ہارن بجانا منع ہے

مطیع اللہ جان

یوگوسلاویہ سے آئے ایک آسٹریلوی خاندان میں پیدا ہونے والا چھتیس سالہ نکولس وجیچک پیدائشی طور پر ٹیٹرا امیلیا جیسی انتہائ منفرد بیماری کا شکار تھا- پوری دنیا میں ایسے تقریبأ سات ہی بچے ہیں-

ایک رونگھٹے کھڑے کر دینے والی ویڈیو میں اس شخص کو دیکھا جا سکتا ھے جو مکمل طور پر بازؤوں اور ٹانگوں سے محروم تھا- اسے دیکھ کر اس وقت رونا آ گیا جب اسُ نے بھری محفل میں لوگوں کو ایک خوشگوار زندگی گذارنے کے طریقے بتائے – وہ دیکھ سکتا تھا، سن سکتا تھا، بول سکتا تھا اور انہی صلاحیتوں کے باعٽ زندہ تھا- اسے دیکھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان اگر اپاہج بھی ہو تو خوش رہ کر جی سکتا ھے مگر اندھا، گونگا بہرہ رہ کر نہیں-

پاکستانی معاشرہ بھی نکولس وجیچک جیسی صورت حال سے دو چار ھے – کوئ بھی معاشرہ اپنی تمام کمزوریوں اور معذوریوں کے ساتھ تو زندہ رہ سکتا ھے مگر اس کی موت تب آتی ھے جب اسے اندھا گونگا اور بہرہ کر دیا جائے ۔
ہمارے بچوں میں سے کوئ محض ہکلاہٹ کا بھی شکار ہو تو تو ہم اس بچے کی گفتگو اپنی سانسیں روک کر سنتے ہیں اور اسے غلط یا صحیح کچھ بھی بولتے رہنے کی اجازت ہوتی ھے- ایک معاشرہ بھی ایک ایسا بچہ ہوتا ھے جس کی سوچ اور بولنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اس کے لیڈران اور حکمرانوں کا فرض ہوتا ھے- بدقسمتی سے ہمارے سیاستدان، جج، جرنیل اور جرنلسٹ حضرات اپنے بچوں کو تو سوچ، فکر اور گفتار کی بہترین تربیت اور آزادی دینے واسطے دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں مگر معاشرے کی سوچ اور آزادئ اظہار کو ملک دشمن اور غدار قرار دے کر قید کر دیتے ہیں- بہت سے جج اپنی اولاد کو قانون اور آئین کی بہترین تعلیم تربیت دلواتے ہیں اور خود اسی آئین کی پامالی میں سہولت کار بن جاتے ہیں، کچھ جرنیل اپنے بچوں کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق پر مدلل گفتار کی تربیت دیتے ہیں مگر معاشرے میں دلیل کی بلبل کو غلیل سے مار گراتے ہیں- دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں اور کالجوں سے تعلیم یافتہ نجانے کتنے جرنیلوں کے بچے بھی فوج کے سیاسی کردار کے خلاف اپنے والدین سے بحٽ تو کرتے ہونگے- اب ہماری امید شاید یہی پڑھے لکھے بچے ہی رہ گۓ ہیں- ہماری قوم کا مستقبل انکے اور انکے ابوؤں کے ہاتھ میں ھے-

نکولس جیجک جیسے با ہمت شخص کے منہ پر اگر آج کوئ شخص ٹیپ لگا دے، آنکھوں پر پٹی باندھ دے یاُ اس کی قوت سماعت چھین لےُ تو کیاُ وہ زندہ رہ پائے گا؟ جی نہیں، بالک بھی نہیں-
پاکستانی معاشرہ بھی ایسی ہی مصیبت میں ھے- ہماری ریاست اور حکومت کے دست و بازو اس کا ساتھ نہیں دیتے اور اسکے بعد اب معاشرے کی دیکھنے، سننے اور بولنے کی قوت بھی سلب کی جا رہی ھے- ظالم کا ہتھوڑا سر پر ھے اور بوٹ گردن پر- سر پر چوٹ پڑتی ھے تو چیخ نکلتی ھے اور چیخ نکلتی ھے تو اسے دبانے کیلئیے بوٹ گردن میں دھنسا دیا جاتا ھے- ظالم مارے اور رونے بھی نہ دے والی صورت حال ھے- مگر یہی وقت ہے بولنے کا چاہے نتائج کچھ بھی ہوں۔ کوئ سنے نہ سنے، کوئی سمجھے نہ سمجھے اور کوئی چھاپے نہ چھاپے، ہمیں اپنے سر پر ہتھوڑے اور گلے پر بوٹ کی موجودگی کے باوجود سچ بولناھے، چیخنا ھے، چلانا ہے۔ میڈیا کو بھی کم از کم نزاع کے عالم میں تو سچ بولنا ہو گا،اس کے بعد تو شاید کبھی بھی نہ بول پائیں اور ویسے بھی جب پانی سر سے گذر جائے تو پھر شرم سے ڈوب مرنا ہی بہتر ہوتاہے۔ میڈیا پر پابندی دراصل ہمارے معاشرے اور قوم پر پابندی ھے جس کی ہم آنکھیں اور کان ہیں- ہماری معاشرے کی یہ آنکھ کمزور ہوسکتی ھے مگر نظر آتا ھے، ہماری قوت سماعت کم ہو سکتی ھے مگر سنائی دیتا ھے اور ہماری اس زبان میں ہکلاہٹ ہو سکتی ھے مگر بات کر ہی لیتے ہیں- اسی لئے مہذب معاشروں میں میڈیا پر کسی قسم کی پابندی کے خلاف عوام احتجاج کرتے ہیں ۔

بہرحال الیکشن سے چند ماہ پہلے صحافیوں کے ایک بڑے گروپ کو دی گئی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی “آف دی ریکارڈ” بریفنگ میں کچھ ایسا ہوا ہے کہ بڑے بڑے صحافیوں کو سانپ سا سونگھ گیا ہے۔ اس بریفنگ میں آرمی چیف نے ایک بڑےمیڈیا گروپ جیو ٹی وی کو “فسادی” قرار دیا ھے- اس کے بعد “ردالفساد” تو بنتا تھا۔ ذرائع کے مطابق کہا گیا کہ ہماری مرضی کہ ہم کوئی چینل دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ اس سے پہلے جیو ٹی وی چینل کی تمام فوجی چھاؤنیوں میں بندش کی خبریں بھی عام تھی۔ آرمی چیف کی بریفنگ میں اس چینل سے متعلق سخت رائے کے بعداب پورے ملک میں اس کی نشریات بتدریج بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ چند دوسرے چینل بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں جیسا کہ وقت نیوز –

جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق “زندہ رہنےکے لئے” اس ٹی وی چینل کی انتظامیہ نے ‘ان کی’ دی گئی ہر خبر چلائی مگر شاید ان کے تحفظات کچھ ایسی نوعیت کے تھے جو وہ خود اپنی زبان سے بیان نہیں کر پا رہے تھے اسی لئے اس چینل کے خلاف آپریشن رد الفساد تندہی سے جاری ھے-

آزادئ صحافت کے لئے آواز أٹھانے اور ضابطہ اخلاق کی پابندی کے حوالے سے جیو ٹی وی کا اپنا ریکارڈ کچھ اتنا قابل تقلید نہیں، اس کے باوجود بات اصول اور آزادی صحافت کی ھے- یہ بات اس قانون کی ھے جس کے تحت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرہ) کے سواکسی اور فرد یا ادارے کو کسی ٹی وی چینل کی نشریات کسی بھی جگہ روکنے کااختیار نہیں۔ایسا کرنا قانونأ جرم ھے- مگر شاید کچھ لوگوں نے سمجھ لیا ھے کہ چھاؤنیوں میں پاکستان کا آئین اور قانون لاگو نہیں ہوتا۔ سول ہسپتالوں کے دوروں کے شوقین حضرات شاید اسی لئیے محض سویلین ہسپتالوں کا ہی دورہ کرتے ہیں-

بات ہو رہی ہے میڈیا کے اوپر آئی آفت کی جس پرمیڈیا خود بھی آواز نہیں اٹھا پا رہا۔ مؤقر غیر ملکی جریدےاکانومسٹ نے پاکستان میں اداروں کے بیچ اقتدار اور اختیارکی کشمکش پر کہا کہ الیکشن ہو گئے تو بھی آنے والی حکومت کی“گردن پر بوٹ اور سر پر ہتھوڑا” ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کی گردن پر بوٹ اور سر پر ہتھوڑا الیکشن سے پہلےہی محسوس ہو رہا ہے۔ میڈیا پر فسادی اور ملک کے غیر وفادارہونے کے الزام تو محض ایک بہانہ ہے اصل میں فوج اوراسکے خفیہ ادارے انتخابات سے پہلے اور اس دوران جو کچھ کرناچاہتے ہیں، میڈیا اس میں بہت بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

نوازشریف اور فوج کے سیاسی کردار کے مخالفین کی تقریریں ہوں،عمران خان کے سکینڈل یا پھر بلوچستان کے سیاسی یتیموں کی پرورش کرنے کا ذمہ لینے والے نیک “باپ” کا تذکرہ، یہ سب قابل قبول نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ صحافیوں کےایک بڑے مجمع کو دی گئی آف دی ریکارڈ بریفنگ میں بین السطور جو دھمکیاں دی گئی وہاں موجود کسی صحافی نے اس کو چیلنج نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق ان صحافیوں کو یہاں تک کہا گیا کہ آپ سب کی فائلیں ہمارے پاس ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آپکو کہاں کہاں سے لفافے آتے ہیں۔ اتنے معتبر صحافیوں کے ساتھ ایسےسلوک کے باوجود ان صحافیوں کا میڈیا سے متعلق ان دھمکیوں اور الزامات پر خاموش رہنا کسی بھی طور “آف دی ریکارڈ” صحافتی اصول کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

اس مشہور زمانہ آف دی ریکارڈ بریفنگ کی آن دی ریکارڈ تصدیق تو اب فوج کے ترجمان نے بھی کر دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترجمان نے اس بریفنگ میں ہونے والی سیاسی باتوں کی تردیدکرنے کی بجائےمحض اتنا کہا ہے کہ وہ باتیں “باجوہ ڈاکٹرائن” کاحصہ نہیں تھی۔ ترجمان نے اٹھارویں ترمیم سے متعلق آرمی چیف سے منسوب تحفظات کی بھی واضح تردید نہیں کی مگروضاحت میں “تھوڑا “اباؤٹ ٹرن” ضرور لیا گیا ھے۔ بات کہنے کی یہ ھے کہ بریفنگ کا مقصد متعلقہ اداروں، سیاستدانوں اور میڈیا کو“لاؤڈ اینڈ کلیئر” پیغام دینا تھا جو دے دیا گیا اور “آپریشن ردالفساد” کو ایک نئی جہت مل چکی ہے۔ میڈیا کو خاص طور پراپنی گردن پر بوٹ محسوس ہو رہا ہے، چاہے وہ کیبل پر چندچینلوں کی بندش ہو یا عسکری کمرشل اداروں کی طرف سےاشتہارات کے ہتھیار کو استعمال میڈیا کے سر پر ہتھوڑا لٹکا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ میں سرکاری اشتہارات کے اجرا سے متعلق کچھ اہم اور ضروری سوال ضرور اٹھائے گئے ہیں مگر ان کو جواز بنا کر عین الیکشن سے پہلے اشتہارات کی بندش بہت معنی خیز ہے۔میڈیا کے چند بڑے ادارے پچھلے کئی ماہ سے اپنے کارکنوں کوتنخواہ نہیں ادا کر سکے کیونکہ حکومت کی اشتہارات کی مد میں ادائیگیاں عدالتی کاروائی کے باعث تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔ دس دس لاکھ سے زائد کی تنخواہ اور مراعات لینے والے ججوں،جرنیلوں اور جرنلسٹوں کے لئیے شاید یہ خبر نہیں کہ جس کا نوٹس کیا جا سکے یا اس پر بات کی جا سکے مگر صورت حال انتہائی گھمبیر ھے۔

عین الیکشن سے پہلے میڈیا پر یہ حملہ کسی ‘منظم دھاندلی’ سے کم نہیں۔ اس حملے میں یقیناً صرف وہ صحافی اورمیڈیا کے ادارے گھائل ہونگے جو جمہوریت کی بات کرتے ہیں جبکہ بوٹ پالش کرنے والے میڈیا کے اداروں، اینکروں اورصحافیوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان میڈیا تیزی سے اپنے روایتی انجام کی طرف جا رہاہے۔ ایسے میں اگر خدانخواستہ ملک کو اب کوئی نقصان پہنچا تواسکے ذمہ دار ہم سب اور خاص کر چھپ کر وار کرنے اورسازش کرنے والے بزدل افراد اور ادارے ہونگے۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ ان حقائق کو بھی سرکاری تاریخ میں مسخ کر دیاجائےگا-

شور شرابا اور چیخنا چلانا زندگی کی علامات ہیں- قبرستانوں اور کنٹونمنٹوں میں ہارن مارنے پر بھی پابندی ہوتی ھے مگر ملک قوم اور معاشرے کنٹونمنٹوں میں نہیں پر ہنگامہ زندگی سے بھرپور شھروں، یونیورسٹیوں اورصنعتی علاقوں میں پھلتے پھولتے ہیں-

ہمیں ان اعلی تعلیم یافتہ بچوں اور اس نوجوان نسل پر فخر ھے جو کنٹونمنٹوں میں رہ کر بھی قانون کے تحت کئیے گۓ فیصلوں اور سیای مقبولیت کی لالچ میں کئیے گۓ فیصلوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں- نوجوان نسل جمہوریت اور آئین کو بہترسمجھتی ھے اور پرانی نسل کو اس سے سبق سیکھنا ہو گا- یا اللہ مقتدر قوتوں کو ہدایت دے اور عوام کو اپنے مینڈیٹ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ- آمین!

کالم مطیع اللہ جان کی فیس بک سے ان کی اجازت سے شائع کیا گیا

متعلقہ مضامین