عدالت میں امریکی بچے کا مقدمہ

 خالدہ شاہین رانا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کینیڈین نژاد پاکستانی والدین کی امریکن نژاد پاکستانی نابالغ بچے کی تحویل سے متعلق ایک منفرد مقدمے کی سماعت کے دوران حتمی فیصلہ ہونے تک بچے کو پاکستان کی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی ہے_

فاضل چیف جسٹس ثاقب نثار نے بچے کے والد کے وکیل فیصل نقوی کی جانب سے بھارتی عدالتوں کی مثالیں پیش کرنے اور تیاری کے بغیر ہی عدالت میں آ جانے پر ان کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا قانون اسلامی اصولوں پر بنا یا گیا ہے، غیر ملکی قوانین اور پاکستان کی قوانین میں مماثلت نہیں ہی، بچوں کی حوالگی کے کیسز میں شرعی قانون بھی دیکھنا ہوتا ہے، اس لئے غیر ملکی قوانین اور انڈین عدالتوں کے فیصلے پیش نہ کئے جائیں ، پاکستان میں بھی ماشاللہ بہت اچھے اچھے سکول ہیں، اسے یہیں پر داخل کروائیں ، بچہ ماں کی جائیداد نہیں بن گیا ہے ،جہاں ماں باپ بچے کی بہبود اور تحفظ دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہاں پر عدالتیں بچے کی ماں باپ ہوتی ہیں،

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تینی رکنی بنچ نے جمعہ کے روز امریکن نیشنلیٹی ہولڈر 9سالہ حسن گیلانی کی تحویل سے متعلق اس کے طلاق یافتہ والدین (سید ہاشم گیلانی، شہر آزاد جمالی ) کے مابین چلنے والے مقدمہ کی سماعت کی تو بچے کے والد سید ہاشم گیلانی کی جانب سے فیصل نقوی ایڈوکیٹ جبکہ والدہ کی جانب سے بیرسٹر قمر اسلام عباس پیش ہوئے ، فیصل نقوی نے موقف اختیار کیا کہ انکے موکل اور ان کی سابق اہلیہ شہر آزاد جمالی کینڈا کی شہریت کا حامل ہیں ، جن کی کراچی میں شادی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے بیٹے حسن گیلانی کو امریکہ میں پیدا کیا ،جس کے بعد یہ دونوں کویت میں رہائش پزیر تھے کہ شہر آزاد جمالی اپنے خاوند کی غیر موجود گی میں ہی اسے اطلاع دیئے بغیر ہی بچے کو لے کر کراچی آگئیں اور خاوند کو طلاق کا نوٹس بھجوا دیا(نکاح نامہ کے مطابق اس نے طلاق کا حق لے رکھا تھا ) ،بچے کے والد کی درخواست پر سول عدالت نے بچے کو کراچی میں ہی رکھنے کا حکم جاری کیا_

دوران سماعت فاضل وکیل نے اپنے مقدمہ کے حق میں کلکتہ اور انڈیا کی عدالتوں کے حوالے پیش کئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ بھارتی عدالتوں کے فیصلے میرے سامنے نہ لایا کریں ، پاکستان کے اپنے قانون میں بھی بہت سی عدالتی نظائیر موجود ہیں، آپ کو وکالت کے طریقہ کار کا ہی معلوم نہیں ہے ،جبکہ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصل نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی مقدمہ کی فائلوں میں کاغذات بھی نامکمل اور پھٹے ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کارپوریٹ وکیل، سینئر وکلا میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ عدالت میں ڈانٹ پڑتی ہے، مخدوم علی خان کارپوریٹ وکلاء کے لیڈر بنے ہوئے ہیں، سب وکیل ایک ساتھ بیٹھ کر عدالت کی برائی کرتے ہیں، کارپوریٹ وکلاء کا فیملی مقدمات سے کیا تعلق؟ باہر جاکر بڑے وکیلوں کو کہتے ہیں کہ عدالت میں بڑی ڈانٹ پڑتی ہے ، مخدوم کے پاس جاکر پہلے وکالت کا طریقہ سیکھیں، لاکھوں روپے فیس لیکر آجاتے ہیں اور جب ریلیف نہیں ملتا تو باہر جاکر باتیں بناتے ہیں، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کی حوالگی کے کیسز میں شرعی قوانین کو بھی دیکھنا ہوتا ہے،

فاضل وکیل نے برطانوی قوانین کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ برطانوی قوانین کے حوالے دے رہے ہیں ،پاکستان کا قانون بھی خاصا میچور ہوچکا ہے ، غیر ملکی قوانین اور انڈین عدالتوں کے فیصلے یہاں پیش نہ کیا کریں ،جس پر انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف پاکستانی عدالتوں کی فیصلوں کی نظائر پیش کریں گے، فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کا قانون اسلامی اصولوں پر بنا یا گیاہے،غیر ملکی قوانین اور پاکستانی قوانین میں کوئی مماثلت نہیں ہے، اس بات کا تعین عدالت نے کرنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ یورپین قانون کے مطابق ہوگا ،شرعی قانون کے مطابق ہوگا یا پاکستان کے قوانین کے مطابق ہوگا ، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ یہ ایک یونیورسل اشو ہے،بچے کو ماں باپ دونوں ہی کا پیار ملنا چاہیے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ آج تیاری کرکے نہیں آئے ہیں_

بیرسٹر قمر اسلام عباس نے موقف اختیار کیا کہ بچے کے والدہ کینیڈین نیشنیلٹی ہولڈر پاکستانی ہیں ،اور فیملی کورٹ کی جانب سے بچے کو پاکستان میں ہی رکھنے سے متعلق حکم کی وجہ سے اس کی والدہ پابند ہوکر رہ گئی ہیں ، جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی بچے کو اس عدالت کے دائرہ کار سے باہر نہیں جانے دیں گے ،باپ کا بھی بچے پر حق ہے ، وہ بھی عدالت کی جانب سے ملاقات کے لئے طے کئے گئے شیڈیول کے مطابق بچے سے ملنے کا حق رکھتا ہے ، آپ عدالت کے فیصلے پر عمل کریں ،پاکستان میں بھی ماشاللہ بہت اچھے اچھے سکول ہیں ،اسے یہیں پر داخل کروائیں ، بچہ ماں کی جائیداد نہیں بن گیا ہے ،جہاں ماں باپ بچے کی بہبود اور تحفظ دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں وہاں پر عدالتیں بچے کی ماں باپ ہوتی ہیں،بعد ازاں فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے