‘بڑوں کی ملاقات کی کہانی’

چیف جسٹس اور وزیراعظم کی غیر معمولی ملاقات ۔۔ اندر کی کہانی

اسد علی طور

کل شام جب سے یہ خبر آئی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کرنے والے ہیں اپنے دیگر صحافی دوستوں کی طرح میں بھی متحرک تھا اور اپنے ذرائع کو رات گئے تک معلومات کے لیے تنگ کرتا رہا۔ معلومات کی بنیاد پر اس ملاقات کا جو خاکہ بنتا ہے اُس کو ذرائع کے تحفظ کی خاطر کچھ ترمیم اور حذف شدہ حصوں کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔

پہلا رابطہ
ذرائع بتاتے ہیں کہ منگل شام پانچ بجے کے بعد اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کی درخواست کی تو اِس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان معزز چیف جسٹس سے عدالت کو درپیش انتظامی اور قانونی امور پر مشاورت و معاونت کے لیے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال یہ ملاقات اُس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کرگئی جب اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس آف پاکستان سے گذارش کی کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اُن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ملاقات کو آن دی ریکارڈ رکھنے اور پریس ریلیز سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کرنے کی صورت رضامندی ظاہر کردی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے حساس موضوعات زیرِ بحث آنے کا کہہ کر ملاقات کو ون آن ون رکھنے کی درخواست کی جو قبول کرلی گئی۔ جس کے بعد چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ اور پی آر او سپریم کورٹ کو اپنے چیمبر میں طلب کرکے متوقع ملاقات کا بتایا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پی آر او سپریم کورٹ شاہد حسین کو ہدایت دی کہ میڈیا کو متوقع ملاقات کا بتا دیا جائے۔ جس کے بعد چھ بج کر تیس منٹ پر پی آر او سپریم کورٹ نے رپورٹرز کو ایک سطر کا مختصر پیغام جاری کردیا۔

ملاقات کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
ن لیگ کے ایک سینیئر ذریعے کا کہنا ہے سینیٹ الیکشن کے انعقاد سے لے کر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب تک حالات و واقعات جس طرح بدلے انہوں نے قیادت کو پالیسی پر نظرِ ثانی پہ مجبور کیا۔ حالات اور بعض انٹیلی جنس رپورٹس اس جانب اشارہ کررہی تھیں کہ پارٹی عام انتخابات تک جاتے جاتے شدید اندرونی بحران کا شکار ہوجائے گی۔ اِن تمام چیلینجز میں ایک بڑا حصہ متحرک عدلیہ سے جاری محاز آرائی بھی ہے۔ ن لیگی وزرا کو توہینِ عدالت کے نوٹسز کا سامنا ہے، سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر کی نشرواشاعت پر پابندی کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوچکی ہے، سرکاری اشتہارات پر سے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور قیادت کی تصاویر پر پابندی لگ چکی اور عدلیہ کی طرف سے ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر بھی نوٹس لینے کا عندیہ دیا جاچکا، احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر دائر نیب ریفرنسز پر فیصلہ کے لیے عبوری حکومت کے قیام تک کا وقت دیا جاچکا، نیب شریف خاندان کے علاوہ جاتی عمرا کے وفادار بیوروکریٹس اور سعد رفیق جیسے وزرا کے خلاف بھی متحرک ہوچکا اور چیف جسٹس صاحب کے تعلیم و صحتِ عامہ سے لے کر صاف پانی و گندگی پر لیے گئے نوٹسز کی بدولت وزیرداخلہ احسن اقبال سے لے کر وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق سب عدالتی پیشیاں بُھگت رہے ہیں۔ شہباز شریف کی بطورِ صدر ن لیگ تعیناتی اور امیدوار برائے وزارتِ عظمیٰ نے بھی کوئی ریلیف نہیں دیا۔ ایسے میں باجوہ ڈاکٹرائن اور چیف جسٹس کے جاوید چوہدری کو انٹرویو نے اِس تاثر کو مزید تقویت دی کہ اگر کسی بھی فیصلے کی صورت میں سینیٹ انتخابات کی مانند عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل شہباز شریف کے خلاف کوئی بھی فیصلہ آگیا اور اُن کے جاری کردہ ٹکٹ بھی کالعدم قرار دے دئیے گئے، قیادت کی تقاریر کی نشر و اشاعت پر پابندی لگادی گئی، امیدوار آزاد ہوگئے جبکہ ترقیاتی فنڈز اور اسکیمیں نہ ملنے پر بہت سے موجودہ ایم این ایز کی پارٹی کے ساتھ وفاداریاں بھی مشکوک ہوں گی۔ اور پھر اگر میاں نوازشریف اور مریم نواز کو ممکنہ طور پر جیل ہوجاتی ہے تو ن لیگ کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نئی حلقہ بندیوں کا مسئلہ عبوری حکومت سے قبل طے نہ پاسکنے کی صورت نظریہ ضرورت سے رجوع کی مجبوری کا اظہار بھی کرچکے اس نے مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد میں مشکلات بارے خدشات کو تقریت مل دی۔ جبکہ سابق وزیراعظم نوازشریف بطورِ والد اپنی بیٹی مریم نواز کو جیل بھیجے جانے کے امکانات پر بھی ذہنی دباو کا شکار ہیں۔

ملاقات میں کیا ہوا؟
ذرائع بتاتے ہیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے ملٹری سیکریٹری کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچے جہاں گراونڈ فلور پر ججز ریسپیشن ایریا میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اُنکا استقبال کیا اور انہیں ساتھ لے کر لفٹ کے ذریعے تیسری منزل پر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری کو چیف جسٹس کے سیکریٹری کے کمرے میں بٹھایا گیا جبکہ وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے اسکیورٹی اسٹاف نے کوریڈور میں اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ کچھ ہی دیر بعد پی آر او سپریم کورٹ کو پی ٹی وی کے کیمرہ مین کے ہمراہ طلب کرکے ملاقات کی فوٹیج بنوا کر چیمبر سے باہر بھیج دیا گیا۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے دوران رجسٹرار سپریم کورٹ اور پی آر او سپریم کورٹ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری کے ہمراہ سیکریٹری چیف جسٹس کے چیمبر میں موجود رہے۔ سپریم کورٹ کے کچن کے اسٹاف کے دو ارکان نے ملاقات کے آغاز کے دس منٹ بعد چیف جسٹس کے چیمبر میں چائے بسکٹ اور سینڈوچز پیش کیے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹہ پچپن منٹ تک پر ون آن ون جاری رہی اور کسی بھی موقع پر کسی تیسرے فرد نے اس بیٹھک میں شرکت نہیں کی۔ ملاقات کے دوران رجسٹرار سپریم کورٹ کئی بار سیکریٹری ٹو چیف جسٹس کے کمرے سے باہر نکل کر کو راہداری میں ٹہلتے رہے۔ اِس غیر معمومی ملاقات میں کسی بھی موقع پر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی باڈی لینگوئج چیف ایگزیکٹو آف دی اسٹیٹ کی نہیں تھی جو کہ ایک آئینی ادارے کے سربراہ سے مل رہا ہے بلکہ شاہد خاقان عباسی نے تمام مدعا درخواستگزار کے انداز میں چیف جسٹس کے سامنے بیان کیا۔

ملاقات کے بعد کیا ہوا؟
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار خود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اُنکی گاڑی تک چھوڑنے آئے جہاں سے واپسی پر چیف جسٹس آف پاکستان اپنے چیمبر میں واپس جانے کی بجائے پہلے وائٹ کالر کرائم کے ایکسپرٹ جج جسٹس عظمت سعید شیخ کے چیمبر میں گئے اور وہاں کچھ وقت گزار کر دونوں معزز ججز چیف جسٹس کے چیمبر میں چلے گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن جو گھر جاچکے تھے کو وزیراعظم کی روانگی کے بعد فون کرکے گھر سے بلوایا گیا اور انہوں نے چیف جسٹس کے چیمبر میں جاکر جسٹس عظمت سعید شیخ اور چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کو جوائن کرلیا۔ تینوں جج صاحبان نے کچھ دیر گفتگو کے بعد رات دس بجے کے قریب رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کیا اور چیف جسٹس نے پریس ریلیز کے لیے انہیں پوائنٹس نوٹ کروائے۔ بعدازاں رجسٹرار سپریم کورٹ نے اِن پوائنٹس کی روشنی میں پی آر او سے پریس ریلیز تیار کروائی جس کا ڈرافٹ منظوری کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش کردیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن کی تجاویز پر ڈرافٹ میں کچھ تبدیلیاں اور کچھ نئے جملے شامل کروا کر پریس ریلیز پہلے وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری اور پھر میڈیا کو جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری کو پریس ریلیز کا ڈرافٹ منظوری نہیں صرف آگاہی کے لیے بھجوایا گیا۔

تجزیہ
یہ ملاقات اداروں کے درمیان تناو کے بڑھتے ہوئے تاثر کے دوران ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ اس میں دونوں فریقین کے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ سپریم کورٹ جو پوزیشن لے چکی وہ اب اُس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی ورنہ اپوزیشن جماعتوں کے طرف سے ڈیل کے ممکنہ الزامات اِس کی ساکھ بھی تباہ کردیں گے۔ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت کیسز میں دیے جانے والے ریمارکس کا اپوزیشن جماعتیں اب زیادہ غور سے مطالعہ کریں گی تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ کوئی تبدیلی تو نہیں آئی اور اگر کسی بھی قسم کی برف پگھلتی محسوس کریں تو واویلا مچا دیں۔ ن لیگ نے اس ملاقات سے اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ اس ملاقات کی جاری کردہ پریس ریلیز میں لفظ چیف جسٹس کے ویژن کے ایک سے زیادہ بار استعمال سے تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عوام کا دیا ہوا مینڈیٹ ن لیگ کے ویژن کو نہیں بلکہ چیف جسٹس کے ویژن کو پورا کرنے کے لیے استعمال کریں گے جس کے بعد ووٹ کو عزت دو اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کروائیں گے کی پالیسی لائن کو نظریاتی بیانیہ کی جگہ صرف سیاسی نعرے کی حیثیت ہی دینی ہوگی۔

متعلقہ مضامین