارت خارجہ کے اعلی ذرائع، آزادکشمیر کے سابق اور موجودہ اہم ترین سیاسی شخصیات نے ایل او سی پر بگڑتے حالات اور جنگ کے خطرات سے ہمیں رازدارانہ انداز سے آگاہ تو کر دیا تھا لیکن اسی طرح جب پاکستان کی قومی سلامتی کے اعلی ترین سول زریعے نے ہمارے اس صورتحال پر پوچھے گے سوال پر پہلے ہمیں غور سے دیکھا اور کہا بہت اہم سوال ہے، پاک بھارت جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے 1970 سیز فائر خلاف ورزیاں کی اور رواں سال صرف تین ماہ میں یہ سوا چار سو سے تجاوز کر گئ ہیں جس میں شہادتیں اور زخمیوں کی بڑھی تعداد شامل ہے۔

اگر غور کیا جائے تو گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں کی تمام ایل او سی خلاف ورزیاں ملا بھی لی جائیں تو موجودہ صورتحال سے اس کی تعداد بہت کم ہی رہی ہے ۔ جب کے دوسری طرف بھارت اس کی تمام تر زمہ داری پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے اور دراندازی کا پروپیگنڈہ بھی کر رہا ہے۔

ایل او سی بٹل سیکٹر اور دیگر مقامات پر بھارتی فائرنگ ،گولہ باری ،جانی اور مالی نقصان کی خبریں تو سنتے رہتے تھے لیکن ان علاقوں کا کھبی دورہ نہ کر سکے کیونکہ ان علاقوں کا سفر اتنا آسان بھی نہیں تھا اور میڈیا کی خاص ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ائ ایس پی ار جو وہاں کی سب خبر دے دیتا ہے وہاں کی خبریں دیگر صحافتی زرائع سے لینے کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے۔ دو طرفہ کشیدہ صورتحال اور وہاں بسنے والے عوام نے بھارتی فائرنگ سے ان کو پہنچنے والے نقصان اور مستقل خطرات اور خوف جیسے مسائل کی توجہ دلانے کیلےکئ بار رابطہ کیا کہ ان کے مسائل قومی میڈیا پر لائے جائیں مگر قومی میڈیا صرف قومی اور عالمی نوعیت جیسے سنجرانی کیلے توڑ جوڑ پر توجہ مرکوز کیے رکھا تھا بلوچستان کے دیگر مسائل کی طرح آزادکشمیر کے مسائل پر لب کشائی کی چنداں ضرورت نہیں۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے متاثرین ایل او سی سے یکجہتی اور امن مارچ تتہ پانی تا مدار پور کی کوریج کو غنیمت جانا اور سینیر صحافی دوستوں کے ساتھ اسلام آباد سے بٹل سیکٹر آزادکشمیر کیلےرخت سفر باندھا!امن مارچ کا مقصد بھارت اور پاکستان سے دو طرفہ فائرنگ اور گولہ باری کو روکنے اور دو طرفہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری اور آر پار امن قائم کرنے سے متعلق تھا۔

کوٹلی آزادکشمیر صبح سویرے پہنچے تو مقامی صحافیوں نے ناشتے کا اہتمام کر رکھا تھا ،مختصر ملاقات کے بعد وہ بھی ہمارے ساتھ تتہ پانی کیلے روانہ ہوئے۔امن مارچ شروع ہو چکا تھاجس میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی اور وہ گاڑیوں سے اتر کر پیدل مارچ کر رہے تھے جن کی منزل مدار پور تھی جنہں ابھی کئ گھنٹوں کا سفر طے کرنا تھا

سینئر صحافی زاہد تبسم جو ایل او سی کے تمام علاقوں سے واقف تھے شارٹ کٹ راستے سے ہمیں فائرنگ زدہ علاقوں کے دورے پر لے گے ہماری منزل دھرم سالہ اور مینڈل تھا۔راستے میں فوجی چوکی آئی تو انہوں نے ہماری گاڑیوں کے نمبرز اور میر کارواں کا شناختی کارڈ نوٹ کیا تاہم وہاں موجود ایک پولیس اہلکار نے محتاط سفر کرنے کیلے کہا۔

جوں جوں ہم آگے بڑھتے گئے بھارتی فوجی چوکیوں پر نظر پڑتی رہی ،دو مقامات ایسے بھی ائے جہاں بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں کئ افراد شہید ہو چکے تھے جسے خونی موڑ کہا جاتا تھا اور کالے بورڈ پر سفید حروف سے واضح لکھا گیا تھا "خبردار دشمن آپ کو دیکھ رہا ہے”۔ جسے پڑھ کر جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئ ۔خوف کو جھٹکنے کیلے ایک دوست بولا فکر نہ کریں ہم بھی دشمن کو دیکھ رہے ہی ہیں ،ہلکے سے ایک قہقے نے ڈر کو زائل کر دیا۔یہاں سے ہمارا ڈرائیور بھی تیزی سے ہی موڑ مڑا کیونکے گولی کسی وقت بھی آ سکتی تھی۔

تھوڑا سفر طے کیا تو آگے گاوں دھرم سال نظر آیا ۔ہم گاڑی سے اترے اور ویڈیوز بنانے لگے۔چند فاصلے پر بیٹھے دو نوجوان ہمارے پاس ائے اور کہنے لگے آگے مت جائیے اوپر سے فائر آ سکتا ہے!گاوں کا کیا ہی دل آویز منظر تھا، دریائے پونچھ کا صاف پانی اور سبزہ زار اور لہلاتے کھیت ۔ نوجوان نے بتایا کہ بھارتی فائرنگ کے باعث سارا گاوں خالی ہو چکا ہے اور لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں ۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ آر پار کی فائرنگ سے ہماری زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں، ہمیں بس دونوں ممالک سے آزادی چاہئے۔


نوجوان کا انٹرویو کرنے کے بعد ہم مینڈلہ پہنچے جہاں سے بھارتی چیک پوسٹیں سامنے نظر آ رہی تھیں۔ہم ایک ہوٹل میں داخل ہوئے کیونکہ باہر کھڑا ہونا موت کو دعوت دینا تھا ۔ وہاں موجود چند افراد سے بات کی اور پھیلے خوف و ہراس پر ان کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کو جاننا چاہا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا یہاں فائرنگ معمول کی بات ہے اور وہ مرنے کیلے ہر وقت تیار رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس مرنے کے علاوہ دوسرا کوئ راستہ نہیں!ان کا کہنا تھا یہاں سب سے بے خوف زندگی کا حق چھین لیا گیا ہے۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ یہاں رپورٹنگ کرنا ناممکن ہے ۔ آر پار کی فائرنگ، گھن گرج معمول بن چکا ہے۔ صحافت اور صحافی کی اؤاز دب گئ ہے، صحافت وہاں ہوتی ہے جہاں انسانی جانوں کی قدر اور خوف سے آزادی ہو۔ نقصان کی خبر شائع کرنے کی اجازت نہیں۔ان سے پوچھا ک آپ کی خبر غلط بھی ہو سکتی ہے۔صحافی نے بتایا کے یہاں مقامی لوگ سورس ہوتے ہیں اور ہسپتال زرائع درست ہوتے ہیں۔ صحافی نے بتایا کہ یہاں مجاہدین نے بھارتی فوجیوں کو شدید نقصان بھی پہنچایا جس کے بعد بھارتی فوج کا اشتعال پہلے سے بھی زیادہ ہے، روحانی شخصیت کاظم شاہ پراسرار طور پر لاپتہ ہیں ۔مقامی صحافی نے یہ بھی بتایا کے یہاں گاوں میں انٹیلجنس نیٹ ورک بہت زیادہ پھیل چکا ہے ۔

ہوٹل سے باہر نکلے سامنے بھارتی فوجی چوکی نظر آئ جلدی سے نیچے ہو لیے۔مقامی افراد سے پوچھا کہ تصویر کیسے لیں تو انہوں نے کہا کہ آج بھارتی چوکیوں پر سفید علم بلند ہے آج خطرے کی کوئ بات نہیں۔

وہاں سے دوستوں کے ساتھ تیتری نوٹ چل دیے جہاں کشمیر انٹرا ٹریڈ جاری تھی۔ تاجروں سے مختصر ملاقات کی اور واپس امن مارچ کو دیکھنے مدار پور سے دو کلومیٹر پیچھے سیر کہوٹہ پہنچ گے ۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس کی بھاری نفری امن مظاہرین کو مدار پور جانے کیلے روکنے پر تیار تھی ۔ تھوڑی دیر بعد مظاہرین کی بڑی تعداد نیچے پل پر پہنچ گئ اور انہوں نے آگے جانے کیلے پیش قدمی کی اور پتھراو کیا ۔پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس شیلنگ کی جس کے بعد سیاسی قائدین نے اپنے کارکنان کو دوبارہ مجتمع ہونے اور پر امن رہنےکی ہدایت کی ۔پرامن جلسہ شروع ہوا اور قائدین نے مارچ کو ختم کرنے اور آگے کے لائحہ عمل کیلے تقاریر شروع کر دیں ۔

تقاریر جاری تھیں اور امن مارچ اختتام پزیر تھا ۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اسلام آباد کیلے واپسی کا سفر باندھا۔ہجیرہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ پولیس نے جلسہ گاہ پر آنسو گیس شیلنگ اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی کارکنان زخمی اور بعد ازاں ایک کارکن نعیم بٹ جان بحق ہو گیا ۔

موجودہ ایل او سی کی کشیدہ صورٹحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال یا محدود پیمانے پر جنگ کیا مودی کو ہندو توا نعرے کو دوام بخشنے اور الیکشن میں سیاسی فائدہ دے گی یا پاکستان میں جمہوری استحکام کو دھچکا دینے کیلے زہر قاتل ثابت ہو گا اور آئندہ "نیم غیر جمہوری” حکومت (خدا نخواستہ) سخت گرہ لگی ٹائی کی ناٹ کھول کر دو طرفہ امن مزاکرات کے سکون دینے کا جھانسہ دے کا جب شہادتوں اور زخمیوں کی تعداد میں کئ گنا اضافہ ہو چکا ہو گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے