توہین عدالت کیس میں دانیال کا گواہ

سپریم کورٹ نے دانیال عزیز توہین عدالت کیس میں دفاع کی جانب سے دو میں سے ایک گواہ کو طلب کرنے کی استدعا منظور کر لی ہے ۔ عدالت میں دانیال عزیز کے وکیل نے جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس کی سی ڈی بھی پیش کی ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق دانیال عزیز کے وکیل علی رضا نے کہا کہ دو گواہان کی طلبی کے لئے درخواست دی ہے، ایک پیمرا کے ڈائریکٹر مانیٹرنگ ہیں جبکہ دوسرے ڈان ٹی وی کے پروڈیوسر ہیں جنہوں نے دانیال عزیز کا کلپ اپنے پروگرام میں نشر کیا تھا ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ان میں سے ایک گواہ پیمرا کے ڈائریکٹر تو پہلے ہی پیش ہو چکا ہے ۔ وکیل علی رضا نے عدالت کو بتایا کہ گواہ نے وہ مواد پیش نہیں کیا جو ہمیں درکار ہے ۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ بار بار ایک گواہ کو بلانے سے وقت ضائع ہوگا، آپ گواہ سے مواد منگوا بھی سکتے تھے ۔ وکیل علی رضا نے کہا کہ نجی ٹی وی کے کلپ کی تصدیق کروانی ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ آپ متن کو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ نجی ٹی وی کا کلپ ایڈیٹ شدہ ہے، جاننا چاہتے ہیں ویڈیو کس نے بنائی اور ایڈٹ کی ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ویڈیو سے متعلق پیمرا گواہ پر جرح کر چکے ہیں، جو گواہ متعلقہ نہیں انھیں بلا کر کیا کرنا ہے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق مقدمے میں پراسیکیوٹر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے کہا کہ دانیال عزیز کے گواہ غیرمتعلقہ ہیں، عدالت کے سامنے ایڈیٹنگ کا معاملہ نہیں ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ ففٹی ففٹی کر لیتے ہیں، پیمرا کے گواہ کو نہیں بلاتے اور پروگرام کے پروڈیوسر کاشف جبار کو سمن کر لیتے ہیں ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ایڈیٹنگ کا مطلب ہے کہ کیا کسی اور نے دانیال عزیز کی آواز نکالی، کسی اور کا دانیال عزیز کی آواز نکالنا مشکل لگتا ہے، آپ کو ایڈٹنگ کا مسئلہ ہے تو اصل ویڈیو بھی منگوا لیتے ہیں ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ عدالت میں پیش کی گئی سی ڈی میں کیا ہے؟ دانیال عزیز کے وکیل نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس ہے ۔ جسٹس عظمت نے پوچھا کہ اس کیس سے کیا تعلق ہے؟ وکیل نے بتایا کہ جو بات دانیال عزیز نے کہی وہ جاوید ہاشمی نے بہت پہلے کہی تھی ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ جاوید ہاشمی کی سی ڈی کا کیس سے تعلق نہیں بنتا ۔ عدالت نے جاوید ہاشمی کا بیان غیرمتعلقہ قرار دے دیا ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت نے دانیال عزیز کے وکیل کی پیمرا ڈائریکٹر حاجی آدم کو دوبارہ بلانے کی استدعا بھی مسترد کر دی اور کہا کہ وکیل صفائی عدالت کو طلبی پر قائل نہیں کرسکے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پروڈیوسر کاشف جبار کو طلب کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔

جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ اپنے گواہ کو سمن کی تعمیل خود کروائیں، تاخیری حربے استعمال نہ کریں، سیدھا چلیں گے تو آپ کے لیے بہتر ہوگا ۔

دانیال عزیز توہین عدالت کیس کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے