کراچی کا انتخابی نقشہ کیا ہو سکتا ہے؟

تجزیاتی رپورٹ: عبدالجبار ناصر
چھٹی مردم شماری 2017 کے نتیجے میں ہونے والے نئی حلقہ بندیوں اور ایم کیو ایم کی تقسیم در تقسیم کے بعد کراچی کی انتخابی صورتحال کافی دلچسپ اور ماضی سے بہت مختلف شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ امکان یہی ہے کہ 1988 کے بعد پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں اور گروپوں کو بھی پورے شہر میں کام کرنے اور انتخابی کامیابیوں کے حصول کے لئے متحرک ہونے کا موقع ملے گا جبکہ ایم کیو ایم کی تاریخ میں اس کے مختلف گروپوں کو پہلی بار صرف جماعت کے نشان کے بجائے امیدواروں کی شخصیت کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا ۔

بظاہر مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کے لئے حالات کافی ساز گار لگ رہے ہیں اور امکان یہی ہے کہ حالات اسی طرح رہے تو کراچی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں گی جو قومی اسمبلی میں 5 سے 8 اور صوبائی اسمبلی میں 10 سے 15 تک ہوسکتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سوا کسی جماعت یا گروپ کے بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہوگا کہ اس کے پاس کتنی نشتیں کسی حد تک محفوظ ہیں ۔ کراچی کے 6 اضلاع میں قومی اسمبلی کی 21 اور صوبائی اسمبلی 44 نشستیں ہیں ۔ضلع ملیر میں 3 قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں جن میں این اے 236، این اے 237 اور این اے 238 شامل ہیں اوران کے ساتھ منسلک صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں اور لانڈھی کی ایک نشست پر اہلسنت والجماعت، تحریک انصاف ،متحدہ مجلس عمل ، ن لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر کی پوزیشن بھی بہتر دکھائی دے رہی ہے ۔ ضلع کورنگی میں قومی اسمبلی کی 3 نشستیں ہیں جو این اے 239 سے این اے 241 تک ہیں ۔ ان تینوں حلقوں اور ان سے منسلک بیشتر صوبائی حلقوں میں اصل مقابلہ ایم کیو ایم مختلف گروپوں اور پاک سر زمین پارٹی کے مابین مقابلہ متوقع ہے تاہم ن لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف بھی کوشاں ہیں ۔

ضلع شرقی میں قومی اسمبلی کی 4 نشستیں ہیں جواین اے 242 سے این اے 245 تک ہیں ۔ ان میں سے این اے 242 میں متحدہ مجلس عمل ،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں سخت مقابلے کا امکان ہے ۔ این اے 243 اور 245 میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں،پاک سر زمین، تحریک انصاف جبکہ 244 میں تحریک انصاف ، مسلم لیگ ( ن ) ،ایم کیو ایم کے مختلف گروپ ،متحدہ مجلس عمل ،پاک سر زمین کےمابین مقابلے کا امکان ہے اور تقریباََ اسی طرح کی صورتحال صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی بھی ہے۔ضلع جنوبی میں 2 نشستیں ہیں جو این اے 246 اور این اے 247 ہیں ۔246 لیاری کے مختلف علاقوں پر مشتمل ہے جہاں پر پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم نظر آرہی ہے تاہم ایم ایم اے ،تحریک انصاف اور مسلم لیگ ( ن ) بھی مقابلہ کر سکتی ہیں ۔

این اے 247 کی پوزیشن کافی دلچسپ اور مختلف رہنے کا امکان ہے ۔ 2013 سے قبل اس حلقوں کو جماعت اسلامی اور مسلم لیگ(ن) کا حلقہ شمار کیا جاتا تھا مگر نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس میں آرام باغ ،صدر سب ڈویژن اور دیگر علاقے شامل ہونے کے بعد اب یہ حلقہ کسی کے لئے محفوظ حلقہ نہیں ہے اس حلقے میں زیادہ تر علاقے سابقہ این اے 250 کے ہیں اگر 2013 اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابی نتائج کو مد نظر رکھا جائے تو تحریک انصاف کی پوزیشن کچھ بہتر ہے تاہم 2013 کی طرح اس حلقے سے کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا اور یہی صورتحال اس سے منسلک صوبائی حلقوں کی ہے ۔ضلع غربی میں 5 حلقے ہیں جو این اے 248 سے این اے 251تک ہیں ۔این اے 248 میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن دیگر کے مقابلے میں کافی بہتر محسوس ہورہی ہے باالخصوص مسلم لیگ ( ن ) کے دیرنیہ کارکن اور رکن سندھ اسمبلی ہمایوں محمد خان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کے بعد پیپلز پارٹی کی پوزیشن مزید بہتر ہوئی ہے امکان ہے کہ اس حلقے میں پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور ایم ایم اے کے مابین مقابلہ ہوگا اور اسی طرح کی صورتحال اس سےمنسلک صوبائی حلقوں کی ہوگی۔ این اے 249 سے 251 تک حلقوں میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں ، تحریک انصاف ، پاک سر زمین پارٹی، ایم ایم اے ،پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ( ن ) اور عوامی نیشنل پارٹی کے مابین مقابلہ متوقع ہے ۔

این اے 250 میں عوامی نیشنل پارٹی کی پوزیشن کافی بہتر لگ رہی ہے ۔اس طرح کی پوزیشن ان سے منسلک صوبائی حلقوں کی بھی ہے۔ضلع وسطی 4حلقوں پر مشتمل ہے جو این اے 253 سے 256 تک ہیں ۔زیادہ امکان یہی ہے کہ ضلع وسطی میں اصل مقابلہ ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں، ن لیگ، پاک سر زمین پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور تحریک انصاف کے مابین مقابلہ ہوگا اور اسطرح کی صورتحال اس کے صوبائی حلقوں میں بھی نظر آرہی ہے ۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ضلع وسطی، ضلع شرقی، ضلع غربی اور ضلع کورنگی کے ماضی میں ایم کیو ایم کے مضبوط حلقوں میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے مقابلے میں ایم کیوایم کے ناراض ووٹرز کو فیصلہ کرنا ہوا تو وہ مسلم لیگ ( ن ) کوترجیح دے گا، جبکہ اردو بولنے والوں کے زیر اثر علاقوں میں جماعت اسلامی کی وجہ سے ایم ایم اے کی پوزیشن بھی بہتر ہو سکتی ہے کیونکہ جماعت اسلامی حالیہ دنوں کراچی کے ایشو پر کافی متحرک رہی ہے ۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم اور ایم ایم اے کے لئے تحریک لبیک پاکستان بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے اگر چہ بظاہر کسی حلقے میں اس جماعت کی واضح کامیابی نظر نہیں آرہی ہے تاہم اس کے ووٹ کسی کی ہار اور جیت میں اہم کردارادا کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے