کیا خبر غلط تھی؟

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

نواز شریف اور مریم نواز تقاریر ہائی کورٹ فیصلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے ہائی کورٹ فیصلے کا پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ جی پڑھ لیا ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کمنٹ کیا کہ فیصلہ پڑھنے پر آپ کو مبارک باد ۔ اسی کے ساتھ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سامنے پڑے چار انگریزی اخبارات کی شہ سرخیاں پڑھیں، کہا کہ ماشا اللہ، یہ دی نیوز ہے، ہیڈلائن پڑھی جس کا لب لباب تھا کہ نواز شریف اور مریم کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ٹریبیون ہے، پھر اس کی شہ سرخی پڑھی۔ کہا کہ یہ دی نیشن ہے، سرخی پڑھی۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے ڈان اخبار اٹھایا، شہ سرخی پڑھی اور کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پابندی والی بات کہاں لکھی ہے جو ان اخبارات نے شائع کی؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کہاں ہے پابندی؟ اب ہائی کورٹ کے اس آرڈر کو پڑھیں، پیمرا کے چیئرمین کہاں ہیں؟۔ ایک افسر سامنے آئے تو کہا کہ اتنی دیر سے عدالت کیوں آئے؟ اسلام آباد میں ہوتے ہیں؟ ۔  بتایا کہ قائمقام چئیرمین پیمرا ہوں ۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھیں پڑھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے تو اظہار رائے کی آزادی کے آرٹیکل انیس کو اپنے آرڈر میں دوبارہ لکھا ہے، کیا اس پر عمل نہیں ہونا چاہئے؟ عدالت نے آرٹیکل 19 اور 68 کے تحت پیمرا کو کام کرنے کا حکم دیا ۔ کیا اس پر پیمرا کو گالیاں نکالنا شروع کر دی جائیں؟ ۔ بتایا جائے پیمرا آج تک کیا کرتا رہا ہے؟ کیوں شکایات پر کارروائی نہیں کی؟ کیا یہ پیمرا کی ڈیوٹی نہیں تھی؟ عدالت نے نشاندہی کی تب پتہ چلا ۔

قائمقام چئیرمین پیمرا نے ہکلاتے ہوئے بتایا کہ 27 مارچ کو عہدہ سنبھالا ہے، ہم نے نوٹس جاری کیے ہیں، چینل ۵ کو بھی نوٹس کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پاور لیس ہیں، اگر نوٹس ہی کرنے ہیں تو ضرورت کیا ہے، کیا پیمرا کے پاس اختیار نہیں ہے، کارروائی کیوں نہیں کرتے ۔ کیا آپ سرکاری ملازمت میں ہیں، یا حکومت نے ممبر لگایا ہے ۔ بتایا گیا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ممبر ہوں، سرکاری ملازمت میں ہوں ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا آرٹیکل 19 کی عملداری نہیں ہونی چاہیے؟ 2017 سے پیمرا کے پاس شکایات ہیں، پیمرا نے ان شکایات کا کیا نوٹس لیا، پیمرا ریگولیٹر ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا پیمرا کو کوئی آ کر بتائے گا کہ اپنا کام کریں؟ عدالت نےحکم کچھ اور جاری کیا رپورٹنگ کچھ اور ہوتی رہی، میں ان رپورٹرز کو جانتا ہوں انہوں نے نہیں کیا، یہ جعلی خبر کسی نے مینج کر کے چلائی، کسی نے منظم طریقے سے یہ سب کچھ کیا یے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ سب سسٹیمٹک ہوا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل آپ کیا چاہتے ہیں نفرت انگیز تقاریر شروع ہو جائیں، آپ بتا دیں ہم آرڈر میں لکھ دیتے ہیں، میں نے تو آرڈر نہیں دیکھا تھا، رات کو پریشان تھا کہ کیا غلطی ہوگئی، میری ہائی کورٹ نے کیا کر دیا پے جو اتنا شور مچا ہوا ہے ۔ اب پڑھا تو پتہ چلا کہ اتنا اچھا آرڈر کیا ہے، یہ جعلی خبر چلائی گئی ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پیمرا ٹوتھ لیس، مائنڈ لیس اور اسپیچ لیس ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی خبر پر پیمرا نے کیا نوٹس دیا؟ ٹوئسٹ کر کے فیک نیوز چلائی گئی، کیا ایکشن لیا؟ پیمرا چیئرمین نے کہا کہ ہم نے اس پر ایکشن لیا ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اٹس پے تھیٹک ۔ (قابل رحم )۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کون اس کی تحقیقات کرائے گا، کہاں سے یہ خبر بنائی گئی؟ اور کس نے دی؟ جسٹس عظمت نے کہا کہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ ہائی کورٹ کے رپورٹرز نے یہ غلطی کی، کوئی ہائیکورٹ آیا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لکھا گیا کہ نواز صاحب کو بین کر دیا، مریم بیٹی کو بین کر دیا ۔ پیمرا نے ہائیکورٹ میں اپنے آپ کو کیا ڈیفنڈ کیا؟ ۔ سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیش ہوا تھا اور موقف واضح کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے سخت غصے میں کہا کہ وہی پیمرا کا بھی وکیل ہے جو نواز شریف کا وکیل ہے، یہ وکالت کی ایتھکس (اخلاقیات) ہیں ۔ وکیل نے کہا کہ بہت عرصے سے پیمرا کے کیس کر رہا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مفادات کا ٹکراو ہے، کانفلیکٹ آف انٹرسٹ ہے، کیوں نہ آپ کا لائسنس معطل کر دیا جائے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ پانامہ کیس میں آپ کس کے وکیل تھی؟ سلمان اکرم نے کہا کہ حسن اور حسین کی طرف سے پیش ہوا ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ پارٹی قائد والے کیس میں کس کی طرف سے پیش ہوئے تھے؟ سلمان اکرم نے کہا کہ ن لیگ کا وکیل تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیمرا کو بھی حکومت ہی کنٹرول کر رہی ہے ۔ وکیل نے کہا کہ مجھے خود پر اعتبار ہے، اپنی ساکھ اور پیشہ ورانہ دیانت ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتبار نہیں ۔ دیگر فریقوں کے ساتھ ہم آپ کو بھی نوٹس جاری کر دیتے ہیں ۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ میں جس موکل سے بریف لیتا ہوں دیانتداری سے اپنا کام کرتا ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹی وی پر کمنٹس کرتے ہیں، یہاں مقدمات میں پیش ہوتے ہیں، ہم آپ کو نوٹس کر دیتے ہیں ۔ سلمان اکرم نے کہا کہ میں مانتا ہوں، معافی مانگ لیتا ہوں، یہ کیس واپس کردیتا ہوں پیمرا کو ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پیش ہوتے رہے، بچوں کی حاضری لگاتے رہے، ہم ریکارڈ منگوا لیتے ہیں، خاموش رہیں، مجھے زیادہ مت بولنے دیں ۔

 

 

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہائی کورٹ نے کیا غلطی کی ہے؟ ۔ سلمان اکرم نے کہا کہ کوئی غلطی نہیں، فیصلے میں ایسے کوئی چیز نہیں ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ، تشریف رکھیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کسی پر کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا کریں گے؟ جواب دیا کہ میں حکومت کو تجویز دوں گا، اس کی تحقیقات کرائیں گے ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ لائن کراس کر دی گئی ہے، یہ توڑ مروڑ کر جعلی خبر کا کلاسیکل کیس ہے، ایف آئی اے کو کیوں نہ کہیں ۔ ان کو بلا کر آرڈر پڑھایا جائے، دو تین زبانوں میں ترجمہ کر کے سمجھایا جائے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نہ پیمرا نے اور نہ سرکار نے کوئی کوشش کی ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صرف تحقیقات ہی نہیں اس پر تادیبی کارروائی بھی ضروری ہے ۔ جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ  ایک اخبار یاٹی وی کی طرف سے غلطی ہوسکتی ہے، سب اخبارات میں غلط خبر شائع ہوئی ۔

 

 

 

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ عدلیہ پر حملے کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدلیہ کے ادارے پر حملہ ہے، ایک حملہ عدلیہ پر پہلے ہوا، اب ایک اور حملہ عدالت پر ہوگیا ۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے کل بھی آپ کو فون پر کہہ دیا تھا، ہمیں ریاست کی طرف سے کسی سیکیورٹی یا تحفظ کی ضرورت نہیں، قوم ہمارا تحفظ کرے گی، ہٹا دیں سارے گارڈز، روز گالیاں نکالتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ قصور میں جو کل ہوا، گالیاں دی گئیں، خواتین نے عدلیہ کو ہائے ہائے کہا، سپریم کورٹ کے دروازے پر آ کر گالیاں دی گئیں، میں تین دن سے ان واقعات کا پتہ کرا رہا ہوں، کوئی نہیں بتا رہا، یہ بیبیاں کون تھیں، ان کو کون سپریم کورٹ لے کر آیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے زیادہ بے تعظیمی کیا ہو سکتی ہے؟ ۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے حکم لکھوایا کہ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ ہائیکورٹ نواز شریف اور مریم نواز کو آف ائیر کرنے کا حکم دیا ہے، یہ تاثر دیا گیا کہ اظہار رائے کے بنیادی حق کو سلب کیا گیا، ہائیکورٹ کا حکمنامہ منگوایا ہے، ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں آرٹیکل 19 کے تحت عدلیہ کے خلاف تقاریر روکنے کا حکم دیا، عدالت نے پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں کونمٹانے کا حکم دیا، عدالتی حکم میں نواز شریف اور مریم نواز تقاریر پر پابندی کا آرڈر نہیں دیا گیا، اخبارات میں شائع خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں، پیمرا اور اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ عدالت نے دونوں کی تقاریر پر پابندی نہیں لگائی، نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا ۔

اٹارنی جنرل نے عدالتی آرڈر کے دوران کہا کہ ان کے وکیل کو پیش ہونے کے لیے وقت درکار ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آ جائیں دونوں یہاں ۔ جتنی بڑی تقریر کرنی ہے کریں ۔ ہماری عدالتیں بنیادی حقوق کو کم نہیں کریں گی ۔ چیف جسٹس نے نشست سے اٹھتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بول کر عدلیہ کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہے، حد ہو گئی ۔

سلمان اکرم راجا نے اپنی نشست سے اٹھ کر معذرت کرتے ہوئے وکالت نامہ واپس لینے کا کہا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں پتہ ہے بہت بڑے وکیل ہو گئے ہیں، جو کرنا ہے کریں ۔

اس طرح عدالت نے ازخود نوٹس نمٹا دیا اور کسی کے کارروائی کا کوئی حکم نہ دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے