منظورپشتین، ریاست اور شہری

احسان حقانی

ریاست اور اس کے شہری دراصل ایک عمرانی معاہدہ کے دو فریق ہوتے ہیں۔ اس معاہدہ کو عرف عام میں آئین یا دستور کہا جاتاہے۔ دستور کے مطابق شہری اور ریاست دونوں کے حقوق اور فرائض متعین  اور معلوم ہیں۔شہری کا فرض ہے کہ وہ ٹیکس اور دیگر واجبات اداکرے۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ سڑک، سکول، ہسپتال، پانی، بجلی اور دیگر سہولیات فراہم کرے۔شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کا احترام کرے۔ ریاست کا فرض ہے کہ شہری کی جان ومال اور آبرو کی حفاظت کرے۔اب شہری اگر اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب ہو، تو ریاست کے پاس شہری کو سبق سکھانے کے ہزار راستے ہیں۔ لیکن ریاست جب اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو شہری کے پاس موجود تقریباً تمام راستوں کو معاہدہ عمرانی کے دوسرے فریق یعنی ریاست نے مسدود کردیاہے۔ یاد رہے کہ میں وطن عزیز پاکستان کی بات کر رہاہوں۔ باقی دنیا میں ایسا نہیں۔

حال ہی میں ایک پرانی خبر نظر سے گزری۔ جنرل مشرف کے دور میں کراچی میں بجلی چوری روکنے کے لئے ‘کے الیکٹرک’ کی ذمہ داری ایک جرمن انجینئر  کو سونپی گئی۔ اس نے جب سروے کیا تو معلوم ہوا کہ پچاس فیصد بجلی حکومتی ادارے چوری کرتے ہیں یا بل ادا نہیں کرتے۔ چالیس فیصد بجلی طاقتور صنعت کار چوری کرتے ہیں اور صرف دس فیصد بجلی عام لوگ چوری کرتے ہیں۔ریاست نے فیصلہ کیا کہ دس فیصد عام لوگوں کے بجلی کے کنکشن کاٹ دئیے جائیں۔جرمن انجینئر کا کہنا تھا کہ بڑے چوروں پر ہاتھ ڈال دیں تو دس فیصد عام لوگوں کو مفت بجلی بھی دی جا سکتی ہے۔لیکن ریاست راضی نہیں ہوئی۔

ایک ڈاکٹر جب اپنے فرائض میں غفلت کرتاہے تو ہم (شہری) اس سے لڑ پڑتے ہیں۔ سکول ٹیچر کی پٹائی سے بھی ہمیں حیا نہیں آتی۔مطلب یہ کہ جب ایک غیرمسلح اور سول ادارے کا فرد کچھ غلط کرے تو ہم اس کے پیچھے پڑ جاتےہیں لیکن ریاستی ادارے جب بطور ادارہ ہمارے خون پسینے کی کمائی چوستے ہیں تو ایک شہری کی حیثیت سے ہم بے یارومددگار ہوتے ہیں۔ مثلاً واپڈا بل پورا لے اور بجلی کم دے۔سوئی گیس والے یہی کریں۔ پولیس والے ہمیں پکڑیں، بے عزت کریں تو ہم چوں تک نہیں کرپاتے۔ریاستی اداروں کے مقابلے میں معاہدہ عمرانی کا دوسرا فریق یعنی شہری مکمل طور پر بے بس ہے۔اس کی بے بسی کا اصل سبب یہی ہے کہ نہ اسے تعلیم دی گئی ہے، نہ جمہوریت، نہ انصاف کا کوئی نظام۔ ایسی بدانتظامی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بطور ادارہ اپنے فرائض سے مجرمانہ حد تک غافل ہے۔

ایسی صورت حال میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھے گئے علاقے فاٹاسے ایک نوجوان اٹھتاہے۔کہتاہے کہ معاہدہ عمرانی (آئین ) میں میرے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں، اُن پر عمل کیا جائے۔ عدالتوں کے ہوتے ہوئے تحفظ کے اداروں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شہریوں کو اٹھائے، لاپتہ کرے اور قتل کرے۔ چادر اور چاردیواری کے تحفظ کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ آپ کون ہیں بغیراجازت اور قانونی طریقہ کار پورا کئے، کسی گھر کی دیوار پلانگنے والے؟اگر لاپتہ افراد کو آپ نے لاپتہ نہیں کیا، تو ان کا پتہ کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ہم نے آپ کا ہر ناز اور نخرہ اٹھایا۔ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھایا اس کے باوجود ہمارے ملک میں امن کیوں نہیں؟ آئین توڑنے والے تودھندناتے پھر رہے ہیں لیکن آئین پر عمل کی بات کرنے والے کو غدار کہا جارہاہے۔اس طرح یہ ملک کیسے چل سکتاہے؟

میں (راقم) ایک محب وطن پاکستانی ہوں۔ پاکستان سے میری محبت غیرمشروط ہے۔ لازوال ہے۔لیکن جب میں اسی محبت کے تقاضے سے مغلوب ہو کر ریاست کو اس کافرض یاد دلاوں اور بجائے مجھے سننے کے، مجھ پر غداری کا الزام لگایا جائے، تو اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی نہیں ہوسکتی۔ اس ریاست کی نااہلی کی وجہ سے میرے لاکھوں لوگوں نے اپنے ملک کے ہوتے ہوئے بے گھری کا عذاب دیکھا۔ نقیب محسود جیسے کتنے شہزادوں کو خون میں نہلایا گیا۔ میں پاک فوج پر صبح وشام درود وسلام بھیجتا ہوں لیکن میں ہزار صفحات کالے کرکے بھی اس احساس کی وضاحت نہیں کرسکتا جس سے فوج کے ساتھ واسطہ پڑنے کے بعد لاکھوں شہری گزرے ہیں۔اس لئے اگر فوج نے آپ اور آپ کے گھر کی تلاشی نہیں لی۔ آپ یا آپ کے رشتہ دار کو حراست میں نہیں رکھا، تو مہربانی کرکے مجھے کچھ سمجھانے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ خود کچھ سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

ہم تو تیسرے درجے کے شہری ہیں۔ کیونکہ ہم  ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد قربان کرنے والے لوگ ہیں۔ہم تو واپڈا، محکمہ تعلیم، پٹوار اور کلرک سے اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ۔قبائل اور پختونخوا کے دیگر علاقوں میں افواج پاکستان اگر اپنے عظیم فریضہ کی ادائیگی میں بے احتیاطی کریں، تو یہ زندگی اور موت ، عزت اور بے عزتی کا مسئلہ بنتا ہے ، اس لئے منظور پشتین کی آواز پر ہزاروں لوگوں نے لبیک کہا ہے۔ آپ کو یہ آواز سننی پڑے گی۔منظور پشتین آئین پاکستان کے مطابق شہریوں کے جان، مال اور عزت کا تحفظ مانگ رہاہے۔اس نے لاپتہ شہریوں کی طرف سے ریاست کو اس کا فرض یاد دلایاہے۔اگر ریاست منظور پشتین کو پاس نہیں بٹھاتی اور اس کے جائز مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھاتی، تو ریاست کے دشمن اس کی ہر ممکن مدد کے لئے بے چین ہیں۔اپنے بچے کو اپنائیے، اس کے آنسوں پونچھیں، پہلے اس سے کہ وہ آوارہ ہوکر دشمن کے ساتھ مل جائے ۔

تحریر ختم کرنے سے پہلے یہ خوشگوار اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ پشتین کی تحریک سے فوج کے روئیے میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔ کور کمانڈر پشاور لفٹینٹ جنرل نذیر احمد بٹ کا یہ بیان زخم پر مرہم کی بہترین ابتدا ہے کہ منظور پشتین اپنا بچہ ہے، اس کے تمام مطالبات سنیں گے ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی نقیب محسود کے گھر جانا بھی ایک مستحسن اقدام ہے۔ لیکن اصل مسئلہ کے مقابلے میں یہ اقدامات نمائشی ہیں۔ اصل مسئلہ آئین پاکستان کا تقدس اور احترام ہے ۔

متعلقہ مضامین