کراچی کی روشنیاں بحال

کراچی کی روشنیاں بحال، سیاسی میدان بھی اوپن !
کراچی کاامن شکریہ نوازشریف،شکریہ راحیل شریف !
عبدالجبارناصر
ajnasir1@gmail.com
ہر گزرتے دن کے ساتھ سندھ کی سیاسی صورتحال اور مستقبل کا انتخابی نقشہ کسی حدتک واضح ہوتا جارہاہے اس حوالے سے جلد بہت سی تبدیلیوں اور صف بندی کا امکان ہے۔
ملک بھر کی سیاست کے حوالے سے متحدہ مجلس عملی(ایم ایم اے)کی بحالی کو اہم قرار دیا جا رہا ۔20مارچ کو متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی کی میزبانی میں کراچی میں ہوا، جس میں مرکزی تنظیم سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ایم ایم اے کی بحالی کا خیبر پختونخوا کے بعد سندھ میں مثبت انتخابی نتائج دیکھائی دے رہے ہیں ۔مبصرین کے مطابق ایم ایم اے میں شامل جماعتوں نے مخلصانہ کوشش کی تو سندھ میں اس کی پوزیشن ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوسکتی ہے۔ دیہی علاقوں میں جمعیت علماء اسلام ، جبکہ شہری علاقوں میں جماعت اسلامی کاہوم ورک اور عوامی مسائل کے حوالے سے حالیہ چند برسوں کی جدوجہد کافی مثبت ثابت ہوسکتی ہے۔اس کے لئے جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا راشد محمود سومرو کو دیہی سندھ کے ساتھ ساتھ کراچی کی تنظیم پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

جمعیت علماء اسلام نے 22مارچ کو کراچی،23مارچ کو نواب شاہ، 24 مارچ کولاڑکانہ ،25مارچ کو سکھر اور26 کو گھوٹکی میں اسلام زندہ بادکانفرنس کے عنوان سے کامیاب اجتماعات کا انعقاد کرکے ایک مرتبہ پھر اپنے کارکنوں اور حامیوں میں تحریک پیدا کرچکی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کسی حدتک اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اظہار بھی کیاہے ۔کراچی کے اجتماع انہوں نے مقتدر قوتوں کوبعض اہم پیغامات بھی دیئے ، بالخصوص اہل مذہب کو مختلف اداروں میں شک کی نگاہ سے دیکھنے کے حوالے سے ان کا پیغام انتہائی سنجیدہ اور کافی سخت تھا۔ انہوں نے کراچی کے حوالے سے بھی واضح طور پر کہاہے کہ انہوں نے ’’کراچی کوسیاسی میدان میں فتح کیلئے حکمت عملی طے کرلی ہے‘‘۔ اسی اجتماع میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے ماضی میں ایم کیوایم کی سیاست پر سخت تنقید کرتے ہوئے اہل کراچی کو پیٖغام دیاہے کہ وہ اب کی بار وہ غلطی نہ دھرائے جسکی وجہ سے گزشتہ30سال میں دنیاکے اس عظیم ترین شہر کو مقتل اور کھنڈر میں تبدیل کیاگیا۔ کانفرنس میں جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر اسد اﷲ بھٹو نے بھی اہل کراچی سے اسی طرح کی اپیل کی ہے۔مبصرین کے مطابق سندھ کے دیہی علاقوں میں جمعیت علماء اسلام اور شہری علاقوں میں جماعت اسلامی اورجمعیت علماء پاکستان ڈور ٹو ڈور مہم عام انتخابی میدان میں ایم ایم اے کو سندھ سے مثبت نتائج دے سکتی ہے۔ کراچی میں1988کے بعد پہلی بار آزادانہ کام کرنے اور اپنا پیغام پہچانے کے واضح مواقع موجود ہیں اور کراچی سب کے لئے اوپن ہے جوبھی جماعت اہلیان کراچی کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قائل کرنے میں کامیاب ہوگی وہی بہتر نتائج حاصل کرسکے گی ۔ ماضی میں شہر کے امن وامان کی صورتحال انتہائی مخدوش اور شہر کے بیشتر علاقے بیشتر جماعتوں یا ایک دوسرے کیلئے نو گو ایریاز بنے ہوئے تھے تاہم 4ستمبر 2013سے اپریشن کے کافی مثبت نتائج سامنے آچکے ہیں ۔

اس آپریشن کے نتیجے میں کراچی کے امن وامان کی صورت حال بہت بہتر بلکہ گزشتہ30سالوں کے مقابلے میں مثالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹھیک سوا 9 سال بعد اہل کراچی نے 25 مارچ کو نیشنل اسٹیڈیم میں پی ایس ایل 3کے فائنل کی صورت میں ایک خوبصور ت اور حسین خواب کو حقیقت بنتا ہوا دیکھااورکراچی کی روشنیاں بحال ہوگئی ہیں ۔ کراچی میں امن کا کریڈٹ سابق وزیر اعظم نوازشریف ، سابق آرمی چیف راحیل شریف ، سندھ رینجرز اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی اداروں کو جاتاہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی میں’’شکریہ نوازشریف،شکریہ راحیل شریف‘‘کا نعرہ کافی مقبول ہوچکا ہے ۔پی ایس ایل کے کراچی میں انعقاد کا کریڈٹ امن قائم کرنے والوں کے ساتھ ساتھ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو جاتاہے جو گزشتہ ایک سال سے اس فائنل کیلئے دل وجاں سے کوشاں تھے ۔

کراچی کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انتخابی میدان میں مستقبل کا کراچی کس کا ہوگا،تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں ہے کہ اپنی بیڈ گورننس اور غفلت کے باوجود پیپلزپارٹی فنی بنیادوں پر واحد جماعت ہے جس کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی 15سے20نشستیں یقینی نظر آرہی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کی تقسیم درتقسیم کے بعد سندھ کے شہری علاقوں بالخصوص ایم کیوایم کا ووٹر شدید مایوسی اور غیر یقینی صورتحال کا شکارہے۔ پیپلزپارٹی کو ایم کیوایم کی اس تقسیم اور نئے حلقہ بندیوں اور 10 سالہ حکمرانی کا بھرپور فائدہ ملنے کا امکان ہے، تاہم اس کے اثار بہت کم ہیں کہ ایم کیوایم کا مایوس ووٹر پیپلزپارٹی کی طرف مائل ہو۔اس ضمن میں وہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں جماعت اسلامی ، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف یا دیگر جماعتوں کو ترجیح دیگا۔ مسلم لیگ(ن) اگر محنت کرے تو وہ امن وامان کے کریڈیٹ کو لیکر مثبت نتائج حاصل کرسکتی ہے،کیونکہ 2015کے بلدیاتی انتخابات میں بغیر کسی سنجیدہ کوشش کے ن لیگ کراچی کی تیسری بڑی جماعت رہی ۔ 2013تحریک انصاف کو ایک سنہرا موقع ملا لیکن عملی میدان میں تحریک انصاف نے سوائے جلسہ جلوس کے کچھ نہیں کیا بلکہ تنظیم سازی بھی نہیں ہوئی۔

جہاں تک ایم کیوایم کے مختلف گروپوں کا تعلق ہے ان کے حوالے سے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ مستقبل میں کس کو کتنی جگہ ملے گئی،تاہم یہ طے ہے کہ اگر گروپ بندی اسی طرح جاری رہی تو کسی گروپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔ مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن سے 26مارچ کے فیصلے کے نتیجے میں پارٹی کا نام اورنشان ایم کیوایم پاکستان بہادر آباد گروپ کو ملنے کے بعد ان کی اخلاقی پوزیشن بہتر توہوئی ہے، تاہم کارکن اور ووٹرز کوقائل کرنا بہادر آباد گروپ کیلئے بہت مشکل کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ڈاکٹر فاروق ستار کے ایم کیوایم پاکستان پی آئی بی گروپ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق کارکنوں اور ووٹرز میں اب بھی ڈاکٹر فاروق ستار کو اہمیت حاصل ہے اور وہ اپنی پوزیشن کو اس کس طرح برقرار رکھتے یا بہتر کرتے ہیں یہ ان کی آیندہ حکمت عملی سے ظاہر ہوگا۔ماضی میں ایم کیوایم کا حصہ رہنے والے رہنماؤں پر مشتمل سید مصطفی کمال کی جماعت پاک سرزمین پارٹی عوامی سطح پر جگہ بنانے کیلئے کافی کوشش کررہی ہے ،لیکن اب تک بظاہر وہ نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں جس کی توقع کی جارہی تھی ،جبکہ پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے عوامی سطح پر کافی منظم اور بہتر انداز میں کام کیا ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران ایم کیوایم کے ایک درجن سے زائد ارکان قومی وصوبائی اسمبلی پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ 28مارچ کو بھی دو خواتین ارکان صوبائی اسمبلی ناہید بیگم اورنائلہ منیر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوئی ،تاہم ایم کیوایم کے منتخب ممبران اور نمائندوں کے حوالے سے یہ کہنامشکل ہے کہ یہ کسی بھی جماعت کو کوئی بڑا سیاسی فائدہ پہنچا سکیں ، کیونکہ ان میں سے بیشتر کا کوئی انتخابی حلقہ نہیں ہے ۔یہ ماضی میں صرف پارٹی کی بنیاد پر منتخب ہوتے رہے ہیں۔ کراچی کے مستقبل کے انتخابی نقشے کے حوالے سے یہی نظر آرہا ہے کہ وہی بہتر پوزیشن حاصل کرسکے گاجس کے پاس عوام کو قائل کرنے کیلئے اخلاقی جواز، کارکردگی اور تربیت یافتہ انتخابی کارکن موجود ہوں گے ۔

متعلقہ مضامین