نوازشریف ریفرنس کی سماعت کا احوال

احتساب عدالت سے
اویس یوسف زئی

ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب استغاثہ کے نئے گواہ ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ نے باہمی قانونی معاونت کے تحت یوکے سنٹرل اتھارٹی کو لکھے گئے خط کے ریسپانس میں ملنے والی دستاویزات احتساب عدالت میں پیش کیں۔ دستاویزات میں لندن فلیٹس کے ملکیتی ثبوت کی ٹائٹل رجسٹری کی آفیشل کاپیاں ، پانی کے بل اورکونسل ٹیکس کی تفصیلات شامل ہیں۔گواہ نے بتایا کہ برطانیہ کی سنٹرل اتھارٹی سے لندن فلیٹس کے اصل اور بینیفشل مالک کا پوچھا تو جواب میں ملنے والی دستاویزات میں نواز شریف، مریم نواز ، حسن نواز یاحسین نواز کا نام شامل نہیں تھا ۔ یہ بھی درست ہے کہ دستاویزات بھیجنے اور وصول کرنے والوں کے نام بلیک آوٹ ہیں۔
گواہ نے دستاویزات پیش کرنے کے بعد اپنا بیان قلمبند کرایا اور سب سے پہلے عدالت سے سچ بولنے اور سچ کے سوا کچھ نہ بولنے کا حلف اٹھایا ۔ ظاہر شاہ نے بتایا کہ میں نیب ہیڈ کوارٹر میں بطور ڈی جی آپریشنز کام کر رہا ہوں اور بین الاقوامی تعاون کے امور کی نگرانی کرتا ہوں۔ لندن فلیٹس ریفرنس میں نئی یو کے ہائی کمیشن کے نمائندے عثمان احمد کے ذریعے نئی دستاویزات موصول ہوئی ہیں جس میں لندن فلیٹس کی ٹائٹل رجسٹری کی آفیشل کاپیاں ، پانی کے بل اورکونسل ٹیکس کی تفصیلات ہیں۔ تمام دستاویزات کو بطور شواہد عدالتی ریکارڈ پر لایا گیا ۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی ۔ سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے خواجہ حارث نے پوچھا کہ یہ دستاویزات ملنے کے بعد کیا آپ خود تفتیشی افسر کے پاس گئے تھے؟ گواہ نے جواب دیا کہ میں تفتیشی افسر کے پاس نہیں گیا بلکہ اسے فون کر کے اپنے پاس بلایا تھا۔ دیگر سوالات کے جواب میں ظاہر شاہ نے بتایا کہ تفتیشی افسر نے کوئی سیزر میمو تیار نہیں کیا، نہ ہی میرا بیان ریکارڈ کیا۔ دستاویزات وصول کرنے پر تفتیشی افسر نے ایک فہرست مرتب کی مگر اس کے دستخط نہیں کرائے۔ اوریجنل دستاویزات میرے پاس تھیں، تفتیشی افسر کو دستاویزات کی نقول فراہم کی تھیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کے اسلام آباد میں نمائندے عثمان احمد 27 مارچ 2017 کو دستاویزات حوالے کیں تو اسی روز تفتیشی افسر کو بلایاتاہم وہ اگلے روز آیا اور دستاویزات وصول کیں۔ تفتیشی افسر نے مجھ سے دستاویزات لے جانے کے بعد مجھے شامل تفتیش نہیں کیا۔ ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ یو کے سینٹرل اتھارٹی سے معلومات مل گئی تھیں کہ دستاویزات بھجوا دی گئی ہیں۔ یہ اطلاع پہلے بذریعہ فون دی گئی بعد میں اس حوالے سے ای میل بھی موصول ہوئی۔ یہ دستاویزات ممکنہ طور پر کوریئر یا ڈپلومیٹک بیگ کے ذریعے پہنچی ہوں گی۔ یو کے سینٹرل اتھارٹی کو 27 مئی 2017 کو باہمی قانونی معاونت کے تحت خط لکھا گیا بعد میں صرف یاددہانی کے خطوط بھجوائے گئے۔ ایم ایل اے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ٹین میں موجود تھا ۔ جے آئی ٹی کا والیم ٹین سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کے ایک ماہ کے اندر باقاعدہ درخواست دے کر سپریم کورٹ سے حاصل کیا جس کے منتخب حصے فوٹو کاپی کرا کے تفتیشی افسران کے حوالے کیے۔ خواجہ حارث کے اس سوال پر کہ کیا سپریم کورٹ نے والیم ٹین دیتے وقت استعمال پر کوئی قدغن تو نہیں لگائی؟ گواہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کوئی تحریری ہدایات جاری نہیں کیں تاہم کہا کہ میں اور تفتیشی افسران ضروری مقصد کے لیے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈی جی آپریشنز نیب ظاہر شاہ نے بتایا کہ ایم ایل اے کے ذریعے لندن فلیٹس کے بینیفشل اونر، اصل مالکان کے نام، ایڈریس اور رابطہ نمبر مانگے گئےتھے۔ خواجہ حارث نے کہا آپ نے ایم ایل اے میں جو چیزیں مانگیں کیا ریسپانس میں وہ باتیں بتائی گئیں؟گواہ کا جواب آنے سے پہلے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل بولے کہ گواہ سے یہ سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ سوال کو نئے انداز سے پوچھا گیا کہ کیا رسپانس میں مِلنے والی دستاویزات میں لندن فلیٹس کے مالکان کے نام بتائے گئے؟ گواہ نے کہا میں نے اتنی تفصیل سے ڈاکومنٹس نہیں پڑھے۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ جواب آنے پر آپ نے چیک ہی نہیں کیا کہ کیا بات پوچھی گئی تھی اور کیا اس کا جواب ملا بھی یا نہیں؟ نیب کے سردار مظفر عباسی نے پھر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ گواہ سے دستاویزات کے متن کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا ۔ سردار مظفر عباسی کے بار بار اعتراض سے خواجہ حارث غصے میں آ گئے اور قلم روسٹرم پر رکھتے ہوئے جرح روک کر پراسیکیوشن ٹیم کے سربراہ سے مخاطب ہوئے کہ آپ زیادتی کر رہے ہیں، فیئر ٹرائل اور انصاف کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ سردار مظفر عباسی نے کہا آپ میڈیا پر خبر چلوانے کے لیے ایسا کہہ رہے ہیں ۔ اگر ایسی بات ہے تو آپ بھی قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔خواجہ حارث نے کہا آپ مسلسل گواہ کے منہ میں اپنے جواب ڈال رہے ہیں ۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ سماعت کی ریکارڈنگ ہونی چاہیے۔ ایک موقع پر سماعت کے دوران نیب کے افسر کی طرف سے گواہ کے ساتھ گفت گو پر خواجہ حارث نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا یہ کیا احمقانہ بات ہے۔ جس کے بعد جج نے نیب کے افسر کو گواہ کےساتھ بات کرنے سے روک دیا۔ ایک موقع پر سوال کے جواب میں جب گواہ نے کہا کہ میں نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا تھا کہ والیم ٹین کے سوا کوئی ایم ایل اے نہیں بھیجا۔ جس پر خواجہ حارث نے تالی بجاتے ہوئے کہا واہ واہ کیا نئی بڑی بات لکھی ہے۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے کہا وکیل صفائی تالیاں بجارہے ہیں کیا کوئی قوالی ہورہی ہے۔ یہ عدالت ہے یہاں کسی کو ہراساں یا تمسخر نہیں اڑایا جاسکتا۔

جرح کے اختتام پر گواہ ظاہر شاہ نے بتایا کہ میں نے جو دستاویزات یہاں پیش کیں ان کو صرف ایک نظر دیکھا۔ ان دستاویزات میں حسن، حسین اور مریم نواز کا نام نظر نہیں آیا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ کی پیش کردہ دستاویزات میں نواز شریف کا نام بھی نہیں؟گواہ نے تصدیق کی کہ آج یہاں پیش کردہ دستاویزات میں نواز شریف نام بھی نہیں دیکھا۔ خواجہ حارث نے پھر سوال کیا کہ کیا یہ بات درست ہے یوکے سے جو رسپانس آیا اس پربھیجنے اور وصول کرنے والوں کے نام بلیک آوٹ ہیں۔ گواہ نے کہا یہ بات درست ہے۔ خواجہ حارث نے پھر پوچھا کہ کیا آپ کو علم تھا کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے معلومات لی گئیں؟ گواہ نے کہا یہ میرے علم میں نہیں کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے یہ معلومات لی گئیں۔ خواجہ حارث نے جرح مکمل کر لی۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکیل امجد پرویز نیب کے گواہ پر منگل کو جرح کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button